1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کیا پاکستان میں جمہوریت تباہی سے دوچار ہو سکتی ہے؟

پاکستان میں آج سابق وزیرِاعظم نواز شریف کی طرف سے کی جانے والی تقریر کو کئی سیاست دان اور تجزیہ نگار اشتعال انگیز قرار دے رہے ہیں اور اس بات کا خدشہ بھی ظاہر کر رہے ہیں کہ اس سے جمہوریت کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

سیاسی مبصرین کے خیال میں پیر دو اکتوبر کو پاکاستان کی قومی اسمبلی میں منظور کیا جانے والا قانون بھی جمہوریت کی روح کے خلاف ہے کیونکہ ان کے مطابق یہ قانون ایک شخص کو بچانے کے لیے بنایا گیا اور اس کے لیے پارلیمنٹ کا پیلٹ فارم استعمال کیا گیا، جو خود جمہوریت کے لیے منفی ثابت ہوسکتا ہے۔

پی پی پی کے رہنما اورپاکستان کی ایوانِ بالا سینیٹ کے رکن تاج حیدر کے خیال میں پیر کے روز  منظور ہونے والے اس قانون پر خود نون لیگ پچھتائے گی۔ موجودہ سیاسی صورتِ حال پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے ڈوئچے ویلے کو بتایا،  میر ے خیال میں اس قانون کی رائے عامہ کی طرف سے بھر پور مخالفت ہوگی۔ اس طرح کی چالاکیاں نون لیگ کے کام نہیں آئیں گی اور یہ ایک ایسی فتح ہے، جس پر نون لیگ خود روئے گی۔ حیرت کی بات ہے کہ آپ ایک مجرم کو بچانے کے لیے یہ سب کچھ کر رہے ہیں۔ بے نظیر بھٹو کو بھی ماضی میں ہٹایا گیا تھا لیکن ہم نے مخدوم امین فہیم کو صدر بنا کر انتخابات جیت کر دکھائے تھے۔‘‘

انہوں نے کہا اگر ملک میں جمہوریت کو کوئی خطرہ ہوا تو نواز شریف ایک بار پھر سعودی عرب چلے جائیں گے: ’’اگر ملک میں جمہوریت کی بساط لپیٹی جاتی ہے تو میاں صاحب ایک بار پھر جدہ میں ہوں گے۔ عمران خان کسی آمر کی گود بیٹھے ہوں گے لیکن پی پی پی میدان میں ہوگی اور جمہوریت کے لیے جدوجہد کرے گی۔ ہم نے پہلے بھی جیلیں کاٹی ہیں اور اب بھی جمہوریت کے لیے کسی خانہ جنگی سے بھی گزرنا پڑے گا تو ہم گزریں گے۔‘‘
معروف تجزیہ نگار ڈاکڑ خالد جاوید جان کے خیال میں نواز شریف کی آج کی تقریر اشتعال انگیز تھی۔ موجودہ سیاسی حدت پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا،  ’’میرے خیال میں یہ بھی ایک آمرانہ سوچ ہے کہ میرے علاوہ جمہوریت کا کوئی دفاع نہیں کر سکتا۔ میاں صاحب کی تقریر نے اور پیر کو قومی اسمبلی میں منظور ہونے والے بل نے ملک کو تصادم کے راستے پر ڈال دیا ہے، جس کے نتائج انتہائی خطرناک ہوسکتے ہیں۔ میاں صاحب کا خیال ہے کہ اگر وہ اقتدار میں ہیں تو جمہوریت ہے، اگر وہ نہیں تو نظام بھی تباہی سے دوچار ہوجائے۔ ان کو اس کی پرواہ نہیں۔ جمہوریت ایک کمزور دیا ہے اور اسٹیبلشمنٹ ایک آندھی ہے۔ ہمارے سیاست دانوں کو یہ بات سمجھنی چاہیے اور اس دیے کے بچاو کے لیے کام کرنا چاہیے۔‘‘
تاہم پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے مرکزی رہنما سینیٹر عثمان کاکڑ نے جن کی پارٹی بلوچستان میں ن لیگ کی اتحادی بھی ہے، نے قومی اسمبلی سے منظور کردہ بل کا دفاع کیا۔ موجودہ سیاسی ہلچل پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’یہ پارلیمنٹ کا اختیار ہے کہ وہ قانون سازی کرے اور تمام اداروں کو پارلیمنٹ کے اس حق کو ماننا چاہیے۔ اس قانون پر اعتراض بے جا ہے۔ پی پی پی اب اس قانون پر اعتراض کر رہی ہے لیکن وہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کی کمیٹیوں میں موجود تھی، وہاں تو اس نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔ اگر سیاست دان اس طرح کی حرکتیں کریں گے تو اس سے غیر جمہوری قوتوں کو  فائدہ ہوگا۔‘‘

Taj Haider

اس قانون پر خود نون لیگ پچھتائے گی، سینیٹر تاج حیدر


انہوں نے اعتراف کیا کہ موجودہ صورتِ حال میں جمہوریت کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں لیکن ساتھ ہی اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ اگر اب جمہوریت کی بساط لپیٹی گئی تو چھوٹی قومتیں اپنے حق خود اختیاری کی بات کریں گی: ’’اسٹیبلشمنٹ نے پہلے ہی پارلیمنٹ کو کمزور کیا ہوا ہے اور اس کی حاکمیت کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اب اگر مارشل لاء کا ڈرامہ رچایا گیا تو پھر بلوچ، پشتون، سندھی اور سرائیکی اپنی حق خود اختیاری کے بات کریں گے۔ اس لیے جمہوریت کو کمزور کرنے کا یہ تماشا بند ہونا چاہیے اور تمام اداروں کو پارلیمنٹ کی بالادستی کو تسلیم کرنا چاہیے۔‘‘