1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کیری بھارت میں، تجارتی تعلقات اور پاکستان کے ساتھ کشیدگی، اہم موضوعات

امریکی وزیرخارجہ جان کیری اور وزیر اقتصادیات پینی پریٹزکر نے اپنا دو روزہ دورہء بھارت شروع کر دیا ہے۔ اس دورے میں ان کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید فروغ دینا ہو گا۔

اپنے اس دورے میں ان دونوں اعلیٰ امریکی حکومت شخصیات کی کوشش ہو گی کہ بھارتی رہنماؤں کو پاکستان کے ساتھ کشمیر کے موضوع پر مذاکرات کے لیے بھی آمادہ کریں۔

جان کیری پیر کی شب امریکا اور بھارت کے درمیان اسٹریٹیجک اور تجارتی مذاکرات کے لیے نئی دہلی پہنچے۔ اس سے قبل انہوں نے بنگلہ دیش میں بھی ایک روز قیام کیا۔ اپنے دورہ ڈھاکا کے دوران جان کیری نے بنگلہ دیشی قیادت سے حالیہ دہشت گردانہ حملوں اور وہاں انسانی حقوق کی صورت حال کے موضوعات پر بات چیت کی۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کے موضوع پر کشیدگی، افغانستان میں امن کے حوالے سے خدشات کے موضوعات جان کیری اور قومی سلامتی کے بھارتی مشیر اجیت ڈووال کے درمیان منگل کو ہونے والی بات چیت میں اہم رہیں گے۔ بدھ کے روز جان کیری بھارتی وزیراعظم نیرندر مودی سے بھی ملیں گے۔

کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان گزشتہ کئی دہائیوں سے کشیدگی کی وجہ ہے، جس کے دوحصے لائن آف کنٹرول کے ذریعے پاکستان اور بھارت میں بٹے ہوئے ہیں۔ 80 کی دہائی کے آخر سے بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں علیحدگی کی ایک مسلح تحریک جاری ہے، جسے بھارتی سکیورٹی فورسز کچلتی آئی ہیں۔

USA Bangladesch Kerry bei Hasina

کیری ایک روز بنگلہ دیش میں بھی ٹھہرے

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں تشدد کی تازہ لہر گزشتہ ماہ اس وقت شروع ہوئی جب ایک علیحدگی پسند کمانڈر برہان وانی سکیورٹی فورسز کے ساتھ ایک جھڑپ میں ہلاک ہو گیا۔ اس واقعے کے بعد کشمیر بھر اور خصوصاﹰ سری نگر میں مظاہرین بھارت مخالف ریلیاں نکال رہے ہیں، جب کہ ان مظاہروں کو روکنے کے لیے حکومت نے وہاں کرفیو نافذ کر دیا تھا۔ مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں اب تک قریب ستر افراد ہلاک ہو چکی ہے۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اس کشیدگی کا الزام پاکستان پر عائد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ پاکستان کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکیں گے۔ بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر اپنی تقریر میں انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اب کی حکومت پاکستانی علاقوں میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالیوں کو بھی عالمی سطح پر اجاگر کرے گی۔

اس حوالے سے نئی دہلی حکومت پاکستان کی جانب سے کشمیر کے مستقبل کے حوالے سے مذاکرات کی دعوت کو مسترد کر چکی ہے۔ نئی دہلی کا موقف ہے کہ پاکستان کے ساتھ صرف اور صرف سرحد پار دہشت گردی کے موضوع پر بات چیت کی جائے گی۔ پاکستان سرحد پار دہشت گردی سے متعلق بھارتی الزامات کو مسترد کرتا ہے۔

اپنے دورہ بھارت میں امریکی وزیرخارجہ کی کوشش ہو گی کہ وہ نئی دہلی حکومت کو پاکستان کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ کر سکیں، تاکہ جوہری طاقت کے حامل ان ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی واقع ہو۔