1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کینیڈا کے وزیراعظم امریکا کے ایک مشکل دورے پر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو سے پیر کے روز وائٹ ہاؤس میں ملاقات کر رہے ہیں، جس میں ایک طرف دونوں ممالک کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے اور دوسری جانب تارکین وطن کا معاملہ زیربحث آئے گا۔

امریکا اور کینیڈا کے رہنماؤں کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے اور امیگریشن کے معاملات پر اختلافی نقطہء نظر پایا جاتا ہے اور ٹروڈو کی کوشش ہو گی کہ اس بابت کسی حد تک اتفاق رائے پیدا کیا جائے۔

20 جنوری کو ٹرمپ کے امریکی صدارت کا منصب سنبھالنے کے بعد ٹروڈو وہ تیسرے سربراہِ حکومت ہیں، جو امریکا کا دورہ کر رہے ہیں۔ اس سے قبل برطانوی وزیراعظم ٹیریزا مے اور جاپانی وزیراعظم شینزو آبے امریکا کا دورہ کر چکے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ اور جسٹن ٹروڈو کے درمیان صبح اور پھر ظہرانے پر ملاقات ہو گی، جب کہ امریکی وقت کے مطابق دو بجے سہ پہر دونوں رہنما ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے بھی خطاب کریں گے۔

45 سالہ کینیڈین وزیراعظم ٹروڈو کا کہنا ہے کہ وہ ’کھلے دل اور احترام‘ کے ساتھ امریکی صدر پر اپنی پوزیشن واضح کریں گے۔ امریکا روانگی سے قبل جمعے کے روز کینیڈا کے شمال مغربی خطے کے مرکزی شہر یلونائف میں ٹروڈو نے کہا، ’’کینیڈا ہمیشہ اپنی اقدار کے ساتھ جڑا رہے گا کیوں کہ یہی ہمیں ایک غیرمعمولی ملک بناتی ہیں۔ کینیڈا اپنے دروازے کھلے رکھے گا۔‘‘

Mexiko Protest gegen Trump (Getty Images/AFP/R. Schemidt)

ٹرمپ کے خلاف امریکی میں بھی مظاہرے دیکھے گئے

کینیڈا اور امریکا کے درمیان مضبوط اقتصادی روابط ہیں، جب کہ یہ دونوں ملک دنیا کی طویل ترین سرحد کے بھی حامل ہیں۔ کینیڈا کی برآمدات کا تین چوتھائی امریکا جاتا ہے، جب کہ 30 امریکی ریاستوں سے برآمدکی جانے والے مصنوعات کی منزل کینیڈا ہوتی ہے۔

ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ وہ شمالی امریکی آزاد تجارتی معاہدے (کینیڈا، میکسیکو اور امریکا کے درمیان موجود آزاد تجارت کے معاہدے NAFTA) کا خاتمہ کر دیں گے مگر اس معاہدے کے خاتمے کے مذاکرات آسان نہیں ہوں گے۔

ٹروڈو اس معاہدے کے مضبوط حامی ہیں اور زور دیتے آئے ہیں کہ یہ معاہدہ ہر حال میں رہنا چاہیے۔

جمعے کے روز اپنے بیان میں ٹروڈو کا کہنا تھا، ’’حقیقت یہ ہے کہ سرحد کے دونوں طرف اس معاہدے کی وجہ سے لاکھوں افراد کو ملازمتیں حاصل ہیں کیوں کہ یہی معاہدہ اطراف میں اشیاء اور خدمات کی بلاروک ٹوک فراہمی کو یقینی بناتا ہے۔‘‘

دونوں رہنماؤں کے درمیان امیگریشن کے موضوع پر بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔ ٹرمپ نے عہدہٴ صدارت سنبھالنے کے بعد سات مسلم ممالک کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی عائد کر دی تھی۔ عدالت کی جانب سے ان پابندیوں کو معطل کر دیے جانے کے باوجود یہ کہا جا رہا ہے کہ صدر ٹرمپ اس سلسلے میں ایک نیا صدارتی حکم نامہ جاری کر سکتے ہیں۔