1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کیا گیتا کو واقعی اپنا خاندان مل گیا؟

حادثاتی طور پر پاکستان میں داخل ہو جانے والی ننھی گونگی بہری بھارتی بچی گیتا، ایک دہائی بعد اپنے گھر لوٹ رہی ہے۔ اس بچی کے پاس، جو اب ایک نوجوان عورت ہے، سب سے بڑا اور واحد خزانہ اپنے گھرانے کی ایک تصویر تھی۔

اس بچی کا پورا نام کیا ہے؟ اس کی اصل تاریخ پیدائش کیا ہے؟ یہ دنیا کی سب سے زیادہ فوجی موجودگی والی سرحد کس طرح اور کن حالات میں عبور کر کے پاکستان میں داخل ہوئی؟ ان سوالات کے جوابات کوئی نہیں جانتا۔ کوئی معلومات ہیں تو بس اتنی کہ دس برس سے زائد عرصہ قبل پاکستان پہنچ جانے والی یہ بچی ایدھی سینٹر میں رہتی ہے اور ایدھی فاؤنڈیشن نے ہی اسے گیتا کا نام دیا اور یہی اس بچی کی کل پہچان ہے۔

پاکستان کے جنوبی شہر کراچی میں ایدھی فاؤنڈیشن کی جائے امان میں رہنے والی یہ گونگی بہری بھارتی بچی اپنے خاندان کو پہچانتی تک نہیں، مگر تصویر میں اپنے خاندان کو دیکھتی رہتی ہے۔

اب، بالی وُڈ کی سپر ہٹ فلم ’بجرنگی بھائی جان‘ سے یہ معاملہ عوام الناس تک پہنچ جانے کے بعد، گیتا کو اپنی بیٹی کہنے والے متعدد دعوے داروں کے بیچ، گیتا نے اپنے پاس موجود تصویر کے ذریعے ایک خاندان کو اپنے گھرانے کے طور پر تسلیم کر لیا ہے۔ پیر کے روز گیتا دہلی پہنچ رہی ہے، جہاں اسے امید ہے کہ وہ اپنے پیاروں سے جا ملے گی۔

Pakistan Babyklappe Kinder

بلقیس ایدھی کے مطابق ڈی این اے ٹیسٹ ہی سے پتہ چلے گا کہ آیا یہ خاندان واقعی گیتا کا ہے

رواں ہفتے کراچی میں خبر رساں ادارے اے ایف پی کو انٹرویو دیتے ہوئے گیتا نے اشاروں کی زبان میں چہرے کے تاثرات بھی شامل کر لیے اورانگلیاں آنکھ کی پتلیوں کی طرح ایک تصویر پر دوڑنے لگیں، ’’یہ میرے ابو ہیں اور یہ میرا چھوٹا بھائی۔‘‘

یہ تصویر بھارتی ریاست بہار کے ایک خاندان کی ہے اور اس تصویر میں گیتا کی غالباﹰ سوتیلی ماں بھی دکھائی دے رہی ہے۔ آنکھوں میں چمک اور شک سے ماورا یقین وسکون بتا رہا ہے کہ گیتا کو یقین ہے کہ یہ خاندان اسی کا ہے۔

اگلے ماہ بھارت میں ہندو تہوار دیوالی منایا جائے گا اور گیتا انٹرویو کے دوان وہ لباس بھی دکھاتی رہی، جو وہ اس تہوار پر پہننے والی ہے۔ رنگ برنگی کڑھائی سے مزین ایک چمک دار گھگرا اور نارنجی رنگ کی قمیض دکھاتے ہوئے گیتا کی آنکھیں دیوالی میں جلائے جانے والے دیوں سے کم نہیں تھیں۔

سوال تاہم اپنی جگہ ہے۔ اس خاندان کا کہنا ہے کہ گیتا جب گم ہوئی تھی، وہ اس وقت شادی شدہ تھی اور اس کا ایک بچہ تھا۔ ادھر گیتا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جب یہ بچی پاکستانی پولیس کو ملی اس وقت اس کی عمر 11 یا 12 برس تھی۔

سماجی کارکن عبدالستار ایدھی کی اہلیہ اور ایدھی فاؤنڈیشن کی سرگرم عہدیدار بلقیس ایدھی کا کہنا ہے کہ گیتا اپنے والد اور بھائی کو پہچاننے کے معاملے میں خاصی پریقین ہے، تاہم بھارت میں گیتا کو اس خاندان کے حوالے کرنے سے قبل اس کے اور خاندان والوں کے ڈی این اے کے نمونوں کا موازنہ کیا جائے گا۔

گیتا کی آنکھوں کے دیے اور خاندان کو پہچان لینے کا یقین اپنی جگہ مگر ابھی شک کی ایک کڑی باقی ہے، جسے یقین میں تبدیل کرنے کے لیے ڈی این اے کے راستے ہی سے گزرنا پڑے گا۔ امید تاہم یہی ہے گیتا اس یقین و گمان کے بیچ و بیچ اپنے خاندان سے جا ملے گی۔