1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کیمرون مجوزہ ریفرنڈم کے لیے ٹوری پارٹی کی حمایت کے متمنی

برطانوی وزیراعظم یورپی یونین میں رہنے یا نکل جانے سے متعلق اپنی مہم کے آغاز سے قبل اپنی جماعت کی حمایت حاصل کرنے لیے یورپی یونین میں اصلاحات کی ڈیل آج پارلیمان میں پیش کر رہے ہیں۔

کیمرون برطانیہ کے یورپی یونین میں رہنے کے حامی ہیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ان کی جماعت اس مہم میں ان کا ساتھ دے گی۔ تاہم ان کی مہم کو پہلا دھچکا اس وقت لگا، جب وزیراعظم کیمرون کی قدامت پسند جماعت کے رہنما اور لندن کے میئر بورس جانسن نے برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج کی حمایت کا اعلان کر دیا۔ ڈیوڈ کیمرون نے اپنی جماعت کے رہنماؤں سے اپیل کی ہے کہ وہ برطانیہ کے یورپی یونین کا رکن رہنے کے حق میں ان کی مہم کا ساتھ دیں۔

اس سے قبل برطانوی وزیراعظم یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ اپنی جماعت کے رہنماؤں کو یورپی یونین کے حق یا مخالفت میں چلائی جانے والی مہم میں شرکت سے نہیں روکیں گے۔

جمعے کے روز ڈیوڈ کیمرون نے یورپی یونین کی سربراہی کانفرنس میں ایک خصوصی ڈیل کی منظوری دلوائی، جس کے تحت برطانیہ کو اس 28 رکنی بلاک میں ایک ’خصوصی حیثیت‘ مل گئی ہے۔

Belgien David Cameron in Brüssel

کیمرون اپنی جماعت کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں

تاہم کیمرون کی کابینہ میں شامل چھ وزراء بشمول وزیرانصاف مائیکل گوو یہ اعلان کر چکے ہیں کہ وہ برطانیہ کی یورپی یونین سے اخراج کی مہم کا ساتھ دیں گے۔

کیمرون کی قدامت پسند جماعت کے اہم رہنما اور پارٹی قیادت کے ایک اہم امیدوار جانسن نے بھی لندن میں اپنی رہائش گاہ کے باہر صحافیوں سے بات چیت میں کہا ہے کہ لندن اور یورپی یونین کے درمیان پائی جانے والی تازہ ڈیل سے برطانیہ اور یورپی یونین کے درمیان تعلقات میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئے گی۔ ڈیلی ٹیلی گراف میں بھی انہوں نے اپنے ایک کالم میں لکھا ہے، ’’یورپی یونین برطانیہ میں عوامی پالیسی کے تقریباﹰ تمام ہی شعبوں میں اپنی اجارہ داری قائم کرتی جا رہی ہے اور یہ ایک نادر موقع ہے کہ اس تعلق کو نئے خطوط پر استوار کیا جائے۔‘‘

برطانوی وزیراعظم اسی تناظر میں اپنی قدامت پسند جماعت میں ایک بڑی داخلی لڑائی سے نبرد آزما ہیں، تاکہ برطانوی ووٹروں کو یہ یقین دلا سکیں کہ ان کی حکومت اور برسلز کے درمیان طے پانے والی ڈیل برطانیہ اور اس کے عوام کے مفاد میں ہے۔