1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

کیا یونس اور مصباح ساٹھ سالہ تاریخ بدل پائیں گے؟

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے مابین بدھ کو ونڈ سر پارک پر شروع ہو نے والا تیسرا اور آخری ٹیسٹ دنیائے کرکٹ کے دو عظیم کھلاڑیوں یونس خان اور مصباح الحق کا الوداعی میچ ہے لیکن پاکستان کے لیے اس سے بھی بڑی بات کچھ اور ہے۔

ساٹھ برس سے ویسٹ انڈیز جانے والی پاکستان کی ہر کرکٹ ٹیم وہاں سے خالی ہاتھ ہی واپس لوٹی ہے۔ موجودہ سیریز بھی میزبان ٹیم نے زبردست فائٹ بیک کرتے ہوئے گزشتہ ہفتے بارباڈوس ٹیسٹ جیت کر 1-1 سے برابر کردی تھی۔ اب فاتح کا فیصلہ روسو شہر میں ہونا ہے، جو جزیرے ڈومینکا کا دارالحکومت ہے اور 'پاریٹس آف کیربین' کے وہاں فلمائے جانے کے بعد سے اب دنیا کے لیے اجنبی نہیں رہا۔

ڈومینکا نہ تو جمیکا کی طرح بڑا جزیرہ ہے اور نہ ہی بارباڈوس کی طرح خوشحال اور پھر اپنے فرانسیسی پس منظر کی وجہ سے اس کی ٹیسٹ کرکٹ سے وابستگی بھی زیادہ گہری نہیں۔ وہاں 2009ء  میں پہلا ٹیسٹ بھارت اور ویسٹ انڈیز کے درمیان بارش نے ڈرا کرا دیا تھا۔ امپائر بلی ڈاکٹرو اس علاقے کا عالمی کرکٹ میں واحد حوالہ سمجھے جاتے ہیں۔ شہر روسو باقی دنیا سے اتنا پیچھے ہے کہ دو دن پہلے جب میچ کی کوریج کےلئے وہاں آئے ہوئے ایک غیرملکی کو دل کی تکلیف ہوئی تو یہ عقدہ کھلا کہ پورے ملک میں دل کا کوئی ڈاکٹر ہی نہیں۔

پچ پر گھاس ؟

ونڈسر پارک کی پچ پر اب تک چار ٹیسٹ کھیلے گئے ہیں اور یہ اسپنرز کے لیے سازگار سمجھی جاتی ہے۔ اس پر تین برس پہلے زمبابوے کے خلاف میچ میں ویسٹ انڈیز کے مشکوک ایکشن کے حامل آف اسپنر شین شلینگفورڈ نے دس وکٹیں لی تھیں۔ دو روز پہلے پچ پر موجود سرسبز گھاس کو اب قدرے کم کیا جا رہا ہے۔ پاکستانی کپتان مصباح الحق کا خیال ہے کہ ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنا ہوگی کیونکہ پاکستان برج ٹاون میں پانچویں دن بیٹنگ کا مزہ چکھ چکا ہے۔ مصباح کے مطابق یہ جمیکا اور بارباڈوس سے مختلف اور اچھی بیٹنگ پچ ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ڈومینکا کا مرطوب موسم بھی کرکٹ پر مہربان رہے گا؟

پاکستان ٹیم میں تبدیلی

دوسرے ٹیسٹ میں دوسرا اسپنر کھلا کر پاکستان نے اپنا پاوں خود کلہاڑی کے نیچے رکھا تھا لیکن اب مصباح کے لیے تین جمع ایک فارمولے کی طرف واپس جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا۔ پاکستانی کپتان کو اس دورے میں بھی پانچویں باولر کی کمی شدت سے محسوس ہو رہی ہے لیکن سلیکٹرز نے مصباح کے محمد حفیظ کو ویسٹ انڈیز بھجوانے کے اصرار پر بالکل کان نہیں دھرا۔ ذارئع کے مطابق ٹیم میں دو تبدیلیاں متوقع ہیں۔ وہاب ریاض، شاداب خان کی جگہ لیں گے جو دوسرے ٹیسٹ میں 145رنز دیکر ایک وکٹ لے سکے تھے جبکہ احمد شہزاد کو ڈراپ کر کے اظہر علی کے ہمراہ شان مسعود سے اوپننگ کرائی جا سکتی۔

یونس، مصباح، جذبات اور سنگدلانہ تاریخ

اٹلانٹنک اور کیربین سمندروں کی جھاگ اڑاتی اونچی اونچی لہروں کے شہر روسو میں اگلے پانچ دن تک جذبات کا ایک سمندر پاکستانی ڈریسنگ روم میں بھی ٹھاٹھیں مارتا دکھائی دے گا۔ یونس اور مصباح الحق کا یہ الوداعی میچ ہے، جو پاکستانی تاریخ کی سب سے کامیاب بیٹنگ جوڑی ثابت ہوئی۔ دونوں کی بیٹنگ پارٹنرشپ میں اب تک ریکارڈ 3205 رنز اور 15 سینچریاں سٹینڈ ہو چکے ہیں۔ دونوں پاکستان کی اڑتالیس فتوحات کا حصہ رہے ہیں۔ مصباح سے جب پریس کانفرنس میں پوچھا گیا کہ آیا اس موقع پر ٹیم جذبات کی رو میں تو نہیں بہہ جائے گی تو اس پرکپتان کا کہنا تھا کہ میرے اور یونس کے لئے تو یہ زیادہ تحریک کا باعث ہوگا اور امید ہے کہ ساتھی کھلاڑیوں کے لئے بھی ایسا ہی ہوگا۔

پاکستان ٹیم کا یہ ویسٹ انڈیز کا آٹھواں دورہ ہے جہاں پاکستان نے چار ٹیسٹ سیریز ہاریں تین برابر کھیلیں اور اب سوال یہی ہے کہ کیا اندھیروں کو اجالوں میں بدلنے والے دو درخشاں ستارے منظر سے ہٹنے سے پہلے پاکستان کو ایک اور نئی منزل کا سراغ دینے میں کامیاب ہوں گے ؟ کیا دونوں ساٹھ سالہ سنگدلانہ تاریخ کا دل موم کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے؟