1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کیا ہونے والا ہے؟ امریکی اسپیشل آپریشن فورسز لیبیا میں

امریکا کی اسپیشل آپریشن فورسز لیبیا میں خصوصاً شہر سرت میں داعش کے خلاف لڑائی میں پہلی مرتبہ براہِ راست مدد دے رہی ہیں۔ یہ شہر لیبیا میں ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش کا مضبوط ترین گڑھ ہے۔

Libyen Angriff libyscher Streitkräfte auf IS in Sirte

امریکی اندازوں کے مطابق لیبیا کا سرت نامی شہر داعش کا گڑھ ہے، جہاں اُس کے جنگجوؤں کی تعداد تقریباً ایک ہزار ہے

نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق امریکی جریدے ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے بتایا ہے کہ سرت میں لیبیا کے دستے اس شدت پسند ملیشیا کے خلاف برسرِ پیکار ہیں اور امریکا کے اسپیشل آپریشن دستے پہلی بار اُنہیں براہِ راست مدد فراہم کر رہے ہیں۔ امریکی اندازوں کے مطابق سرت میں داعش کے جنگجوؤں کی تعداد تقریباً ایک ہزار ہے۔

امریکی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس امریکی جریدے کو بتایا کہ یہ امریکی کمانڈو سرت کے مضافات میں قائم کیے گئے ایک جوائنٹ آپریشنز سینٹر میں رہتے ہوئے سرگرمِ عمل ہیں۔

امریکی محکمہٴ دفاع نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ اُس نے ’لیبیا کی قومی وحدت کی حکومت‘ کی درخواست پر سرت میں ایک فضائی آپریشن شروع کیا ہے۔ ’واشنگٹن پوسٹ‘ کے مطابق امریکی فورسز برطانوی دستوں کے ساتھ مل کر برسرِپیکار ہیں اور امریکی فضائی حملوں کے لیے رابطہ کاری کے ساتھ ساتھ پارٹنر فورسز کو انٹیلیجنس بھی فراہم کر رہی ہیں۔

امریکی محکمہٴ دفاع نے ’واشنگٹن پوسٹ‘ کی رپورٹ کی تفصیلات پر کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے تاہم ماضی میں یہ محکمہ اس امر کی تصدیق کر چکا ہے کہ چھوٹی امریکی ٹیمیں لیبیا میں انٹیلیجنس معلومات جمع کرنے میں مدد دے رہی ہیں۔

پینٹاگان کی ایک خاتون ترجمان ہینریئیٹا لیوین نے اپنے ایک بیان میں بتایا تھا: ’’امریکا منفرد نوعیت کی خدمات انجام دے رہا ہے، جن میں انٹیلیجنس، نگرانی اور حریف کی حرکات و سکنات پر نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ ہدف کی ٹھیک ٹھیک نشاندہی بھی شامل ہے۔‘‘

خاتون ترجمان نے مزید کہا تھا: ’’امریکی فورسز کی ایک چھوٹی سی نفری مقامی فورسز کے ساتھ معلومات کے تبادلے کے لیے لیبیا میں آتی جاتی رہی ہے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا کیونکہ ہم ISIL (اسلامک اسٹیٹ ان لیبیا) اور دیگر دہشت گرد گروپوں کے خلاف اپنی لڑائی میں مزید شدت لا رہے ہیں۔‘‘

Libyen Angriff libyscher Streitkräfte auf IS in Sirte

لیبیا میں اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ حکومت کے حامی دستے سرت میں محصور داعش کے جنگجوؤں کے خلاف ہتھیار استعمال کرتے ہوئے

’واشنگٹن پوسٹ‘ کے مطابق امریکا اور برطانیہ کے باوردی فوجی کئی مرتبہ سرت میں دیکھے گئے ہیں۔ گزشتہ مہینے فرانسیسی صدر فرانسوا اولانڈ نے لیبیا میں ’خطرناک انٹیلیجنس آپریشنز‘ سرانجام دینے والے تین فرانسیسی فوجیوں کی ایک ہیلی کاپٹر کے حادثے میں ہلاکت کا اعلان کیا تھا۔ لیبیا کے ذرائع کے مطابق اس ہیلی کاپٹر کو مار گرایا گیا تھا۔

شمالی افریقی ملک لیبیا اکتوبر 2011ء میں معمر القذافی کی معزولی کے بعد سے انتشار کا شکار ہے۔ معدنی تیل سے مالا مال اس ملک میں، جہاں ایک طرف دو متوازی حکومتیں اقتدار کے حصول کے لیے کوشاں ہیں، وہاں طاقت کے خلاء سے فائدہ اٹھا کر مختلف مسلح گروپ توانائی کے ذرائع پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے برسرِپیکار ہیں۔