1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

کینیڈا: مہاجرین آنے زیادہ تھے، آئے کم

کینیڈا کی حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ شامی تنازعے کے شکار چھ ہزار مہاجرین کو خوش آمدید کہا جا چکا ہے، تاہم سن 2015ء کے لیے یہ ہدف دس ہزار کا مقرر کیا گیا تھا، جسے حاصل کرنے میں کینیڈا ناکام رہا۔

جمعرات کے روز نئے سال کے موقع پر جاری کردہ حکومت بیان میں اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ دس ہزار شامی مہاجرین کو وطن لانے کا ہدف جنوری کے وسط تک پورا کر لیا جائے گا۔

کینیڈا کے نئے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے اعلان کیا تھا کہ 31 دسمبر تک 25 ہزار شامی مہاجرین کو کینیڈا لایا جائے گا، تاہم ان کی لبرل حکومت نے اس کے لیے اس ہدف کی تاریخ کو اختتام دسمبر کی بجائے اختتام فروری تک بڑھا دیا تھا۔ حکومت کو مہاجرین قبول کرنے سے قبل ان کی سکیورٹی جانچ کی بابت شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ مہاجرین کو کینیڈا لانے میں جلدی کی وجہ سے ان کی مکمل سکیورٹی چھان بین ممکن نہیں ہو گی۔ پیرس حملوں کے تناظر میں بھی کینیڈا کی حکومت پر مہاجرین کے حوالے سے پالیسی پر تنقید میں اضافہ ہوا تھا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق نومبر میں حکومت نے مہاجرین کو قبول کرنے سے متعلق اپنا حتمی ہدف مقرر کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ سن 2015ء کے اختتام تک دس ہزار شامی مہاجرین کو کینیڈا میں پناہ دی جائے گی، تاہم اب تک چھ ہزار سے کچھ ہی زیادہ افراد کینیڈا پہنچ پائے ہیں۔

EINSCHRÄNKUNG IM TEXT BEACHTEN! Dieses Bild soll nur als Artikelbild zum Kommentar des Chefredakteurs gebucht werden Türkei Bodrum Aylan Kurdi

ایک تین سالہ بچے کی ہلاکت نے مہاجرین کے حوالے سے دنیا کی سوچ کو بدل کر رکھ دیا تھا

کینیڈا کے وزیربرائے مہاجرت جان مک کیلم نے صحافیوں سے بات چیت میں کہا، ’’مجھے پورا یقین ہے کہ اگلے دو ہفتوں میں دس ہزار مہاجرین کینیڈا پہنچ جائیں گے، جب کہ فروری کے اختتام تک یہ تعداد 25 ہزار ہو جائے گی۔‘‘

انہوں نے بتایا کہ چھ ہزار شامی مہاجرین کی کینیڈا آمد کے ساتھ ساتھ مزید چار ہزار سات سو مہاجرین کو کینیڈا پہنچنے کے لیے سبز جھنڈی دکھا دی گئی ہے۔

دسمبر کے آغاز پر وزیراعظم ٹروڈو نے ایک فوجی ٹرانسپورٹ جہاز کے ذریعے کینیڈا پہنچنے والے مہاجرین کے پہلے گروپ کو خوش آمدید کہا تھا۔ ادھر بائیں بازو کی جماعتوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے ابتدا میں سال کے اختتام تک 25 ہزار مہاجرین کو کینیڈا میں پناہ دینے کا اعلان کیا تھا اور وہ اپنے اس وعدے میں ناکام رہی۔

سن 2015ء میں شامی مہاجرین کے حوالے سے کینیڈا، یورپ اور دنیا بھر میں ہم دردی کی لہر اس وقت دیکھی گئی، جب ایک شامی مہاجر بچے ایلان کردی کی بے جان لاش ترک ساحلوں سے ملی۔ یہ بچہ ترکی سے یونان جانے کی کوشش کرنے والے خاندان کے ہم راہ تھا، تاہم ڈوب کر ہلاک ہو گیا۔ ایلان کردی کے اہل خانہ بھی رواں ہفتے ہی کینیڈا پہنچے ہیں۔