1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

کیتھرین بیگے لو نے آسکر میں تاریخ رقم کر دی

اس مرتبہ آسکرکی خاص بات یہ رہی کہ کیتھرین بیگےلو نے مردوں کو پیچھے چھوڑ دیا، اداکارہ ساندرا بولاک ناکام بھی رہیں اور کامیاب رہیں اور کرسٹوف والٹز کی چمک دمک دیکھنے کے لائق تھی۔

default

ہر سال فلمی ایوارڈز دیے جانے کا آغاز جرمنی سے ہوتا ہے۔ اس حوالےسے برلینالے میں دیے جانے والے انعامات پہلے فلمی ایوارڈز ہوتے ہیں اور پھر باری آتی ہے آسکرز کی۔ پھر یہ سلسلہ فرانس، سوئٹزرلینڈ، اٹلی سمیت دیگر ملکوں میں پھیل جاتا ہے۔ تاہم فلمی صنعت میں آسکر کا وہ مقام ہے جو گاڑیوں میں مرسیڈیز کا یعنی، معروف اور معتبر ترین۔ اکیاسی سال سے یہ ایوارڈز دیئے جا رہے ہیں۔ لاس اینجلیز کے کوڈک تھیئٹر میں منقعد ہونے والی یہ تقریب آدھے گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوئی۔ اداکارSteve Martin اور Alec Baldwin تقریب کے میزبان تھے اور اس دوران ان دونوں نے مہمانوں کے چہروں پر کئی بار مسکراہٹ بکھیری۔

Christoph Waltz, Oscar

کرسٹوف والٹز کا تعلق آسٹریا سے ہے

آسکر ایوارڈز کی تقریب کی ابتداء بہترین معاون کردار کے ایوارڈ سے ہوئی۔ سرخ لباس پہنے ہوئے مشہور اداکارہ یپنولوپے کروز نے لفافہ کھولا تو اس میں نام تھا کرسٹوف والٹزکا۔ آسٹریا سے تعلق رکھنے اداکار کرسٹوف والٹزکویہ ایوراڈ فلم ' انگلوریئس باسٹرڈز'میں ان کے کردار پر دیا گیا۔ Quentin Tarantino کی بنائی ہوئی اس فلم میں والٹزنے خفیہ پولیس کے ایک افسر کا کردار ادا کیا ہے۔ انعام وصول کرتے وقت والٹز نے اس فلم میں اپنے ساتھی اداکاروں بریڈ پٹ اور ڈیانا کروگر کا شکریہ ادا کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے ہدایت کار Tarantino کے غیر روایتی اور تخیلقی کام کی پذیرائی بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ ان سب کے تعاون کے بغیر یہ سب کچھ ممکن نہیں تھا۔بہترین معاون اداکارہ کا ایوارڈ سیاہ فام اداکارہ مونیق کو فلم 'پریشیئس' میں ان کے کردار پردیا گیا۔ ماہرین کے مطابق مونیق کو پینالوپے کروز کی جانب سے سخت مقابلے کا سامنا تھا۔ وہ بہر حال گزشتہ برس اس کیٹیگری میں آسکرحاصل کر چکی ہیں۔

Oscars 2010 Flash-Galerie

لاس اینجلیز کے کوڈک ٹھیٹر میں بیاسی ویں آسکر ایوارڈ کی تقریب منقعد ہوئی

Michael Hanekes کی فلم ’دی وائٹ ربن‘ کو دو مختلف شعبوں میں نامزد کیا گیا تھا لیکن اس فلم کو خالی ہاتھ ہی جرمنی واپس لوٹنا پڑا۔ گو کہ وائٹ ربن بھی انگریزی کے علاوہ دیگر زبانوں کی فلموں میں شامل تھی لیکن جیوری کی جانب سے یہ انعام ارجنٹائن کے ہدایت کار خوان ہوزے کامپانیلا کی فلم The Secret in Their Eyes کو دیا گیا۔

بہترین اداکار کے لئے پانچ ناموں کا انتخاب کیا گیا۔ یہ ایوارڈ جیف بریجز کو فلم کریزی ہارٹ میں شراب نوشی سے بیمار ایک شخص کے کردار پر دیا گیا۔ شان پین نے بہترین اداکارہ کے نام کا اعلان کیا۔ اس کیٹیگری کے لئے ساندرا بولاک کو ’ The Blind Side‘ Helen Mirren کوThe Last Station ، Carey Mulligan کو An Education ،Gabourney Sidibe کو Precious اور Merryl Streep کو Julie & Julie میں ان کے کرداروں پر نامزذ کیا گیا تھا۔ ساندار بولاک کا یہ پہلا آسکر ایوارڈ تھا۔

Oscars 2010 Kathryn Bigelow NO FLASH

کیتھرین بیگےلو تاریخ کی پہلی خاتون ہدایتکارہ ہیں جنہیں آسکر ملا ہے

دلچسپ بات یہ ہے کہ آسکر کی تقریب باقاعدہ طورپر شروع ہونے سے قبل ساندرا بولاک نے ایک عجیب انداز میں خود ہی اپنا استقبال کر کے اپنے اور دیگر لوگوں کے چہروں کو سرخ کر دیا۔ انہیں فلم All About Steve میں ان کی ناقص ترین کارکردگی پر گولڈن رسپبری ایوارڈ دیا گیا۔ بولاک نے ایوارڈ وصول کرتے وقت وہاں موجود افراد سے کہا کہ وہ ان سے وعدہ کریں کہ ایک مرتبہ وہ فلم All About Steve ضرور دیکھیں گے۔ خراب ترین فلم 'ریونج آف دی فالن' رہی ۔ ساندرا بولاک پہلی اداکارہ ہیں، جو ایک ہی وقت میں بہترین اور خراب ترین اداکارہ قرار پائیں۔ جوناس برادرز مشترکہ طور پر خراب ترین اداکار قرار پائے۔

بیاسی ویں آسکر ایوارڈز کی تقریب میں بہترین فلم کے لئے کل دس فلمیں نامزد کی گئی تھیں۔ ان میں اواتار اورThe Hurt Locker کے درمیان سخت مقابلہ تھا۔ کیتھرین بیگے لو تاریخ کی پہلی خاتون ہدایتکارہ ہیں، جنہیں آسکر دیا گیا۔ بیگے لوکو ان کی فلم ’ The Hurt Locker ‘ پر یہ ایوراڈ دیا گیا۔ عراق جنگ کے موضوع پر بنائی گئی اس فلم کو بہترین فلم ، بہترین اسکرین پلے سمیت چھ آسکرز دیئے گئے۔ یہ عراق میں تعینات امریکی آرمی کے بم ڈسپوزل اسکواڈ کی کہانی ہے۔ پال اوٹوسن نے اسی فلم کے میوزک کی تدوین اور مکسنگ پر دو آسکر ایوارڈ حاصل کئے۔ اب تک صرف تین خواتین ڈائریکٹر ایسی ہیں ، جن کے حصے میں آسکر کی نامزدگیاں آئیں ہیں۔ 58 سالہ بیگےلو کی یہ فلم اردن کے صحراؤں میں فلمائی گئی ہے۔ یہ فلم تقریباً تین سال میں مکمل ہوئی اور اس پر 15 ملین ڈالر لاگت آئی۔ امید کی جا رہی تھی کہ James Cameron کی فلم ’اواتار‘ پر آسکر کی بارش ہو گی تاہم لو بجٹ فلم ’The Hurt Locker‘ نےباسک آفس کی کامیاب ترین فلم اواتار کو پیچھے دھکیل دیا۔ جیمز کیمرون کو بھی اندازہ تھا کہ ہدایتکاری کے شعبے میں وہ اپنی سابقہ اہلیہ کیتھرین بیگے لو سے پیچھے رہ جائیں گے۔ اواتار صرف تین آسکرز حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی اور یہ اسے تکنیکی شعبے میں دیئے گئے۔

OscarModeratoren.jpg

اسٹیو مارٹن اور الیک بالڈون کی میزبانی سے تقریب کے شرکاء بہت محظوظ ہوئے

بہترین دستاویزی فیچر فلم کے لئے پانچ نامزدگیاں تھیں اور جیوری کے فیصلے کے مطابق بہترین دستاویزی فیچر فلم ' The Cove' قرار پائی۔ جاپان میں ڈولفن اور ویل مچھلیوں کے شکار پر بنائی گئی اس فلم پر الزامات عائد کئے جا رہے تھے کہ یہ جاپان کے خلاف ہے۔ اس فلم میں مرکزی کرادار ادا کرنے والے Rick O´Barry نے کہا اس فلم کا مقصد جاپانی عوام کو وہ چیز دکھانا ہے، جوان کا ملکی میڈیا انہیں نہیں دکھاتا۔

امریکہ کی مشہور زمانہ اکیڈیمی آف موشن پکچرز، آرٹس اینڈ سائنس کے زیر اہتمام آسکر ایوارڈ تقریب منقعد ہوئی۔ یہ تقریب تین گھنٹے تک جاری رہی۔ جرمن فلموں کوکل تیرہ مختلف شعبوں میں نامزذ کیا گیا تھا۔ فلمی صنعت کے نقادوں کے مطابق ہر لحاظ سے یہ ایک انتہائی کامیاب تقریب تھی۔ فلمی ستاروں اور ان کے ملبوسات کی چمک دمک نے فوٹو گرافروں کو مصروف رکھا۔ جب بھی کسی فلمی ستارے نے ریڈ کارپٹ پر قدم رکھا تووہاں پر موجود فلمی صحافیوں کے درمیان اس کے لباس کے بارے میں بحث شروع ہو گئی۔ بہرحال انٹرنیٹ پر آسکرز کی تقریب میں شرکت میں کرنے والی تمام اداکاراؤں کی تصاویر موجود ہیں، جہاں آپ ان کے لباس کے بارے میں اپنی رائے دے سکتے ہیں۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت : مقبول ملک