1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کینیا کے ’ریٹرن ٹو اسکول‘ پروگرام سے کئی لڑکیاں مستفید

کینیا میں پرائمری اسکول شروع کرنے والے ہر 10 طلبہ میں سے 6 سیکنڈری تعلیم مکمل نہیں کر پاتے۔ اسکول چھوڑنے والے طلبہ میں لڑکیوں کی تعداد لڑکوں کی نسبت کئی گنا زیادہ ہے۔

کینیا میں ایک دہائی قبل سے پرائمری کی مفت تعلیم کے باوجود بہت سے طلبہ اسکول کی تعلیم مکمل نہیں کر پاتے کیوں کہ ان کے خاندان یونیفارم، کتابیں اور داخلہ فیس جیسے اخراجات نہیں اٹھا پاتے۔ سرکاری اعدادو شمار کے مطابق پرائمری اسکول شروع کرنے والے ہر 10 طلبہ میں سے 6 سیکنڈری تعلیم مکمل نہیں کر پاتے۔ اسکول چھوڑنے والے طلبہ میں لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہے کیونکہ معاشرتی طور پر لڑکوں کے تعلیم یافتہ ہونے کو لڑکیوں کی تعلیم پر ترجیح دی جاتی ہے۔

اس حوالے سے کی جانے والی ایک تحقیق نے یہ ثابت کیا ہے کہ جو لڑکیاں سیکنڈری اسکول کی تعلیم مکمل کر لیتی ہیں ان میں غیر ارادی طور پر حاملہ ہو جانے کا تناسب کم ہوتا ہے، ان کے بچے صحت مند ہوتے ہیں اور وہ زیادہ پیسے کماتی ہیں۔

گیتھونی ایک ایسی ہی نوجوان خاتون ہیں جس کے غریب والدین اس کی تعلیم کے اخراجات اٹھا نہیں سکتے تھے۔ غربت اور بوریت اسے غلط فیصلوں کی طرف لے گئی اور وہ 19 سال کی عمر حاملہ ہوگئی۔ تاہم اس نے شادی کے بجائے تعلیم حاصل کرنے کو ترجیح دی۔ جب اس کی بیٹی ایک سال کی ہوئی تو اس کے والد نے اسے ’ ایجوکیٹ یورسیلف‘ پروگرام کے تحت اسکول میں داخلہ دلوا دیا۔ یہ پروگرام برطانیہ کی حکومت کی مدد سے چلایا جا رہا ہے اور اس کا مقصد مشرقی افریقی ملک میں لڑکیوں کو تعلیم دلوانا ہے۔

خبر رساں ایجنسی روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق کینیا میں 19 سال سے کم عمر ہر پانچ میں سے دو لڑکیاں یا تو حاملہ ہیں یا وہ ماں بن چکی ہیں۔ ماں بننے والی نوجوان خواتین کو ان کے والدین زبردستی شادی کر دینے پر مجبور کرتے ہیں کیونکہ اس معاشرے میں شادی کے بنا ماں بننے کو معیوب سمجھا جاتا ہے۔

'ایجوکیٹ یورسیلف‘ پروگرام کا آغاز جون 2014 میں کیا گیا تھا اور اس منصوبے کے تحت اب تک 300 لڑکیاں واپس اسکول جا چکی ہیں۔ اس پروگرام کے تحت نہ صرف لڑکیوں کو واپس اسکول بھیجا جاتا ہے بلکہ لوگوں کو آگاہی دی جاتی ہے کہ لڑکیوں کی تعلیم اور ان کی کم عمری میں شادی کر دینا ان کے مفاد میں نہیں ہے۔

اس پروگرام کی مینیجر ڈینس راٹیمو نے روئٹرز سے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا چند نوجوان ماؤں کو تعلیم کے دوران اپنے بچوں کی دیکھ بھال کرنے کے مسائل کا سامنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سن 2015 میں 4 لڑکیوں نے اپنے بچو‌ں کی دیکھ بھال کے لیے اسکول چھوڑ دیا تھا۔ سن 2014 میں 356 لڑکیوں نے دوبارہ اسکولوں میں داخلہ لیا تھا۔

DW.COM