1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کیتھرین ایشٹن کی سیاسی و نجی زندگی

یورپی یونین کے خارجہ امور کی نئی سربراہ ترپن سالہ کیتھرین مارگریٹ ایشٹن کا تعلق برطانیہ سے ہے اور وہ وزیراعظم گورڈن براون کی قریبی حلیف سمجھی جاتی ہیں۔

default

برطانوی لیبر پارٹی سے منسلک، کیتھرین، یونین میں بطور تجارتی کمشنر کے طور پر کام کررہی ہیں جبکہ اس سے قبل برطانوی حکومت میں مختلف عہدوں پر بھی فائز رہ چکی ہیں۔

کیتھرین، یورپی یونین کے خارجہ امور کےنگران سربراہ، خاوئرسولانا کی جگہ لیں گی۔ تاہم یونین میں اصلاحات کے لزبن معاہدے کے بعد اب اپنے پیش رو کے مقابلے میں ان کے پاس زیادہ اختیارات اور وسائل دستیاب ہوں گے۔ جبکہ یونین کے خارجہ امور کےنگران سربراہ کی پوزیشن ختم کر دی جائے گی۔

خارجہ امور سے متعلق کیتھرین کو بہت زیادہ تجربہ حاصل نہیں، اپنے سیاسی کیریئر میں انہوں نے زیادہ کام تعلیم، انصاف اور انسانی حقوق سے متعلق شعبوں میں کیا ہے۔

سال دوہزار ایک میں کیتھیرین کو برطانیہ کی پارلیمانی نائب سیکریٹری مملکت برائے تعلیم و ہنر مقرر کیا گیا تھا۔ تین سال بعد، سال 2004ء میں کیتھیرین کو محکمہ دستوری امور میں اسی درجے کا عہدہ سونپا کیا گیا تھا، جہاں ان کا واسطہ انسانی حقوق، عدالتی نظام اور مساوات جیسے معاملات سے رہا۔

تین اکتوبر سال 2008ء کو برسلز میں پہلی خاتون تجارتی کمشنر کا عہدہ حاصل کرنے کے لئے کیتھرین کو ابتدا میں مشکلات کا سامنا رہا۔ بین الاقوامی تجارتی میدان میں نہ ہونے کے برابر تجربہ ان کی راہ میں رکاوٹ بنا رہا۔ تاہم یورپی پارلیمان کی تجارتی کمیٹی میں درخواست جمع کروانے اور بعد ازاں اس کی توثیق کے بعد، برطانوی پارلیمان میں بھی انہیں یہ عہدہ دینے کی حمایت میں رائے گئی۔

Catherine Ashton EU Handelskommissarin

کیتھرین کو خارجہ امور سے متعلق معاملات پربہت زیادہ تجربہ حاصل نہیں

برطانوی پارلیمان کے ایوان بالا میں یونین میں اصلاحات کے لزبن معاہدے کی منظوری میں ان کا کردار نمایاں ہے۔ یونین میں بطور تجارتی کمشنر کام کرتے ہوئے کیتھیرین چین اور روس جیسی عالمی طاقتوں کے ساتھ اہم تجارتی معاہدے طے کرچکی ہیں۔

یورپی یونین کی خارجہ امور کی نئی سربراہ منتختب ہونے والی کیتھیرین مارگریٹ ، نجی زندگی میں پانچ بچوں کی ماں ہیں جبکہ ان کے شوہر، پیٹر کیلنر پیشہ کے اعتبار سے صحافی ہیں۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM