1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کیا پاکستان کی تمام مساجد میں ایک جیسا خطبہ ہونا چاہیے؟

کئی دیگر ممالک کی طرح حکومت پاکستان بھی ملک کی تمام مساجد میں جمعے کے یکساں خطبے کے لیے ایک نصاب تیار کر رہی ہے۔ کیا پاکستان میں یہ منصوبہ کامیاب ہو پائے گا اور کیا مذہبی شخصیات کی طاقت کو اس طرح کنٹرول کرنا ممکن ہے؟

انگریزی روزنامہ ایکسپریس ٹریبون کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے اسلام آباد میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت جمعے کے خطبے کے لئے ایک نصاب تیار کر رہی ہے۔ اس نصاب کا مقصد عملی زندگی کو قران و حدیث کے مطابق گزارنے کے حوالے سے عوامی شعور بیدار کرنا بتایا گیا ہے۔
کئی مبصرین کے خیال میں جمعے کے خطبات کی مانیٹرنگ ضروری ہے کیونکہ کئی مذہبی شخصیات ان خطبات کے ذریعے فرقہ واریت پھیلاتی ہیں اور عسکریت پسندی کو ہوا دیتی ہیں۔ لیکن پاکستان کی مذہبی تنظیمیں ایسے کسی بھی اقدام کی بھر پور مخالفت کریں گی۔ معروف مذہبی شخصیت مولانا طاہر اقبال چشتی نے اس حکومتی منصوبے پر اپنا ردِ عمل دیتے ہوئے کہا، ’’ابھی یہ محسو س کر لیا گیا ہے کہ ملک میں علماء کا اثر و رسوخ تیزی سے بڑھ رہا ہے تو اس کو کم کرنے کے لیے حکومت اس طرح کے اقدامات کرنا چاہتی ہے۔‘‘


انہوں نے کہا کہ اس طرح کا کوئی نصاب بنانا ممکن نہیں ہے،’’پاکستان میں ہر علاقے کے حالات مختلف ہیں اور علماء ان حالات کی روشنی میں جمعے کے خطبات کے ذریعے عوام کی رہنمائی کرتے ہیں۔ پہلا مسئلہ تو یہ ہے کہ ایسے کسی نصاب کو بنانا ہی مشکل ہے اور اگر بن گیا تو اس پر عمل درآمد بہت مشکل ہوگا۔‘‘

فتح پور: فرقہ پرستی کی فضا میں مختلف کیسے
انہوں کہا کہ اگر ایسا کوئی نصاب بنتا ہے تو ملک کے علماء اس کی بھر پور مخالفت کریں گے اور مزاحمت سے بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
وفاق المدارس کے جنرل سیکریڑی اور اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق رکن حنیف جالندھری نے اس مسئلے پر ڈی ڈبلیو کو اپنی رائے دیتے ہوئے کہا، ’’ہر ملک کے حالات مختلف ہوتے ہیں۔ اگر لوگ سعودی عرب کی بات کرتے ہیں تو وہاں بادشاہت ہے جب کہ پاکستان میں جمہوریت ہے اور آئین آپ کو اظہار رائے اور تمام بنیادی آزادیوں کی ضمانت دیتا ہے۔ تو آپ کیسے اس طرح کوئی نصاب بنا سکتے ہیں۔ اگر آج آپ خطبات کے حوالے سے نصاب بنا رہے ہیں تو کل ذرائع ابلاغ کے لئے بھی نصاب بنایا جائے گا۔‘‘
انہوں نے کہا اس طرح کی کسی بھی نصاب پر اسلامی نظریاتی کونسل میں بات نہیں ہوئی،’’جب تک میں اسلامی نظریاتی کونسل کا رکن تھا تب تک تو اس مسئلے پر وہاں کوئی بات نہیں ہوئی اور نہ ہی حکومت نے جمعے کے خطبے کے لئے نصاب بنانے کے حوالے سے علماء سے مشورہ کیا۔ جب اس پر مشورہ لیا جائے گا تو بات کریں گے۔‘‘


عسکریت پسندی اور مذہبی انتہا پسندی پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ نگار احسن رضا کے خیال میں اس طرح کے اعلانات عموماﹰ محرم کے مہینے سے پہلے دیے جاتے ہیں لیکن اس ماہ کے گزرنے کے فوراﹰ بعد فرقہ وارانہ جماعتیں پھر پورے ملک میں جو چاہتی ہیں کہتی ہیں۔ اس مسئلے پر اپنی رائے دیتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’میرے خیال میں اس بیان کو اس تناظر میں دیکھنا چاہیے جس میں خواجہ آصف اور وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے اپنے گھر کو ٹھیک کرنے کی بات کی تھی لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اگر اس منصوبے کو آرمی کی حمایت حاصل نہیں ہوئی تو پھر اس کی کامیابی کے کوئی امکانات نہیں ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ جمعے کے خطبات کے لئے نصاب بنانا ضروری ہے،’’جمعے کے خطبات عوامی رائے عامہ کو ہموار کرنے میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں اور مولوی حضرات کی سیاست کو بڑھانے میں بھی بڑے مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ اب آپ دیکھیں کہ ایک بندے نے جمعے کے خطبات میں شر انگیز تقریریں کر کے اتنی شہرت پائی کہ وہ رکنِ پنجاب اسمبلی بن گیا جب کہ اسی طرح کے خطبات دینے والوں نے حلقہ این اے ایک سو بیس میں بھی اپنی بھر پور موجودگی دکھائی ہے۔ تو اس پر نصاب بننا تو چاہے لیکن مولوی حضرات اس کی بھر پور مخالفت کریں گے۔ ہم یہ سندھ میں پہلے ہی دیکھ چکے ہیں کہ انہوں نے کس طرح پی پی پی حکومت کو جمعے کے خطبات اور مدارس کے حوالے سے ضابطے جیسے مسائل پر گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا تھا۔ تو میرا خیال ہے ایسے کسی بھی حکومتی اقدام کی علماء بھر پور مخالفت کریں گے۔‘‘

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات