1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کینسر کا کامیاب علاج، چاویز دوبارہ امیدوار ہوں گے

وینزویلا کے صدر اوگو چاویز نے اعلان کیا ہے کہ ان کا سرطان کے مرض کا علاج مکمل ہو گیا ہے جو کامیاب رہا اور وہ اگلے سال صدارتی عہدے کے لیے دوبارہ امیدوار ہوں گے۔

default

وینزویلا کے سوشلسٹ رہنما اوگو چاویز گزشتہ قریب تیرہ سال سے صدر کے عہدے پر فائز ہیں۔ انہوں نے اگلے سال سات اکتوبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں ایک بار پھر نہ صرف حصہ لینے کا اعلان کیا ہے بلکہ یہ یقین بھی ظاہر کیا ہے کہ ان انتخابات میں فتح انہی کو حاصل ہو گی۔

صدر چاویز کو پیٹ میں سرطان کے جس مرض کا سامنا تھا، اس کی آج تک کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ تاہم اس مرض کے علاج کے لیے ان کی سرجری بھی ہوئی جس کے بعد ان کا کیمو تھیراپی کے ذریعے علاج بھی کیا گیا۔ اب اس علاج کی تکمیل پر پر صدر چاویز نے اپنے مکمل طور پر صحت مند ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔

Venezuela Hugo Chavez Genesung Flash-Galerie

اوگو چاویز کی زندگی کے بارے میں چند اہم حقائق:

اٹھائیس جولائی سن 1954 کو ایک غریب کسان کے گھر پیدا ہونے والے چاویز پہلے ایک پیشہ ور مصور بننا چاہتے تھے اور پھر بیس بال کے پیشہ ور کھلاڑی۔ وہ اپنے سیاسی بیانات میں اکثر بیس بال کے کھیل سے متعلق محاورے اور مخصوص الفاظ استعمال کرتے ہیں۔

چاویز وینزویلا کی مسلح افواج میں لیفٹیننٹ کرنل رہ چکے ہیں۔ اپنی فوجی سروس کے آخری سالوں میں انہوں نے بائین بازو کی سوچ کے حامل کئی دیگر فوجی افسروں کے ساتھ مل کر ملک کے روایتی سیاسی نظام کو انقلاب کے ذریعے بدلنے کی تیاری کی۔ انہوں نے ایک فوجی بغاوت کی قیادت بھی کی، جو ناکام رہی تھی۔ پھر 1998 میں وہ صدارتی الیکشن جیت کر چھ سال کے لیے سربراہ مملکت بن گئے۔

Venezuela Hugo Chavez Genesung Flash-Galerie

سن 2002 میں ان کے خلاف بغاوت بھی ہوئی تھی مگر اپنے حامی فوجیوں کی مدد سے وہ صرف دو روز بعد دوبارہ اقتدار میں آ گئے تھے۔ چاویز کا دعویٰ ہے کہ ان کے خلاف فوجی اور سیاسی بغاوت کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ تھا۔ چاویز کو وینزویلا کے غریب عوام کی اکثریت کی حمایت حاصل ہے اور ان کی حکومت نے ملک میں تعلیم اور صحت کے شعبے میں بہت زیادہ سرمایہ کاری بھی کی ہے، جس پر عام شہریوں کی اکثریت ان سے بہت خوش ہے۔

سن 2004 میں چاویز نے یہ دھمکی بھی دی تھی کہ اگر امریکہ نے ان کو زبردستی اقتدار سے ہٹانے کی کوشش کی تو وہ امریکہ کو تیل کی فراہمی کے تمام رستے بند کر دیں گے۔ اوگو چاویز نظریاتی طور پر کیوبا کے انقلابی رہنما فیڈل کاسترو سے بہت متاثر ہیں، جو ان کے قریبی دوست بھی ہیں۔ چاویز وینزویلا میں اب تک بہت سی بڑی صنعتوں کو قومی ملکیت میں لے چکے ہیں۔ ان کے مخالفین ان پر خود پسندانہ طرز حکومت کا الزام لگاتے ہیں۔

اوگو چاویز ہر اتوار کی شام سرکاری ٹیلی وژن پر اپنا ایک شو بھی پیش کرتے ہیں جس کا نام ہے، ہیلو پریذیڈنٹ۔ یہ ٹی وی شو اکثر رات گئے تک جاری رہتا ہے۔ ایک مرتبہ تو یہ شو آٹھ گھنٹے تک جاری رہا تھا۔

کینسر کے مرض کے کامیاب علاج کے بعد سے چاویز نے اپنی کھانے پینے کی عادات بھی بدل لی ہیں، ان کا طرز سیاست بھی اب مختلف ہے اور اسی وجہ سے ان کی تقریروں میں اب بہت زیادہ جذباتیت کی بجائے کچھ دھیما پن بھی آ چکا ہے۔ اب تو وہ اپنی تقریروں میں کبھی کبھی خدا کا ذکر بھی کرنے لگے ہیں۔

رپورٹ:عصمت جبیں

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM