1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کیلیفورنیا کی آگ ابھی تک بے قابو ہے

امریکی ریاست کیلیفورنیا کی آگ شدید سے شدید تر ہوتی جا رہی ہے۔ کئی دوسری ریاستوں اور چند ممالک سے بھی فائر فائٹرز اس آگ کو بجھانے کے لیے کیلیفورنیا پہنچ گئے ہیں۔

امریکی ریاست کیلیفورنیا کی جنگلاتی آگ کی لپیٹ میں آ کر ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 35 تک پہنچ گئی ہے۔ پہلے یہ تعداد چھتیس بتائی گئی تھی۔ انتظامی حکام کا کہنا ہے کہ آتشزدگی کا شکار علاقوں میں زخمیوں اور ممکنہ طور پر جلے ہوئے افراد کی نعشوں کی تلاش جاری ہے۔ یہ ٹیمیں اب ایسے علاقوں تک پہنچ رہی ہیں، جہاں پہلے آگ کی وجہ سے داخل ہونا ناممکن تھا۔

کیلیفورنیا کی جنگلاتی آگ، دس ہلاک اور تقریباً ایک سو زخمی

جنگل جلانا شریعت کی رُو سے حرام ہے، انڈونیشی علماء کا فتویٰ

’جنگلاتی آگ اور گلوبل وارمنگ میں ربط ہے‘

کینیڈا، آگ پھیلتی ہوئی سیسکیچوان پہنچ گئی

اس تلاش کے ساتھ ساتھ مسلسل پھیلتی آگ کے رقبے کو کنٹرول کرنے پر بھی ترجیحی بنیادوں پر کام ہو رہا ہے۔ بظاہراب تک اس میں اب تک کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔ ریاست کے شمالی حصے میں اس آگ کو لگے پانچ دن ہو گئے ہیں جس کے سبب تقریباً نوے ہزار افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔ ساڑھے پانچ ہزار سے زائد مکانات جل چکے ہیں۔ آگ اس وقت سترہ مختلف مقامات پر لگی ہوئی ہے۔

USA Wäldbrände in Kalifornien (Reuters/S. Lam)

کیلیفورنیا کی جنگلاتی آگ سے ساڑھے پانچ ہزار سے زائد مکانات جل چکے ہیں

آگ پر قابو پانے کے لیے نو ہزار سے زائد فائر فائٹرز جدوجہد میں مصروف ہیں۔ ایک ہزار سے زائد فائر انجن مسلسل پانی کی سپلائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ فضا سے بھی ہوائی جہاز اور ہیلی کاپٹر پانی اور آگ بجھانے والے مادے پھینک  رہے ہیں۔ کئی رضاکار بھی آگ بجھانے والے عملے کے ساتھ شامل ہیں۔

وسیع پیمانے پر پھیلی اس آگ پر قابو پانے کے لیے امریکی ریاستوں نیواڈا، واشنگٹن، اڈاہو، مونٹانا، نیو میکسیکو اور اوریگن سمیت کئی دوسری ریاستوں کے فائر بریگیڈز کیلیفورنیا پہنچ کر آگ پر قابو پانے کی کوششوں میں شامل ہیں۔ آسٹریلیا اور کینیڈا سے بھی آگ پر قابو پانے کے ماہرین اور فائر فائٹرز کیلیفورنیا پہنچ گئے ہیں۔

گزشتہ اتوار سے لگی اس آگ نے مکانات کے ساتھ ساتھ بازاروں اور مارکیٹوں کو راکھ میں تبدیل کر دیا ہے۔ کیلیفورنیا کے ایمرجنسی آپریشنز کے انچارج مارک گیلارڈوچی کا کہنا ہے کہ ابھی آگ سے پیدا ہنگامی صورت حال ختم نہیں ہوئی ہے۔ حکام اور دیگر افراد اس آگ کی شدت سے پریشان ہیں کیونکہ اس کا رُخ مسلسل تبدیل ہو رہا ہے۔ تیز ہوا جس طرف رخ کرتی ہے، آگ کے شعلے اُسی جانب لپک جاتے ہیں۔

ویڈیو دیکھیے 01:03

پرتگال میں جنگلاتی آگ، 62 ہلاک

DW.COM

Audios and videos on the topic