1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

کیلے کا مہاجر کیمپ بالآخر خالی کرا لیا گیا

فرانسیسی حکام نے کہا ہے کہ بدھ کے دن کیلے کا مہاجر کیمپ مکمل طور پر خالی کرا لیا گیا ہے۔ گزشتہ اٹھارہ ماہ سے اس عارضی مہاجر کیمپ میں ہزاروں کی تعداد میں مہاجرین آباد تھے، جن میں سے زیادہ تر برطانیہ جانے کے خواہشمند تھے۔

خبر رساں ادارے اے پی نے فرانسیسی حکام کے حوالے سے چھبیس اکتوبر بروز بدھ تصدیق کر دی کہ جنگل کے نام سے مشہور کیلے کے مہاجر کیمپ کو خالی کرا لیا گیا ہے۔ اس کیمپ میں موجود مہاجرین اور تارکین وطن کو ملک بھر میں بنائے گئے مختلف استقبالیہ سینٹرز میں منتقل کیا گیا ہے، جہاں سے وہ پناہ کی درخواستیں جمع کرا سکیں گے۔

'سیو دی چلڈرن ‘ جنگل کے تنہا بچوں کے بارے میں فکر مند

کیلے کی مہاجر بستی میں ’درہ خیبر ‘ ویران

’جنگل‘ سے مہاجرین کا انخلاء شروع

شمالی بندرگاہی شہر کیلے میں ایک مقامی اہلکار فابیئن بوسیو نے اے پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’اب کیلے کے مہاجر کیمپ میں ایک بھی مہاجر موجود نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا، ’’ہمارا مشن مکمل ہو گیا ہے۔‘‘ بہت سے مہاجرین اس کیمپ کو چھوڑنے سے کترا رہے تھے لیکن حکام نے واضح کر دیا تھا کہ بدھ کی شام تک جو مہاجرین اس کیمپ سے نہیں نکلیں گے، ان کی پناہ کی درخواستوں کو نظر انداز کر دیا جائے گا۔

مقامی میڈیا کے مطابق ایسے مہاجر جو اس کیمپ میں ہی رہنا چاہتے تھے، ان میں سے متعدد نے رات کو ہی اس کیمپ کے کئی حصوں کو آگ لگا دی تھی۔ کیلے کی بندرگاہ سے کچھ سو میٹر ہی دور بنائے گئے اس عارضی کیمپ میں موجود مہاجرین اور تارکین وطن کی کوشش تھی کہ وہ کسی طرح ’انگلش چینل‘ کے راستے برطانیہ پہنچ جائیں۔

اس کیمپ سے رضامندی سے ایک استقبالیہ سینٹر جانے والے پاکستانی مہاجر محمد آفریدی نے اے پی کو بتایا کہ جنگل نامی یہ مہاجر بستی رہنے کے لیے کوئی اچھی جگہ نہیں تھی۔ تاہم اس بیس سالہ نوجوان نے خدشہ ظاہر کیا کہ اب اسے ایک نئے ’جنگل‘ بھی منتقل کیا جا سکتا ہے۔

اس کیمپ کو خالی کرانے کا آپریشن منگل کو شروع کیا گیا تھا۔ ملکی وزارت خارجہ کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ اس تازہ کارروائی کے تحت کیلے کے مہاجر کیمپ سے تین ہزار دو سو بیالیس مہاجرین کو مختلف سینٹرز میں منتقل کیا گیا ہے، جن میں سات سو بہتر بچے اور نو عمر بھی شامل تھے۔ بتایا گیا ہے کہ جب رواں ہفتے کے آغاز پر اس کیمپ کو خالی کرانے کا آپریشن شروع کیا گیا تھا تو اندازے کے مطابق وہاں مہاجرین کی تعداد چھ ہزار سے بھی زیادہ تھی۔

فرانسیسی حکام پہلے بھی اس کیمپ کو خالی کرانے کی متعدد کوششیں کر چکے تھے  لیکن انہیں اس مقصد میں کامیابی نہیں مل سکی تھی۔ اس کیمپ میں آباد زیادہ تر مہاجرین کا تعلق افغانستان اور افریقی ممالک سے تھا۔ اطلاعات کے مطابق چھ تا آٹھ ہزار مہاجرین اور تارکین وطن نے اس کیمپ میں بسیرہ قائم کر لیا تھا۔

Frankreich Evakuierung des Dschungels in Calais (Picture-Alliance/AP Photo/T. Camus)

آتشزدگی کے واقعات میں کسی شخص کے ہلاک ہونے کی خبر نہیں ہے

Frankreich Räumung des Flüchtlingscamps in Calais (Reuters/P. Wojazer)

اس کیمپ سے نکلنے سے قبل کچھ مہاجرین نے وہاں آگ بھی لگا دی

Frankreich Jungle von Calais wird demontiert (picture alliance/AP Photo/T. Camus)

اس کیمپ کو خالی کرانے کا آپریشن منگل کو شروع کیا گیا تھا

امدادی اداروں کے مطابق کیلے میں موجود مہاجرین ایک ئی جگہ جانے سے اس لیے کترا رہے تھے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ انہیں دوسری جگہ منتقل کر کے واپس ان کے ممالک روانہ کر دیا جائے گا۔ ان میں سے بہت سے مہاجرین پرعزم تھے کہ وہ کسی طرح برطانیہ پہنچنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

کیلے کے نواح میں گزشتہ اٹھارہ مہینوں سے قائم اس مہاجر کیمپ کی صورتحال انتہائی مخدوش قرار دی جاتی تھی جبکہ حکام اسے سلامتی کے لیے ایک خطرہ بھی قرار دے چکے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بے ترتیب کیمپ میں نہ تو نکاسی آب کا انتظام تھا اور نہ ہی دیگر بنیادی سہولیات دستیاب تھیں، جس کے باعث اس کیمپ میں وبائی امراض پھیلنے کا اندیشہ بھی موجود تھا۔

DW.COM