1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کیمرون نئے برطانوی وزیر اعظم، کلیگ نائب بن گئے

گورڈن براؤن کے وزارت عظمیٰ کے منصب سے استعفیٰ دینے کے بعد ٹوری پارٹی کے لیڈر ڈیوڈ کیمرون برطانیہ کے نئے وزیر اعظم بن گئے ہیں۔ لبرل ڈیموکریٹ رہنما نِک کلیگ ان کے نائب بن گئے ہیں۔

default

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون

David Cameron bei der Königin Mai 2010

کیمرون ملکہ برطانیہ کے ساتھ

لیبر پارٹی اور لبرل ڈیموکریٹس کے درمیان بات چیت بغیر کسی پیش رفت کے بغیر ختم ہونے کے بعد کنزرویٹو پارٹی اور ترقی پسندوں کے درمیان حکومت سازی کے معاہدے کے تناظر میں گورڈن براؤن نے وزارت عظمیٰ کے منصب سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا۔ اس اعلان کے بعد ملکہ برطانیہ کے ساتھ باضابطہ ملاقات میں ٹوری پارٹی کے لیڈر کیمرون کو نئی حکومت کی تشکیل کی دعوت دی گئی، جو انہوں نے قبول کر لی۔

کیمرون نے وزیر اعظم کی رہائش گاہ، 10 ڈاؤننگ سٹریٹ کے باہر اپنی اہلیہ کے ساتھ ٹوری پارٹی اور لبرل ڈیمو کریٹس کی نئی حکومت کے خدو خال واضح کئے۔ اپنی تقریر میں انہوں نے برطانیہ میں ایک توانا معاشرے کی تشکیل و تعمیر کی ضرورت پر زور دیا۔

منگل کی شام تک کنزرویٹو پارٹی کا بھی اجلاس ہوا جس میں حکومت سازی کی ڈیل پر پارٹی میں اتفاق رائے پیدا کیا گیا۔ وزیر اعظم کا منصب سنبھالنے کے بعد ڈیوڈ کیمرون نے لبرل ڈیمو کریٹس کے ساتھ اپنی ڈیل کا اعلان بھی کیا۔ اس ڈیل کے تحت لبرل ڈیمو کریٹس کو پانچ وزارتیں دی جائیں گی۔ ڈیل میں یہ طے کیا گیا ہے کہ یہ پانچ سال کے عرصے پر محیط ہو گی۔ فریقین نے کچھ لو اور کچھ دو کے تحت ایک دوسرے کو قبول کیا ہے۔ لبرل ڈیمو کریٹس نے کئی معاملات پر اپنی مخالفت کو ترک کرتے ہوئے حکومت سازی کے عمل کو تیز کیا۔

کون لب ڈیل کے تحت لبرل ڈیمو کریٹس کے لیڈر نک کلیگ کو نائب وزیر اعظم مقرر کرنے کا اعلان کیا گیا۔ گزشتہ ستر سالوں میں یہ پہلی مخلوط حکومت ہے۔ ٹوری پارٹی کو تیرہ سال بعد مسند اقتدار نصیب ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ پچھلے نوے سالوں میں لبرل ڈیمو کریٹ کے کوئی سیاستدان بڑے منصب پر پہلی بار فائز ہوئے ہیں۔ لبرل ڈیمو کریٹس اور ٹوری پارٹی کے درمیان برطانوی پارلیمنٹ کی تاریخ میں یہ پہلی مخلوط حکومت ہے۔ ڈیوڈ کیمرون سن 1812کے بعد بننے والے کم عمر ترین وزیر اعظم ہیں۔ انہوں نے سن 1997 میں بننے والے وزیر اعظم ٹونی بلیئر کا ریکارڈ بھی توڑ ڈالا ہے۔

وزیر اعظم بننے کے بعد ڈیوڈ کیمرون نے کابینہ کے ناموں کو بھی حتمی شکل دینا شروع کردی ہے۔ نئے وزیر اعظم نے جارج اوسبورن کو وزیر خزانہ مقرر کیا ہے۔ وزارت خزانہ میں لبرل ڈیمو کریٹس کے ونس کیبل کو دوسری پوزیشن ملنے کے قوی امکانات ہیں۔ وزارت خارجہ کا قلمدان ولیئم ہیگ کو دیا گیا ہے۔ دفاع کی وزارت نئے وزیر اعظم نے لائم فوکس کے سپرد کی ہے۔ لبرل ڈیمو کریٹس کے لیڈر نک کلیگ کے چیف آف سٹاف ڈینی الیگزینڈر کو سکاٹ لینڈ کے امور کی وزارت دی گئی ہے۔

Flash-Galerie Wahl in Großbritannien Nick Clegg

نائب وزیر اعظم نِک کلیگ

منگل کو لندن میں سیاسی معاملات میں تیزی دیکھی گئی۔ لیبر اور لبرل ڈیموکریٹس کا مذاکراتی عمل ٹھپ ہو گیا، لبرل اور ٹوری پارٹی کے درمیان حکومت سازی کی ڈیل اپنی تکمیل کو پہنچی۔ براؤن کا وزارت عظمیٰ کے منصب سے مستعفی ہونا اور ڈیوڈ کیمرون کا نیا وزیر اعظم بن جانا اسی سیاسی تیزی کا نتیجہ تھا۔ منگل کی شام کو ہی لبرل ڈیمو کریٹس کے اراکین پارلیمنٹ کی بھی ملاقات ہوئی جس میں پارٹی لیڈر نک کلیگ کو ٹوری پارٹی کے ساتھ کی گئی ڈ یل پر حمایت اور اس کی منظوری دی۔

برطانیہ میں چھ مئی کے عام پارلیمانی انتخابات کے بعد پانچ روز کی مسلسل بات چیت کے بعد ترقی پسند جماعت لبرل ڈیمو کریٹس اور قدامت پسند پارٹی کنزرویٹو کے درمیان نئی حکومت کی تشکیل کا مرحلہ طے کیا گیا۔ دونوں پارٹیوں کے مذاکرات کاروں نے بات چیت کے کئی ادوار میں شرکت کرتے ہوئے مفاہمت کے نکات کو ترتیب دیا اور حکومت سازی کی ڈیل کو حتمی شکل دی۔ نک کلیگ اور ڈیوڈ کیمرون کے درمیان منگل کو بالمشافہ بھی ملاقات ہوئی تھی اور یہی ملاقات حکومت کے قیام کے لئے اہم ترین تصور کی گئی ہے۔

لیبر پارٹی اورترقی پسند جماعت کے درمیان حکومت سازی کی راہ میں کئی مشکلات حائل تھیں۔

Obama gratuliert Cameron am Telefon

امریکی صدر باراک اوباما کیمرون سے ٹیلی فون پر گفتگو کر رہے ہیں

اس کا اندازہ لیبر پارٹی کے سینئر اراکین کو ہو گیا تھا۔ خاص طور پر ٹیکس اور حکومتی اخرجات پر اتفاق رائے کا کوئی امکان پیدا نہیں ہو سکا تھا۔ اس سے قبل لبرل ڈیمو کریٹس کے اندرونی حلقے بات چیت میں گورڈن براؤن کو بھی ایک رکاوٹ خیال کرتے تھے۔ اس تناظر میں براؤن نے پیر کو پارٹی کی قیادت سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا تھا۔ منگل کی شام لبرل ڈیمو کریٹس اور ٹوری پارٹی کے درمیان حکومت سازی کی ڈیل کو حتمی صورت ملنے کے امکانات کا اندازہ لگاتے ہوئے برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن نے اپنے منصب سے بھی مستعفی ہونے کا اعلان کردیا ہے۔ اپنے مستعفی ہونے کے اعلان میں گورڈن براؤن نے اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ اگلی حکومت بنانے کی کوششوں میں کامیابی حاصل نہیں کرسکے تھے۔ انہوں نے اپنا استعفیٰ ملکہ برطانیہ کو پیش کیا۔ استعفیٰ پیش کرنے کی ملاقات میں سبکدوش ہونے والے وزیر اعظم نے ڈیوڈ کیمرون کا نام بطور اگلے وزیر اعظم کے پیش کیا۔ گورڈن براؤن نے نئے وزیر اعظم کے لئے نیک تمناؤں کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے لیبر پارٹی کی قیادت سے بھی فوری طور پر علیحدگی اختیار کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

Deutschland Angela Merkel Pressekonferenz nach NRW Landtagswahlen

جرمن چانسلر انگیلا میرکل

ڈیوڈ کیمرون کے ساتھ امریکی صدر اوباما نے ٹیلی فون پر بات چیت کی اور اُن کو جولائی میں امریکہ کے دورے کی دعوت بھی دی۔ کیمرون کو مبارک باد کا پیغیام دینے والے اوباما پہلے عالمی لیڈر ہیں۔ وہ سبکدوش ہونے والے وزیر اعظم گورڈن براؤن سے ٹیلی فون بات کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے بھی کیمرون کو مبارک باد کا پیغام ارسال کرتے ہوئے برلن کے دورے کی دعوت دی ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: ندیم گِل

DW.COM