1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

کیمنِٹس واقعے نے مہاجرین کی درخواستوں کی پڑتال سخت کر دی

کیمنِٹس شہر میں مقیم ایک شامی پناہ گزین کے گھر پر چھاپہ مار گیا تو بڑی مقدار میں بارودی مواد سکیورٹی اہلکاروں کو دستیاب ہوا۔ اِس واقعے کے بعد پناہ گزینوں کی چیکنگ بارے سخت اقدامات کے مطالبات سر اٹھانے لگے ہیں۔

دھوکہ دہی کے ایسے الزامات بھی سامنے آئے ہیں کہ مراکش اور شمالی افریقہ کے ملکوں کے مہاجرین خود کو شامی باشندوں کے طور پر ریفیوجی مراکز پر رجسٹر کرانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جرمن سکیورٹی اور سیاسی حلقوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ دھوکا دہی اور غلط اطلاعات کے تناظر میں سکیورٹی کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔

شہریت میں فراڈ کے تناظر میں جرمن حکام نے پرانا نظام بحال کر دیا ہے اور اب ہر پناہ گزین کا انٹرویو لیا جائے گا۔ جرمنی کے وفاقی مائیگریشن آفس کے اہلکار اس انٹرویو میں تعین کریں گے کہ آیا درخواست حقائق پر مبنی ہے۔

Deutschland Syrer nach Sprengstoffund in Chemnitz gesucht (picture-alliance/dpa/Polizei Sachsen)

کیمنِٹس واقعے میں ملوث جابر البکر

مائیگریشن کا دفتر ہر پناہ گزین کی درخواست پر فیصلہ کرنے سے قبل مختلف سکیورٹی چیکس کے لیے پناہ گزین کی انگلیوں کے نشان اور مختلف انداز کی تصاویر لے کر وفاقی ڈیٹا سے پڑتال کرے گا کہ کہیں اِس شخص کی تصاویر اور فنگر پرنٹس پہلے سے تو موجود نہیں ہیں۔ اسی طرح پناہ گزین کی طرف سے جمع کروائی گئی شناختی دستاویزات کی پوری پرکھ بھی اس عمل میں شامل کر دی گئی ہے۔

کیمنِٹس شہر میں ایک شامی ریفیوجی کے اپارٹمنٹ پر چھاپے کے بعد بارودی مواد کی دستیابی اور اُس کے فرار نے سارے پناہ گزینوں پر شک و شبے کی انگلیاں کھڑی کر دی ہیں۔ سیاستدانوں نے پناہ گزینوں کے لیے جانچ پڑتال کے عمل کو زیادہ سخت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ کیمنِٹس کے واقعے میں ملوث بائیس سالہ شامی جابر البکر سن 2015 میں جرمنی پہنچا تھا اور اُس کو عبوری رہائش کی اجازت دی گئی تھی۔

Chemnitz Anti-Terror-Einsatz (picture-alliance/dpa/P. Zinken)

جرمنی میں اہم مقامات کی سکیورٹی میں اضافہ کر دیا گیا ہے

جرمن سکیورٹی ذرائع  نے تصدیق کی ہے کہ جابر البکر کے شام اور عراق میں خود ساختہ خلافت قائم کرنے والی ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے ساتھ رابطے تھے۔ جابر البکر کے بارے میں ابھی بہت ساری تفصیلات منظر عام پر آنا باقی ہیں۔ اس واقعے کے سامنے آنے کے کچھ ہی دیر بعد جرمن صوبے باویریا کے محکمہٴ داخلہ کے ترجمان ہانس پیٹر اُہل نے جرمن سکیورٹی سروسز کو زیادہ اختیارات دینے کا مطالبہ کر دیا۔ اُہل کے مطابق ان اختیارات میں سکیورٹی سروسز کی وفاقی مائیگریشن دفتر کے رجسٹریشن ڈیٹا تک رسائی بھی شامل ہے۔

ہانس پیٹر اُہل کی سیاسی جماعت کرسچین سوشل یونین سن 2015 میں مہاجرین کی آمد کے وقت سے چانسلر انگیلا میرکل کی اِس ریفیوجی پالیسی کی ناقد چلی آ رہی ہے۔ اِس مطالبے کو جرمن چانسلر کی مخلوط حکومت میں شامل ایس پی ڈی نے فوری طور پر مسترد کر دیا۔ اسی طرح گرینز پارٹی نے بھی اُہل کے مطالبے کو پاگل پن قرار دیا۔ ان پارٹیوں کا موقف ہے کہ وفاقی مائیگریشن آفس پہلے سے سکیورٹی سروسز کے ساتھ پورا تعاون جاری رکھے ہوئے ہے۔