1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کیا پنجاب آپریشن تمام عسکریت پسند تنظیموں کے خلاف ہے؟

پاکستانی صوبہ پنجاب میں بالآخر رینجرز نے آپریشن شروع کر دیا ہے۔ چند تجزيہ نگار اس آپريشن کی شفافيت اور منصفانہ ہونے پر سوالات اٹھا رہے ہيں تاہم حکومت کا موقف ہے کہ کارروائی ميں تمام شدت پسند عناصر کو نشانہ بنايا جائے گا۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ پر نشر کردہ رپورٹوں کے مطابق پیر بارہ ستمبر کو گن شپ ہیلی کاپڑ کے ذریعے پينتيس ايسے مشتبہ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا، جن پر گیس کی پائپ لائنوں، ریلوے ٹریکوں اور دیگر سرکاری تنصیبات کو دھماکوں سے اڑانے کا الزام تھا۔ پنجاب حکومت کی طرف سے گزشتہ کچھ دنوں کے دوران سینکڑوں مشتبہ دہشت گردوں کو گرفتار کيے جانے اور اُن سے ہتھیار برآمد کرنے کی رپورٹيں بھی سامنے آئی ہیں۔

ناقدین البتہ اس بات کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں کہ رینجرز حکام پنجاب میں جہادی و فرقہ وارانہ تنظیموں کے دہشت گردوں کو پکڑنے آئے ہيں۔ لاہور میں انسانی حقوق کے ليے کام کرنے والے فاروق طارق نے اِس آپریشن پر اپنا رد عمل دیتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’میرے خیال میں یہ آپریشن پنجاب میں کسانوں اور مزدوروں کے خلاف استعمال کیا جائے گا۔ اوکاڑہ میں کسانوں کے خلاف سینکڑوں مقدمات دہشت گردی کی دفعات کے تحت کاٹے گئے ہیں لیکن دنیا کو مطلوب حافظ سعید اور مولانا مسعود اظہر پر کوئی ہاتھ ڈالنے کی جرات نہیں کرتا۔ کل بھی جماعت الدعوہ والے سارے دن کھالیں جمع کرتے رہے اور آ ج بھی جمع کر رہے ہیں۔ چوبرجی پر ان کا مرکز ہے، وہاں کوئی کارروائی ہو رہی ہے یا نہیں؟ پیر کے دن کی کارروائی ميں حکام نے مشتبہ بلوچ عسکریت مارے، جس سے اشارے واضح ہیں کہ آپریشن کا رخ کیا ہوگا۔‘‘


بہاولپور کے ايک سماجی رہنما عبدالکریم نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’مولانا مسعود اظہر کا مرکز بدستور کام کر رہا ہے۔ اُن کے کارکنان اپنی مساجد میں سر گرم ہیں۔ جیشِ محمد نے اس سال الرحمت نامی ٹرسٹ کے زیرِ انتظام کھالیں جمع کی ہیں۔ ہم یہاں رہتے ہیں اور مسعود اظہر کا مرکزی دفتر اور مدرسہ بھی یہاں ہے۔ ہمیں تو ان کے خلاف کوئی آپریشن نظر نہیں آرہا۔‘‘

دريں اثناء راجن پور ڈسٹرکٹ بار کے سابق صدر منظور خان دریشک نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’راجن پور کے قبائلی علاقے میں فورسز نے فراریوں کو مارا ہے۔ ان فرار ہونے والوں کے خلاف شکایات تھیں کہ وہ مقامی لوگوں کو اغواء کرتے تھے اور ان سے بھتہ لیتے تھے۔ اميد کرتے ہيں کہ فورسز جہادی و فرقہ وارانہ تنظیموں کے خلاف بھی آپریشن شروع کریں۔‘‘


انہوں نے اِس تاثر کو غلط قرار دیاکہ جنوبی پنجاب عسکریت پسندوں سے بھرا ہوا ہے۔ ’’پنجاب کے حکمرانوں نے ہمیں بدنام کرنے کے ليے اور ہمارے حقوق کو سلب کرنے کے ليے ہمارے علاقے کو بدنام کیا ہے۔ یہ بات صحيح ہے کہ یہاں ایس ایس پی اور لشکرِ جھنگوی کی موجودگی ہے لیکن جتنا بڑھا چڑھا کر بیان کیا جاتا ہے، صورتِ حال ایسی نہیں ہے۔‘‘

وفاقی اردو یونیورسٹی کے سابق پروفیسر ڈاکڑ توصیف احمد نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’سی پیک کے ليے کوئٹہ اور کچھ دیگر علاقوں کو محفوظ بنايا جانا ہے۔ پنجاب کے سرحدی علاقوں میں بلوچ عسکریت پسندوں کی موجودگی ہے، تو ان کو ہدف بنايا جائے گا اور وہ فرقہ وارانہ تنظیمیں جو کوئٹہ میں ہزارہ کمیونٹی کو ٹارگٹ کرتی ہیں اُن کو بھی ختم کیا جائے گا۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ریاست جیشِ محمد اور جماعت الدعوہ کے خلاف بھی حرکت میں آئے گی۔ وہ تو ریاست کے اتحادی ہیں۔ ان کے خلاف ایکشن کیسے لیا جا سکتا ہے؟ ہاں البتہ کوئی بعید نہیں بعد میں اس آپریشن کا رخ کرپشن اور سیاست دانوں کی طرف موڑ دیا جائے۔‘‘


اس کے برعکس حکمران جماعت نون لیگ کی رہنما اور رکنِ پنجاب اسمبلی عظمیٰ بخاری نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ کچھ تنظیموں کو اس آپریشن میں چھوڑ دیا جائے گا۔ ڈی ڈبليو کو انہوں نے بتایا، ’’جو بھی تنظیم دہشت گردی اور ملک کے مفاد کے خلاف کام کرے گی اس کو ٹارگٹ کیا جائے گا۔ رینجرز سول حکومت کی مدد کے ليے یہاں آئے ہيں اور وہ سب کے خلاف ایکشن ليں گے۔ ہماری پارٹی کی کسی عسکریت پسند تنظیم کے ليے کوئی ہمدردی نہیں۔ کچھ لوگ ہمارے ایک رہنما کی پرانی تصویر ایک فرقہ وارانہ تنظیم کے ساتھ دکھا کر یہ کوشش کر رہے ہیں کہ ن لیگ فرقہ پرست تنظیم کی ہمددر ہے۔ یہ ایک غلط تاثر ہے۔‘‘