1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کیتھولک ورلڈ یوتھ ڈے کا اختتام

سولہ اگست سے شروع ہونے والے چھ روزہ ورلڈ یوتھ ڈے کا اختتام ہو گیا ہے۔ خراب موسم کے باوجود الوداعی دعائیہ تقریب سے پوپ بینیڈکٹ شانزدہم نے خطاب کیا۔ ورلڈ یوتھ ڈے کا میزبان اسپین کا شہر میڈرڈ تھا۔

default

اتوار کی شام پوپ بینیڈکٹ شانزدہم نے ہسپانوی دارالحکومت میڈرڈ میں ورلڈ یوتھ ڈے کے آخری روز لاکھوں شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے انہیں تلقین کی کہ عقیدے سے متعلق جس پرمسرت احساس کو انہوں میڈرڈ میں چھ ایام کے دوران حاصل کیا ہے، وہ انتہائی قیمتی سرمایہ ہے۔ پوپ کے مطابق اب اس احساس کو اپنے اپنے ملکوں میں جا کر پھیلانے کا مرحلہ آن پہنچا ہے اور ورلڈ یوتھ ڈے کے شرکاء اس کے پھیلاؤ میں عملی طور پر مصروف ہوجائیں تا کہ محبت اور امن کا فروغ ہو سکے۔ الوداعی خطاب کے بعد کیتھولک مسیحیوں کے روحانی لیڈر ویٹیکن سٹی کے لیے روانہ ہو گئے۔ الوداعی تقریب کا مقام Cuatro Ventos airbase تھا۔

Weltjugendtag Madrid Messe am Flughafen Cuatro Vientos

ورلڈ یوتھ ڈے کی تقریبات چھ ایام پر محیط تھیں

پوپ بینیڈکٹ شانزدہم نے ورلڈ یوتھ ڈے کے دوران اسپین میں ہونے والی سماجی دستوری تبدیلیوں کے تناظر میں حکومت اور لیڈران پر تنقید بھی کی۔ پوپ نے کہا کہ اسپین میں کیتھولک مذہب کی روح طلاق کے تیز رفتار عمل، اسقاط حمل میں سہولت اور ہم جنس پرستوں کی شادیوں کی وجہ سے متاثر ہے۔ پوپ نے اسپین میں معاشی صورت حال سے پریشان حال لوگوں اور خاندانوں کے ساتھ اظہار ہمدری بھی کیا۔ اسپین میں اس وقت شرح بے روزگاری بیس فیصد سے زائد خیال کی جاتی ہے۔

اتوار کے روز ورلڈ یوتھ ڈے کی اختتامی تقریبات کو شدید طوفان اور باد و باراں کا سامنا رہا۔ تقریر کے دوران تیز رفتار ہوا کی وجہ سے پوپ کی ٹوپی بھی اڑ گئی۔ ان کی لکھی ہوئی تقریر کے کاغذ بھی بھیگ گئے۔ بادلوں کی گھن گرج سے سارا علاقہ لرزتا رہا۔ کئی عارضی عبادت کے مقامات تیز ہوا سے شدید متاثر ہوئے۔ بارش سے قبل میڈرڈ میں لاکھوں زائرین کو شدید گرمی کا بھی سامنا رہا۔

Spanien Papst Benedikt XVI.

پوپ بینیڈکٹ شانزدہم نے آخری روز خصوصی خطاب فرمایا

سترہ اگست کو ورلڈ یوتھ ڈے کے لیے حکومت کی جانب سے فراہم کیے جانے والے سرمائے یعنی پبلک فنڈنگ کے خلاف سیکولر ہسپانوی عوام نے پرزور مظاہرے کا اہتمام کیا تھا۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپ کی وجہ سے کم از کم گیارہ افراد زخمی ہوئے۔ پولیس نے آٹھ مظاہرین کو حراست میں بھی لیا۔

یورپی ملک اسپین کو دوسری مرتبہ ورلڈ یوتھ ڈے کی میزبانی کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔ اس سے قبل ہسپانوی شہر سنتیاگو ڈی کومپوسٹیلا میں سن 1989 میں ورلڈ یوتھ ڈے کا انعقاد ہو چکا ہے۔ سنتیاگو ڈی کومپوسٹیلا کا شہر کیتھولک عقیدے کے مسیحیوں میں انتہائی عقیدت کا حامل ہے۔

اگلا ورلڈ یوتھ ڈے سن 2013 میں برازیل کے مشہور بندر گاہی شہر ریو ڈی جینریو میں شیڈیول کیا گیا ہے۔ اس شہر کے لیے ورلڈ یوتھ ڈے کی میزبانی کا اعلان پوپ بینیڈکٹ نے کیا۔ ان کے مطابق اگلے عالمی دن میں 192 اقوام کے نمائندے شرکت کریں گے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس