1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کیری کے الوداعی دورہٴ یورپ میں ان کے لیے اعلیٰ جرمن ایوارڈ

امریکی وزیرخارجہ جان کیری اپنے الوداعی دورہٴ یورپ پر گزشتہ روز جرمنی پہنچے ہیں، جہاں انہیں مختلف شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو بڑھانے کے اعتراف میں ایک اعلیٰ جرمن ایوارڈ دیا گیا۔

جنوری کی 20 تاریخ کو امریکا میں نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنا عہدہ سنبھال لیں گے۔ امریکی صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی غیرمتوقع کامیابی کی وجہ سے امریکا کے یورپی اتحادیوں میں بے یقینی پیدا ہوئی ہے اور نیٹو کے مستقبل پر بھی کئی طرح کے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس دورے میں کیری کی کوشش ہے کہ یورپی ممالک کو آئندہ بھی امریکی تعاون کا یقین دلایا جا سکے۔

ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ وہ اوباما دور میں طے پانے والے متعدد معاہدوں کو ختم کر دیں گے، جن میں ایران کے ساتھ طے پانے والی جوہری ڈیل اور ٹرانس پیسیفیک پارٹنرشپ معاہدہ بھی شامل ہیں۔ ممکنہ طور پر رواں ہفتے ٹرمپ آئندہ وزیر خارجہ کے نام کا اعلان بھی کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ٹرمپ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ نیٹو میں شامل رکن ریاستوں کو اپنے اپنے حصے کا سرمایہ فراہم کرنا چاہیے، ورنہ کسی مشکل میں وہ امریکا سے مدد کی توقع نہ رکھیں۔

Deutschland Ordensverleihung an John Kerry in Berlin (Getty Images/AFP/J. Macdougall)

کیری اپنے الوداعی دورہ یورپ میں سب سے پہلے جرمنی پہنچے

جان کیری نے اپنے اس الوداعی دورہٴ یورپ کا آغاز جرمنی سے کیا، جہاں انہوں نے اپنے جرمن ہم منصب فرانک والٹر اشٹائن مائر سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں شام اور یوکرائن کے علاوہ نیٹو اور انسدادِ دہشت گردی کے موضوعات پر بات چیت کی گئی۔

برلن میں امریکی وزیر خارجہ کو ماحولیاتی تبدیلیوں اور شدت پسند گروپ ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے انسداد کے لیے قریبی تعاون پر اعلیٰ جرمن اعزاز ’کراس آف میرٹ‘ بھی دیا گیا۔

ایوارڈ دینے کی اس تقریب میں اشٹائن مائر نے کہا کہ کیری نے ’امریکا کا بہترین چہرہ‘  پیش کیا۔ اشٹائن مائر نے دوسری عالمی جنگ کے بعد سن 1950 کی دہائی میں برلن میں اپنے بچپن کے دنوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ بین الاوقیانوسی تعاون عالمی ترقی کے لیے انتہائی اہم ہے۔

منگل کے روز جان کیری نیٹو وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں، جس میں نیٹو کے مستقبل اور مختلف خطرات کے مقابلے کی حکمتِ عملی پر بات چیت کی جائے گی۔