1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کینسر نے نہیں، بیٹی کے اغواء نے ماں کی جان لی

تقریباً دس روز پہلے راولپنڈی کے ایک ہسپتال میں ایک ماں کی آنکھوں کی سامنے اس کی پانچ سالہ بیٹی کو اغواء کر لیا گیا تھا۔ پہلے سے بیمار یہ ماں اس غم کا بوجھ نہ سہار سکی اور بدھ کے روز دم توڑ گئی۔

default

35 سالہ ناظمہ بی بی اپنے نومولود بیٹے اور پانچ سالہ بیٹی کے ساتھ راولپنڈی کے ایک مصروف ہسپتال میں ڈاکٹر کے انتظار میں بیٹھی تھی۔کینسرکی مریضہ ناظمہ بی بی کو اپنا چیک اپ کرانا تھا۔ بیماری کی وجہ سے نقاہت اس کے چہرے سے عیاں تھی اور اسی حالت میں وہ اپنے بیٹے کو دودھ پلا رہی تھی۔ اس کے ساتھ ہی اس کی بیٹی رابعہ بھی ایک بینچ پر بیٹھی تھی۔

چاروں طرف چہل پہل تھی اور اس دوران وہاں موجود بہت سے لوگوں میں سے یکدم ایک خاتون نے رابعہ کو پکڑا اور چل پڑی۔ بیماری سے نڈھال ناظمہ بی بی کے لیے یہ سب کچھ اتنا اچانک اور غیر متوقع تھا کہ اسے صورتحال کو سمجھنے میں کچھ وقت لگا۔ پھر اس نے چلانے کی کوشش کی لیکن نقاہت کی وجہ سے اس کی آواز ارد گرد کے شور میں دب کر رہ گئی۔ ناظمہ بی بی اتنی لاغر تھی کہ اس میں نہ تو اٹھنے کی اور نہ ہی اپنی بچی کو اغواء کرنے والی خاتون کا پیچھا کرنے کی ہمت تھی۔

اس بیمار ماں کی ضد تھی کہ اس کی بیٹی کو ڈھونڈا جائے لیکن ہسپتال کی انتظامیہ بےبس تھی۔ کچھ دیر بعد جب انتظامیہ حرکت میں آئی تو ہسپتال کے دروازے بند کر دیے گئے، چیکنگ شروع ہوئی اور پولیس کو اطلاع بھی کر دی گئی۔ لیکن یہ سب فوری طور پر نہ ہو سکا اور اس دوران مریضوں اور ان کے لواحقین سے کھچا کھچ بھرے ہسپتال سے پانچ سالہ رابعہ کو اغواء کرنے والی نامعلوم خاتون اس بچی کو لے کر غائب ہو چکی تھی۔

Kinder in Pakistan

پاکستان میں 2005ء کے زلزلے اور حالیہ سیلاب کے بعد بھی بڑی تعداد میں بچوں کو اغواء کیا گیا

اس پر ناظمہ بی بی کی حالت مزید خراب ہو گئی اور انتظامیہ کو اسے علاج کے لیے زبردستی ہسپتال میں روکنا پڑا۔ اس کی ایک ہی خواہش تھی کہ اس کی بیٹی اسے لوٹا دی جائے۔ ’’میں رابعہ کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی۔ مجھے میری بیٹی سے ملا دو، میں اس مجرم خاتون کو معاف کرنے پر بھی تیار ہوں۔‘‘

اگلے دس دنوں کے دوران اس بیمار ماں کی پکار پر کسی نے کوئی کان نہ دھرا اور یوں بدھ کے روز اپنی بیٹی سے ملنے کی خواہش کرتے کرتے ناظمہ بی بی نے دم توڑ دیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق اپنی ’شہزادی‘ کی یاد میں ناظمہ بی بی نےکھانا پینا تقریباً چھوڑ دیا تھا اور وہ ہر وقت رابعہ کو یاد کرتی رہتی تھی۔

نیشنل پولیس بیوروکے ڈپٹی ڈائریکٹر نذر الحسن کے مطابق پاکستان میں اس وقت بچوں کےسر عام اغواء کی وارداتیں اپنے عروج پر ہیں۔ ان کے بقول پولیس کے پاس اس حوالے سے صحیح اعداد و شمار موجود نہیں ہیں۔ پاکستان کے سب سے بڑے سماجی امدادی نیٹ ورک ایدھی ٹرسٹ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ ملک میں گزشتہ برس مختلف ہسپتالوں سے تقریباً 40 نومولود بچوں کو اغواء کیا گیا۔ چند سال تک کی عمر کے بچوں کے اغواء کی وارداتیں اس کے علاوہ ہیں۔

حکام کے مطابق ایسی وارداتوں میں زیادہ ترخواتین ملوث ہوتی ہیں۔ خاص طور پر ایسی خواتین، جو خود ماں نہ بن سکتی ہوں۔ ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ ایسی خواتین پر معاشرے، شوہر اور گھر والوں کا شدید دباؤ انہیں ایسا کرنے پر مجبورکر دیتا ہے۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس