1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کینیا کی فوج کا ایڈوانس، الشباب جنگ کے لیے تیار

افریقہ کے انتشار زدہ ملک صومالیہ کے جنوب حصے میں القاعدہ سے وابستہ انتہاپسند تنظیم الشباب کے جنگجوؤں کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے تناظر میں کینیا کی فوج نے پیشقدمی جاری رکھی ہوئی ہے۔

default

کینیا کی فوج

شورش زدہ ملک صومالیہ کے جنوب میں کینیا کی سرحد کے قریب واقع قصبے افمادو میں افراتفری کا سماں ہے اور وہاں کے رہنے والے جلد از جلد محفوظ مقامات تک منتقلی کی کوششوں میں ہیں۔ افمادو سے لوگ مہاجرت کر کے دُھوبلے نامی سرحدی شہر کی جانب جا رہے ہیں، جس کو حال ہی صومالیہ کی فوج نے انتہاپسندوں سے آزاد کرایا ہے۔

کینیا کی فوج کا سردست ہدف افمادو کا قصبہ ہے۔ یہ سرحدی قصبہ انتہاپسندوں کا گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق کینیا کی فوج مختلف سمتوں سے اس قصبے کی جانب بڑھ رہی ہے۔ منگل کے روز کینیا کے جنگی طیاروں نے اس قصبے پر نیچی پروازیں بھی کیں۔

نیروبی حکومت کے فیصلے کے بعد ہی فوج پچھلے اتوار کو سرحد عبور کر کے صومالیہ میں داخل ہوئی تھی۔

منگل کے روز کینیا کا ایک اعلیٰ سطحی وفد موغادیشو کے دورے پر تھا۔ اس وفد کی قیادت کینیا کے وزیر خارجہ Moses Wetang'ula کر رہے تھے۔ اس دورے کے شرکاء نے صومالیہ میں شیخ شریف شیخ احمد کی حکومت کے ساتھ بات چیت کی، جس میں موجود حالات پر ہی توجہ مرکوز رہی۔ مشترکہ اعلامیے میں فریقین نے انتہاپسندوں پر غیر اعلانیہ حملوں کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

کینیا کے وفد کی موغادیشو میں موجودگی کے دوران ہونے والے ایک خودکش حملے میں کم از کم چھ افراد ہلاک ہوئے۔ اس ماہ کے دوران موغادیشو میں کیا جانے والا یہ دوسرا خود کش حملہ تھا۔

Gründe für Migration Krieg Somalia Muslime ethnische Konflikte Verteibung Flash-Galerie

الشباب کے جنگ جو

صومالیہ میں دہشت گرد تنظیم القاعدہ سے وابستگی رکھنے والے مسلمان انتہاپسندوں کے گروہ الشباب نے اپنے گوریلوں کو افمادو کی جانب روانہ کردیا ہے اور ابتدائی منصوبے کے تحت الشباب اس قصبے کے دفاع کے لیے تیار ہے۔ افمادو کی جانب جانے والے راستے دشوار گزار ہیں اور حالیہ بارشوں کی وجہ سے کیچڑ نے اس قصبے تک رسائی کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔

الشباب کے ترجمان علی محمد راغے نے پیر کے روز موغادیشو میں پریس کانفرنس کے دوران کینیا کو انتباہ کیا تھا کہ وہ فوج کشی سے باز رہے وگرنہ وہاں بھی خود کش حملوں کا سلسلہ شروع کردیا جائے گا۔ راغے نے کینیا کو خبردار کیا تھا کہ سن 2010 میں یوگینڈا میں کیے جانے والے حملے کو وہ بھی یاد رکھیں، جس میں 76 افراد مارے گئے تھے۔

نیروبی میں کینیا کے سکیورٹی وزیر جارج سٹائٹی نے الشباب کے جنگجوؤں کو دشمن قرار دیا تھا۔ کینیا کی حکومت غیر ملکی سیاحوں کے اغوا سے پریشان ہے اور اس نے غیر ملکیوں کے اغوا کی وارداتوں کے بعد ہی فوج کشی کا فیصلہ کیا۔ کینیا کی معیشت میں سیاحت ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے اور اس کی وجہ سے سرکاری خزانے کو اربوں ڈالر حاصل ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہزاروں افراد کا روزگار بھی سیاحت کی صنعت سے وابستہ ہے۔ مشرقی افریقہ میں کینیا سب سے بڑی اقتصادیات کا حامل ملک ہے۔

رپورٹ: عابد حسین ⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس