1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

کینیڈا: ’سلامتی کے خدشات مسلمانوں کے ساتھ کشیدگی کا باعث‘

کینیڈا کے صوبے کیوبیک میں ہزاروں شامی مہاجرین کو قبول کرنے کے معاملے پر مقامی باشندوں اور مسلم برادری کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ صوبے میں مزید مسلمان بسانے سے شدت پسندی بڑھ سکتی ہے۔

کینیڈا کے اس صوبے میں فرانسیسی زبان بولی جاتی ہے اور کیوبیک میں بسنے والے شہریوں میں سے بہت سے افراد کی رائے یہ ہے کہ یورپی ممالک کی طرح اگر ان کے صوبے میں بھی مسلمانوں کی تعداد بڑھی، تو نتیجہ مسلم نوجوانوں میں شدت پسندانہ سوچ میں اضافے کی صورت میں برآمد ہو گا۔ فرانس کی طرح یہ کینیڈین صوبہ بھی اپنے سیکولر تشخص کو برقرار رکھنا چاہتا ہے، تاہم حالیہ کچھ برسوں میں اس صوبے میں مسلمانوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے، جن میں سے زیادہ تر کا تعلق شمالی افریقی ممالک سے ہے۔

پیرس میں گزشتہ جمعے کو ہونے والے خونریز حملوں اور دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ کی جانب سے اس کی ذمہ داری قبول کیے جانے کے بعد صوبے میں مسلم مہاجرین کو نہ بسانے کی آواز کو تقویت ملی ہے۔ اس حکومتی اقدام کے خلاف ایک درخواست پر کینیڈا بھر سے 75 ہزار سے زائد افراد نے دستخط کیے ہیں، جب کہ مونٹریال پولیس نے ایک شخص کو حراست میں لیا ہے، جس نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ ہر ہفتے ایک عرب کو قتل کیا جائے۔

Deutschland Flüchtlinge bei Wegscheid an der Grenze zu Österreich

مہاجرین کی ایک بڑی تعداد متعدد یورپی ممالک تک پہنچی ہے

کینیڈا کی حکومت کا منصوبہ ہے کہ رواں برس کے اختتام تک 25 ہزار شامی مہاجرین کو قبول کیا جائے، تاہم اس منصوبے کے خلاف متعدد صوبائی اور شہری رہنما آواز بلند کر رہے ہیں۔ ان افراد کا کہنا ہے کہ اتنے قلیل وقت میں ایسے مہاجرین کی کینیڈا منتقلی میں ضروری سکیورٹی جانچ پڑتال کا عمل ممکن نہیں ہو پائے گا۔ حکومتی منصوبہ ہے کہ ان 25 ہزار میں سے چھ ہزار مہاجرین کو کیوبیک میں بسایا جائے۔

کیوبیک کے رہائشی 55 سالہ ایلاں بیرنارڈ کا کہنا ہے، ’’میں اصولی طور پر مہاجرین کی مدد کے حق میں ہوں، مگر سلامتی کی ضروریات کو ترجیح حاصل ہونا چاہیے۔ ہمیں اس بات کی ضرورت بھی محسوس کرنا چاہیے کہ جو مہاجرین پہلے ہی کینیڈا پہنچ چکے ہیں، کیا انہیں ضروری مدد مل رہی ہے؟ مجھے نہیں لگتا کہ ہمیں مزید مہاجرین کو قبول کرنا چاہیے۔‘‘

تاہم اس صوبے میں بسنے والے دو لاکھ 43 ہزار مسلمان جو اس صوبے کی مجموعی آبادی کا تین فیصد بنتے ہیں، اس موقف کو کمزور سمجھتے ہیں۔

کیوبیک کے رہائشی اور آذربائیجان سے تعلق رکھنے والے 39 سالہ مسلمان صابر علی زادہ کا کہنا ہے، ’’یہاں کے لوگوں کو ہم سے خوف ہے۔ ایک دور میں جیسا خوف مغربی ممالک میں کمیونزم سے تھا، اب ویسا ہی اسلام سے ہے۔‘‘

فرانس مسلمانوں کی تعداد کے اعتبار سے تمام مغربی اقوام سے آگے ہیں اور حالیہ کچھ برسوں میں قریب اسی موضوع پر وہاں مسلم برادری اور دیگر شہریوں کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے۔

کیوبیک میں بسنے والے مسلمانوں میں بے روزگاری کی شرح 17 فیصد ہے جو وہاں رہنے والے دیگر افراد کے مقابلے میں قریب دگنی ہے۔ وفاقی اعداد وشمار کے مطابق صوبے میں بسنے والی مسلم آبادی دیگر افراد کے مقابلے میں غربت کا شکار ہے۔

شدت پسندی کے انسداد کے لیے مونٹریال میں بنائے گیے ایک مرکز کی ترجمان مریم ربانی گوسیلن کے مطابق، ’’اگر آپ پیرس جیسے واقعات سے بچنا چاہتے ہیں، تو آپ کو تمام برادریوں سے مساوی معاشرتی رویہ برتنا ہو گا، تاکہ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد آپس میں گھل مل سکیں۔‘‘

یہ بات اہم ہے کہ گزشتہ برس کیوبیک ہی میں ایک مسلم شدت پسند نے اپنی گاڑی کی ٹکر سے ایک فوجی کو ہلاک کر دیا تھا، جب کہ اس کے کچھ ہی روز بعد اسی صوبے سے تعلق رکھنے والے ایک نومسلم نے ملکی دارالحکومت اوٹاوا میں پارلیمان پر حملہ کیا تھا، جس میں ایک اور فوجی مارا گیا تھا۔