1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’کیا پاکستان میں کوئی قانون ہے ؟‘

پاکستانی پولیس نے جنوبی پنجاب کے ایک گاؤں میں  28 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ اس علاقے میں ایک پنچایت نے ایک شخص کو اپنی بہن کے ساتھ جنسی زیادتی کا بدلہ ملزم کی بہن سے زیادتی کر کے لینے کی ہدایت کی تھی۔

اطلاعات کے مطابق سترہ سالہ لڑکی جس کے ریپ کا حکم دیا گیا، اس شخص کی بہن ہے جس پر اس ماہ کے آغاز میں ایک تیرہ سالہ بچی کے ریپ کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ پاکستان میں سماجی کارکنان نے اس واقعے کی بھر پور مذمت کی ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی اس واقعہ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ واقعہ شہر ملتان کے نواح میں واقعہ علاقہ مظفرآباد میں پیش آیا تھا۔

سن 2002 میں گینگ ریپ کا شکار ہونے والی مختاراں مائی نے اس کیس کے حوالے سے اپنی ٹوئٹ میں لکھا،''وزیر اعلیٰ کی جانب سے نوٹس لیا جانا بے معنی ہے۔ 2002ء میں بھی کئی نوٹس لیے گئے تھے۔‘‘ مختاراں مائی کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ایک اور ٹوئٹ میں لکھا گیا،’’ جنوبی پنجاب میں ایک اور قبائلی عدالت(پنچایت)، ایک اور لڑکی کا ریپ، ہم اب بھی 2002ء میں ہیں۔‘‘ پاکستان کے صوبے پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے آج ملتان کا دورہ کیا اور ہسپتال میں ریپ کا شکار ہونے والی دونوں لڑکیوں سے ملاقات کی۔ اس موقع پر شہباز شریف میڈیا نمائندگان سے گفتگو میں پولیس پر برہم ہوئے اور ایک تین رکنی تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل کا اعلان کیا۔

ٹوئٹر صارف حمیدہ نور نے لکھا،’’ کیا پاکستان میں کوئی قانون ہے ؟‘‘

ملیحہ منظور نے لکھا،’’اس وقت وزیر اعلیٰ اور پنجاب پولیس کہاں تھے جب پنچایت نے ریپ کا حکم دیا تھا ؟‘‘

شائستہ عزیز نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر لکھا،’’ ایسا ہولناک واقعہ پہلی مرتبہ پیش نہیں آیا، نہ ہی ایسا آخری مرتبہ ہوا ہے۔ کیا پاکستان کا قانونی نظام ان بچیوں کو انصاف دے پائے گا ؟ کیا پاکستانی عوام ان لڑکیوں کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔‘‘

یوسف نسیم نے لکھا،’’ اس مرتبہ ہمیں مجرموں کو کڑی سزا سنانی ہو گی۔‘‘

واضح رہے کہ پاکستان کی سپریم کورٹ نے اس کیس کا ازخود نوٹس لے لیا ہے اور شہباز شریف نے بھی ملزمان کو کڑی سے کڑی سزا دیے جانے کا اعلان کیا ہے۔

ویڈیو دیکھیے 02:03

پاکستان: انصاف کی متلاشی خواتین

DW.COM

Audios and videos on the topic