1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کینیڈا میں جگمیت سنگھ کی دھوم

کینیڈا میں جگمیت سنگھ نامی وکیل کو  ایک مرکزی سیاسی جماعت کا سربراہ منتخب کر لیا گیا ہے۔ یوں جگمیت سنگھ کینیڈا میں کسی مرکزی سیاسی جماعت کے ایسے پہلے سربراہ بن گئے ہیں جو کہ سفید فام نہ ہوں۔

38 سالہ جگمیت سنگھ ایک وکیل ہیں اور شوخ رنگوں اور اعلیٰ معیار کے تھری پیس سوٹس کی وجہ سے سوشل میڈیا اسٹار بھی ہیں۔ سنگھ کو کینیڈا کی ایک مرکزی سیاسی جماعت ’نیو ڈیموکریٹک پارٹی‘ نے اپنا نیا سربراہ منتخب کر لیا ہے۔ اب سنگھ سن 2019 کے وفاقی انتخابات میں کینیڈا کے موجودہ وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کی سیاسی جماعت کے خلاف کھڑے ہوں گے۔

کینیڈا میں ایک بڑی سیاسی جماعت کی جانب سے ایک ایسے شخص کو اپنا لیڈر منتخب کرنا جو کہ سفید فام نہیں ہے ایک اہم پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔ کینیڈا کے وزیر اعظم نے بھی ایک ٹوئیٹ کے ذریعے سنگھ کو مبارک باد دی اور کہا کہ وہ جلد ان کے ساتھ مل کر کینیڈا کے عوام کے لیے کام کریں گے۔

گزشتہ ماہ جگمیت سنگھ  کی ایک ویڈیو  سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔ اس ویڈیو میں  سنگھ ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے کہ وہاں موجود ایک خاتون نے ان پر ملک میں شریعہ قانون نافذ کرنے کا الزام عائد کر دیا۔ سنگھ نے اس خاتون کو نہ جھڑکا اور نہ ہی اسے یہ کہا کہ وہ مسلمان نہیں بلکہ سکھ ہیں۔ اس ویڈیو نے کینیڈا کے بہت سے شہریوں کو متاثر کیا۔ سنگھ نے بعد میں ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے اس عورت کو اس لیے یہ نہیں بتایا کہ وہ مسلمان نہیں ہیں کیوں کہ وہ یہ تاثر نہیں دینا چاہتے تھے کہ کسی مسلمان کو یوں تعصب کا شکار بنانا ٹھیک ہے۔

یونیورسٹی آف ٹورونٹو کے پروفیسر کرسٹوفر کوکھرن نے روئٹرز کو سنگھ کے حوالے سے بتایا،’’ سنگھ نوجوان لوگوں اور اقلیتوں کے لیے ایک متاثر کن شخصیت ہیں اور یہ سن 2019 کے انتخابات میں ٹروڈو کے لیے مشکلات کھڑی کر سکتے ہیں۔‘‘