1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’کینسر امریکہ‘ کا خاتمہ کر دیا جائے گا، انڈر ویئر بمبار کی دھمکی

2009ء میں ڈیٹرائٹ جانے والی فلائٹ کو دھماکے سے اڑانے کی کوشش کرنے والے نائجیریا کے شہری نے اپنے خلاف مقدمے کی کارروائی کے آغاز پر دھمکی دی ہے کہ اسلامی شدت پسند ’کینسر امریکہ‘ کو صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے۔

عمر فاروق عبدالمطلب

عمر فاروق عبدالمطلب

عمر فاروق 2009ء کو کرسمس کے موقع پر ایمسٹرڈیم سے امریکی شہر ڈیٹرائٹ جانے والی نارتھ ویسٹ ایئرلائنز کی فلائٹ میں سوار تھا۔ وہ دھماکہ خیز مواد اپنے زیر جامہ یعنی انڈر ویئر میں چھپائے ہوئے تھا، تاہم یہ دھماکہ خیز مواد پھٹ نہ سکا اور اسے گرفتار کر لیا گیا تھا۔

عمر فاروق عبدالمطلب کو جب ڈیٹرائٹ کی عدالت میں پیشی کے لیے لایا گیا تو اس نے چلا کر کہا ’انور زندہ ہے‘۔ اس کا اشارہ امریکی شہری انور العولقی کی جانب تھا جسے گزشتہ ہفتے یمن میں ایک مبینہ امریکی ڈرون حملے میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔

عدالتی کارروائی کے آغاز کے لیے جج کے کمرہء عدالت میں داخل ہونے سے قبل عمرفاروق عبدالمطلب نے ایک بار اسی تلخ لہجے میں چلا کر کہا: ’’مجاہدین امریکہ کو صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے، کینسر امریکہ کو۔‘‘

عمر فاروق پر الزام ہے کہ اس نے نارتھ ویسٹ ایئرلائنز کی فلائٹ میں سوار 300 افراد کو ہلاک کرنے کی کوشش کی تھی

عمر فاروق پر الزام ہے کہ اس نے نارتھ ویسٹ ایئرلائنز کی فلائٹ میں سوار 300 افراد کو ہلاک کرنے کی کوشش کی تھی

ڈیٹرائٹ جانے والی فلائٹ کو فضا میں ہی دھماکے سے اڑانے کے ملزم عبدالمطلب کا اصرار تھا کہ وہ اپنے مقدمے کی پیروی خود کرے گا۔ تاہم عدالت کی جج نینسی ایڈمنڈزNancy Edmunds نے عبدالمطلب کو بار بار مشورہ دیا کہ وہ کسی وکیل کو اپنا مقدمہ پیش کرنے دے۔ جج نے اس مقصد کے لیے ایک وکیل مقرر بھی کیا کہ وہ نارتھ ویسٹ ایئرلائنز کی فلائٹ میں سوار 300 افراد کو ہلاک کرنے کی کوشش سے متعلق الزامات کے خلاف عبدالمطلب کی مدد کرے۔

تاہم عبدالمطلب نے وکیل انتھونی چیمبرز کی مدد قبول کرتے ہوئے اصرار کیا کہ وہ مقدمے کی کارروائی کے لیے ابتدائی بیان خود دے گا اور یہ کہ گواہوں سے سوالات بھی وہ خود ہی کرے گا۔  اس مقدمے کی کارروائی کئی ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے اور ابتدائی بیانات 11 اکتوبر کو متوقع ہیں۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: مقبول ملک

DW.COM