1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کینیا تباہی کی طرف گامزن: بان کی مون

کینیا میں جاری تشدد کی تازہ کارروائی میں اپوزیشن کے ایک اور قانون ساز کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا ہے جبکہ دوسری طرف‘ ایتھوپیا میں جاری افریقی یونین کے سمٹ میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے کینیا کے بحران پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے‘ کہ یہ ملک تباہی کی طرف گامزن ہے۔

default

موجودہ بحران سے قبل‘ کینیا کا شمار افریقہ کے مستحکم ممالک میں ہوتا تھا اور ہر طرف اس کی مضبوط معیشت کا چرچہ تھا۔ لیکن گُذشتہ برس 27 دسمبر کو کینیا میں صدارتی انتخابات کیا ہوئے‘ پل بھر میں سب کچھ بدل گیا۔

اپوزیشن نے موجودہ صدر موائی کیباکی کی انتخابی جیت کو تسلیم کرنے سے یہ کہہ کر انکار کیا کہ صدر نے نتائج اپنے حق میں کرنے کے لئے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور سرکاری مشینری کا سہارا لے کر دھاندلیاں کیں۔اپوزیشن کے علاوہ بین الاقوامی انتخابی مبصرین نے بھی ان انتخابات اور انتخابی نتائج پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا۔یورپی یونین نے کینیا میں دوبارہ انتخابات منعقد کرانے یا ووٹوں کی از سر نو گنتی کے مطالبات کی وکالت کی۔

افریقی یونین نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی مفاہمت کے لئے ثالثی کی کئی کوششیں کیں لیکن تب تک کینیا کی سڑکیں ویران ہوچکی تھیں‘ سینکڑوں لوگوں کا خون بہہ چکا تھا‘ اور لاکھوں بے گھر ہوگئے تھے۔

آج جب ایتھوپیا میں افریقی سمٹ کا آغاز ہوا تھا اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے خبردار کیا کی کینیا تباہی کی طرف گامزن ہے۔انہوں نے سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کینیا میں تشدد کی لہر تا حال لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے‘ اور یہ لہر آنے والی مزید تباہی کا واضح اشارہ دے رہی ہے۔انہوں نے کینیا کے صدر موائی کیباکی اور وہاں کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت‘ آرینج ڈیموکرٹک مﺅمنٹ کے راہنما رائلا اوڈنگا سے اپیل کی کہ وہ بحران کے حل کے لئے معنی خیز مزاکرات کریں اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔

حالیہ تشدد کے نتیجے میں کینیا میں اب تک 850 افراد ہلاک‘ ڈھائی لاکھ بے گھر ہوگئے ہیں۔ کینیا میں حکومت کے حامی قبائل اور اپوزیشن حامی قبائلوں کے درمیان تصادم آرائی نے سنگین صورت اختیار کی ہے۔

افریقی یونین کے چوٹی کے سفارتکاروں نے بھی کینیا کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اس ملک کے سیاستدانوں پریہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عام لوگوں کے جان و مال کا تحفظ کریں۔
کینیا کے بحران کے حل کے لئے افریقی یونین کے چیئرمین‘ جان آجی کم کُفور‘ JOHN AGYEKUM KUFOUR‘ اقوام متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے بھی ثالثی کی کوششیں کیں۔

بحران کے نتیجے میں کینیا کی مضبوط معیشت‘ اس کے سیاحتی شعبے اور جمہوری شناخت کو کافی نقصان پہنچاہے۔

  • تاریخ 31.01.2008
  • مصنف Gowhar Nazir
  • ایک یا ایک سے زیادہ کلیدی الفاظ درج کریں Kenya Crisis
  • پرنٹ کریں یہ صفحہ پرنٹ کریں
  • پیرما لنک http://p.dw.com/p/DYFB
  • تاریخ 31.01.2008
  • مصنف Gowhar Nazir
  • ایک یا ایک سے زیادہ کلیدی الفاظ درج کریں Kenya Crisis
  • پرنٹ کریں یہ صفحہ پرنٹ کریں
  • پیرما لنک http://p.dw.com/p/DYFB