1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کیمپ ڈیوڈ امن معاہدے کے 30 برس

مشرق وسطیٰ میں امن کے لئے کیمپ ڈیوڈ میں طے پانے والا معاہدہ آج تک کا اہم ترین سنگ میل ثابت ہوا ہے جو بعد میں خطے میں تقریبا ہر بڑی پیش رفت کی وجہ بھی بنا اور 26 مارچ جمعرات کے روز اس معاہدے کو ٹھیک 30 برس ہو گئے۔

default

کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے موقع پر لی گئی جمی کارٹر، انورالسادات اور مناخیم بیگن کی ایک یادگار تصویر

1979 میں 26 مارچ کے روز امریکہ میں کیمپ ڈیوڈ کے مقام پر امریکی صدر جمی کارٹر، مصری صدر انور السادات اور اسرائیلی وزیر اعظم مناخیم بیگن نے جس مصری اسرائیلی معاہدے پر دستخط کئے وہ اسرائیل کا کسی بھی عرب ریاست کے ساتھ طے پانے والا پہلا امن سمجھوتہ تھا۔ یہ معاہدہ مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے سلسلے میں آج تک کا سب سے اہم سمجھوتہ ثابت ہوا ہے اور اسی لئے اس دور کے امریکی صدر جمی کارٹر اس پر واضح طور پر مطمئن بھی تھے۔

تب جمی کارٹر نے انور السادات اور مناخیم بیگن کی سیاسی ہمت کو سراہتے ہوئے کہا تھا: "صدر انور السادات اور وزیر اعظم مناخیم بیگن کی صورت میں قوموں کی تاریخ میں اہم کردار کے حامل دو بڑے سربراہان نے اس معاہدے کے ذریعے ایسی ہمت اور ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے جو کبھی کسی ایسے فوجی جرنیل نے بھی نہیں دکھائی جس نے اپنی فوجوں اور جنگی سازوسامان کے ساتھ میدان جنگ کا رخ کیاہو۔"

انور السادات کا اچانک اعلان

کیمپ ڈیوڈ معاہدے سے دو سال قبل مصری صدر سادات نے اچانک یہ اعلان کردیا تھا کہ خطے میں قیام امن کے لئے وہ اسرائیل کی کنیسیٹ کہلانے والی پارلیمان سمیت دنیا کے آخری حصے تک جانے کو بھی تیار ہوں گے جبکہ اسرائیل میں سربراہ حکومت کے طور پر قوم پسند مناخیم بیگن کے انتخاب کے بعد تو اسرائیل اور بیرونی دنیا میں بھی یہ امید تقریبا ختم ہو گئی تھی کہ اسرائیل مشرق وسطیٰ میں کسی بھی دوسری ریاست کے ساتھ قیام امن پر تیار ہوجائے گا۔

BG60JahreIsrael Anwar El Sadat in Israel

1977 میں انورالسادات اور مناخیم بیگن

لیکن مناخیم بیگن نے صدر سادات کو یروشلم آنے کی دعوت دی اور وہ وہاں چلے بھی گئے تھے۔ یوں وہ بھر پور دوطرفہ مذاکرات شروع ہوئے جو ایک سال بعد کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے طے پا جانے کی وجہ بنےتھے۔

عرب دنیا کی طرف سے بائیکاٹ

اس معاہدے پر دستخطوں کے وقت وائٹ ہاؤس میں دنیا بھر کے سیاستدان موجود تھے مگر عرب دنیا کے نمائندے وہاں نہیں تھے، خاص کر فلسطینی رہنما جو اس معاہدے کے خلاف تھے۔ اس موقع پر انور السادات نے کہا تھا: "مصری قوم نے اپنی عظیم تر میراث اور انسانی تاریخ کے اپنے منفرد احساس کی وجہ سے شروع سے ہی یہ بات سمجھ لی تھی کہ اس معاہدے کی اہمیت اور وقعت کتنی زیادہ ہے۔"

اسرائیل کی طرف سے اس معاہدے پر مناخیم بیگن نے دستخط کئے جو قوم پسندوں کی Herut نامی اس پارٹی کے سربراہ بھی تھے جس کی صفوں میں سے بعد میں لیکوڈ پارٹی نے جنم لیا اور جس کی قیادت آرئیل شارون اور بین یامین نیتن یاہو جیسے سیاستدانوں کے حصے میں آئی۔

1979 میں مناخیم بیگن نے وائٹ ہاؤس منعقدہ اسی تقریب سے اپنے خطاب میں کہا تھا: "میرا تعلق اسرائیل سے ہے۔ میں صیہون کی سرزمین میں یروشلم سے یہاں آیا ہوں اور میں اس وقت عاجزی اور فخر دونوں طرح کے احساسات کے ساتھ یہاں کھڑا ہوں، یہودی قوم کے ایک بیٹے کے طور پر اور ہولوکاسٹ کا سامنا کرنے والی نسل کے ایک فرد کے طور پر بھی۔"

Menachem Begin und Anwar AL-Sadat beim Besuch des israelischen Holocaust Museum Yad Vashem

20 نومبر 1977 کے روز یروشلم میں صدر سادات کے ہولوکاسٹ میوزیم کے دورے کے موقع پر لی گئی ایک تصویر

امن کے بدلے زمین

مناخیم بیگن نے مصر کے ساتھ امن معاہدے میں جزیرہ نما سینا کے پورے علاقے کی واپسی کا وعدہ کرتے ہوئے "امن کے بدلے زمین" کے اصول پر عمل کیا تھا اور کیمپ ڈیوڈ کا معاہدہ ہی بعد میں اسرائیل کے اردن کے ساتھ امن معاہدے کے طے پانے کا محرک بھی بنا تھا۔

صدر سادات کو اس معاہدے کے دو سال بعد قاہرہ میں اس سمجھوتے کے مخالف اسلام پسندوں نے قتل کردیا تھا مگر کیمپ ڈیوڈ کا معاہدہ ایک ایسا تاریخی موڑ ثابت ہوا جس کی بناء پر اسرائیل اور مصر کے مابین آج تک امن قائم ہے۔