1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

کیمنِٹس میوزیم کے لیےمصوری کے شہ پاروں کا تحفہ

مشرقی جرمن شہر کیمنٹِس کی آرٹ گیلری کے لیے بیسویں صدی کے مشہور مصوروں کے شاہکار فن پارے بطور تحفہ دیے گئے ہیں۔ ان فن پاروں میں پکاسو کے علاوہ امریکی مصور اینڈی وارہول کی تخلیقات بھی شامل ہیں۔

کیمنِٹس کے عجائب گھر کے لیے بیسویں صدی کے شاہکار فن پارے برلن کی مشہور باستیان فیملی کی جانب سے دیے گئے ہیں۔ ان میں ڈرائینگز کے علاوہ گرافکس، تصاویر اور دوسرے فنی نمونے شامل ہیں۔ کیمنِٹس کے لیے ان فن پاروں کے عطیے کو ایک انتہائی قیمتی خزانہ قرار دیا گیا ہے۔ عطیہ کیے گئے فن پاروں کی تعداد دو سو بتائی گئی ہے۔

اذیت رسانی کے مرکز میں لگنے والی نمائش

ایلس اِن ونڈر لینڈ: زندہ تحریروں میں سے ایک

بھارت میں ایم ایف حسین کے فن پاروں کی دوبارہ نمائش

سوات میں آٹھ روزہ فنون لطیفہ ورکشاپ اختتام پزیر

باستیان فیملی کی اس کولیکشن میں بیسویں صدی کے مشہورِ زمانہ ہسپانوی شاعر، سنگتراش اور مصور پابلو پکاسو کے فن پارے بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ امریکا سے تعلق رکھنے والی جمالیاتی فنکار اینڈی وارہول کی تخلیقات بھی عطیہ کی گئی ہیں۔ اس انتہائی بیش قیمت مصوری کے خزانے میں امریکی مصوروں رابرٹ روئشنبیرگ، سائی ٹومبلی، بیلجییم کے آرٹسٹ لُوک ٹوئمانس اور مشہور جرمن پینٹر یوزف بوائس کے علاوہ گزشتہ صدی کے اہم مصوروں میں شمار کیے جانے والے گیرہارڈ رِشٹر کی تخلیقات بھی شامل ہیں۔

Künstler Joseph Beuys (picture-alliance/dpa)

مشہور جرمن پینٹر یوزف بوائس کی تخلیقات بھی کیمنِٹس میوزیم کو عطیہ کی گئی ہیں

کیمنِٹس میوزیم کی انچارج اور مصوری کی تاریخ پر گہری نگاہ رکھنے والی خاتون انگریڈ مؤسنگیر کا کہنا ہے کہ باستیان فیملی کے ان نوادرات نے عجائب گھر کے مجموعی تشخص کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تحفہ کیے گئے کئی شہ پارے ناقابلِ یقین اہمیت کے حامل ہیں۔ انگریڈ مؤسنگیر کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان تخلیقی نوادرات کی آمد سے کیمنِٹس کے عجائب گھر کی حیثیت میں بے بہا اضافہ ہوا ہے۔ اُن کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس میوزیم کے گرافکس کے ذخیرے کی شناخت و پہچان منفرد ہو گئی ہے۔ مؤسنگیر کے مطابق نادر فن پاروں کا اتنا بڑا ذخیرہ عام طور پر خریدنا انتہائی مشکل امر ہے۔

کیمنٹس کے میوزیم کا باستیان فییملی کے ساتھ تعلق سن 2002 میں شروع ہوا تھا۔ اُس وقت اِس میوزیم کو باستیان خاندان کے ایک فرد ہینری باستیان کی جانب سے پکاسو کی ایک پیٹنگ بطور تحفہ دی گئی تھی۔ اس پینٹنگ کا نام ’پکاسو اور خواتین‘ تھا۔ ہینری باستیان کسی دور میں مشہور جرمن مصور یوزف بوائس کے معاون ہوا کرتے تھے۔

DW.COM