1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کیتھولک تعلیمی مراکز میں ہزاروں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی، ڈچ آزاد کمیشن

ایک ڈچ آزاد کمیشن نے رومن کیتھولک کلیسا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ سن 1945ء سے اب تک ہالینڈ میں کلیسا کے زیرنگرانی تعلیمی اداروں میں ہزاروں بچوں کو جنسی زیادتیوں کا نشانہ بنایا گیا۔

default

جمعے کے روز سامنے آنے والے اس بیان میں کیتھولک کلیسا پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ ان الزامات کے جواب میں وہ ان معاملات پر ’پردہ پوشی‘ کر رہا ہے جبکہ ’چپ سادھنے کی روایت‘ سے بھی ہٹنے کو تیار نہیں۔

دوسری جانب چرچ رہنماؤں نے آزاد کمیشن کی اس رپورٹ کے ذریعے سامنے آنے والے انکشافات پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کیتھولک کلیسا کے لیے ’باعث ندامت‘ ہیں اور اس پر وہ ’دلی معذرت‘ چاہتے ہیں۔

ڈچ کمیشن کے مطابق صرف 1945ء سے 1981ء کے عرصے میں 10 ہزار تا 20 ہزار بچوں کو کیتھولک چرچ کے زیرنگرانی چلنے والے یتیم خانوں اور بورڈنگ اسکولوں میں کم، درمیانے اور شدید درجے کی جنسی زیادتیوں کا نشانہ بنایا گیا، جن میں ’ریپ‘ بھی شامل ہے۔

Vatikan Papst Benedikt XVI in Rom

پاپائے روم ان واقعات کی بھرپور مذمت کے علاوہ متاثرین سے معذرت بھی کر چکے ہیں

کمیشن کے مطابق، ’دسیوں ہزار بچوں کو مختلف طرح کی جنسی زیادتیوں کا سامنا کرنا پڑا اور یہ واقعات سن 1945ء تا سن 2010 کے درمیان ہوئے۔ زیادہ تر کیسز درمیانے درجے کی جنسی زیادتیوں پر مبنی ہیں، جن میں چھونا شامل ہے، تاہم کئی ہزار واقعات ریپ کے بھی ہوئے ہیں۔‘

کمیشن نے الزام عائد کیا کہ کیتھولک پریسٹس اور اس سے منسلک عام افراد نے ایک منظم انداز سے بچوں کو جنسی ہوس کا نشانہ بنایا اور چرچ نے اپنی ساکھ کو بچانے کے لیے ان معاملات پر ’پردہ پوشی‘ کی۔

واضح رہے کہ گزشتہ کچھ برسوں میں مختلف یورپی ممالک اور امریکہ میں کیتھولک چرچ کے زیرنگرانی چلنے والے تعلیمی مراکز میں ماضی میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتیوں کے واقعات منظر عام پر آنے کے بعد کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ بینیڈکٹ شانزدھم کو متاثرین سے ’معافی‘ مانگنا پڑی تھی۔

واضح رہے کہ یہ ڈچ کمیشن دو کیتھولک باڈیز ’دی کانفرنس آف بشپس‘ اور ڈچ مذہبی کانفرنس کے حکام پر مشتمل تھا۔ اس کمیشن نے مختلف یورپی ممالک اور امریکہ میں کیتھولک تعلیمی مراکز میں بچوں کے ساتھ زیادتیوں کی واقعات کے انکشافات کے بعد ہالینڈ میں تفتیش کا آغاز کیا تھا۔

رپورٹ عاطف توقیر

ادارت ندیم گِل

DW.COM