1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

کیلے کی مہاجر بستی میں ’درہ خیبر ‘ ویران

شمالی فرانس میں ’جنگل‘ کے نام سے مشہور مہاجر بستی رفتہ رفتہ ختم کی جا رہی ہے اور اب وہاں موجود آخری چند ایک دکانوں میں شامل ’درہ خیبر کیفے‘ بھی گویا ختم ہونے کو ہے۔

اس مہاجر بستی کے مہاجرین کو دھیرے دھیرے فرانس کے دیگر علاقوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے یہ مہاجر بستی خالی کرانے کے احکامات کے بعد اس عارضی بستی میں ایک طرح سے مستقل بن جانے والی دکانیں ایک ایک کر کے بند ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔

اپریل میں شروع ہونے والا ’درہ خیبر کیفے‘ سبز رنگ کے ایک بڑے سے خیمے میں قائم تھا، جہاں مہاجرین اور امدادی ورکز چائے اور کافی پیتے اور روایتی پاکستانی کھانے کھاتے ملتے تھے، جن میں چٹخارے دار سالن میں بھیگے مٹر اور ساتھ میں زعفرانی چاول شامل تھے۔

اس پاکستانی کیفے کے مالک 33 سالہ سہیل کا کہنا ہے، ’’آج ہمارا مینیو محدود ہے۔ ہم بس اس کیفے کی بندش سے کچھ ہی گھنٹے دور ہیں۔‘‘

سہیل نے اپنا پورا نام، سکیورٹی وجوہات پر نہیں بتایا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ سات اپریل کو ’جنگل‘ پہنچے تھے اور وہ یہاں کی حالت دیکھ کر حیران رہ گئے۔

شمالی فرانس میں اس مہاجر بستی میں وہ مہاجر آباد ہیں، جو چینل سرنگ کے ذریعے فرانس سے برطانیہ پہنچنے کے خواہش مند ہیں۔ ان افراد کی جانب سے ٹرکوں اور ٹرینیوں کی بوگیوں میں چھپ کر غیرقانونی طور پر برطانیہ میں داخل ہونے کی کوششیں تواتر سے دکھائی دیتی ہیں اور ان کوششوں میں متعدد افراد اپنی زندگی کی بازی بھی ہار چکے ہیں۔ اسی تناظر میں فرانس اور برطانیہ کو ملانے والی اس سرنگ پر سکیورٹی کے سخت ترین انتظامات ہیں۔

Frankreich Calais Migranten verlasssen den Jungle (DW/T. Schultz )

یہ مہاجر بستی ختم کی جا رہی ہے

پاکستان سے تعلق رکھنے والے سہیل نے، جو کئی برس تک دبئی میں بہ طور سیلز ایگزیکٹیو کام کر چکے ہیں اور اچھی انگریزی بولتے ہیں، کہا کہ اگلے ہی روز انہوں نے یہاں یہ کیفے شروع کیا، تاکہ وہ کام کرتے رہیں۔

انہوں نے بتایا کہ خیبرپاس کیفے کے قیام میں انہیں دو ہفتے لگے اور اپنے آبائی علاقے کے تناظر میں انہوں نے اس کا نام درہ خیبر رکھا۔

اس کیفے کی دیواروں پر مصر، شام اور سوڈان جیسے ممالک کے جھنڈے ٹانکے گئے تھے، جب کہ دنیا کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو روایتی پاکستانی کھانے کھانے کو ملتے تھے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ کیفے کیلے کی مہاجر بستی میں کمیونٹی سپیرٹ یا برادریوں کے درمیان جوڑ کی ایک علامت کے طور پر دیکھا جاتا تھا، جہاں مختلف رنگوں، نسلوں اور زبانیں بولنے والے افراد مل بیٹھتے تھے۔

سہیل نے بتایا کہ گزشتہ برس طالبان نے اس پر قاتلانہ حملہ کیا تھا، جس میں وہ بچ گیا اور اس کے بعد اس کے قبیلے کے لوگوں نے اسے مشورہ دیا کہ وہ علاقہ چھوڑ کر چلا جائے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ بدھ کے روز تک یہ کیفے ختم کرنے تک کام کرتے رہیں گے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ پاکستان لوٹنے کا خواب دیکھتے ہیں ان کا کہنا تھا، ’میرا خواب یہ ہے کہ میں برطانیہ پہنچ جاؤں۔ میں وہاں کبھی نہیں گیا مگر وہاں کی تصویریں دیکھی ہیں۔ میں وہاں ایک باقاعدہ ریستوران کھولنا چاہتا ہوں اور میں قسمت کے مارے لوگوں کی مدد کرنا چاہتا ہوں۔ ’’میں نئے کیفے کا نام بھی خیبر ہی رکھوں گا۔‘‘