1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کیا پاکستانی ٹیکسٹائل انڈسڑی دوبارہ کھڑی ہو پائے گی؟

تقریباﹰ ایک عشرہ پہلے تک پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت ترقی کی جانب گامزن تھی۔ پھر توانائی کے بحران اور دہشت گردی نے اسے آسمان سے زمین پر پھینکا۔لیکن کیا یہ دوبارہ اپنے قدموں پر کھڑی ہو پائے گی؟

پاکستان میں بجلی کے بحران میں کسی حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ اس کمی کے ساتھ ہی پاکستان کی اس صنعت نے دوبارہ اپنے قدموں پر کھڑا ہونے کی کوششیں بھی شروع کر دی ہیں لیکن بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے اور  گزشتہ ایک عشرے سے مارکیٹ میں قدم جمانے والے حریف آ جانے کی وجہ سے اب اس صنعت کے لیے ان سب عناصر کا مقابلہ کرنا آسان نہیں ہوگا۔

پاکستان میں تیس فیصد ملازمین کا روزگار ٹیکسٹائل انڈسٹری سے جڑا ہوا ہے لیکن گزشتہ برسوں کے دوران بند ہونے والی فیکڑیوں کی وجہ سے ہزاروں ملازمین بے روزگار ہوئے ہیں۔ پاکستان دنیا میں کپاس پیدا کرنے والا چوتھا بڑا ملک ہے لیکن بجلی اور گیس کی مسلسل کمی کی وجہ سے اس ملک کی برآمدات میں کمی آئی ہے اور فیکڑی مالکان وقت پر مال تیار کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس عرصے میں پاکستانی فیکڑیوں سے مال تیار کروانے والی متعدد یورپی کمپنیوں نے بنگلہ دیش اور ویتنام کی طرف رخ کیا ہے۔

ہزاروں چھوٹی بڑی فیکڑیاں بند ہونے کی وجہ سے اس شعبے کی پیداواری صلاحیت کا تیسرا بڑا حصہ غائب ہو چکا ہے۔ ماضی میں ایک ٹیکسٹائل فیکڑی کے مالک ریحان کا نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’آدھے سے زیادہ وقت ہمیں مشینوں کو ڈیزل جنریٹرز سے چلانا پڑتا تھا، یہ طریقہ مہنگا ہے۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ ہر روز نقصان اٹھانے سے بہتر ہے کہ کاروبار ہی بند کر دیا جائے۔‘‘ اس کاروبار میں وہ ہی ابھی تک زندہ بچ پائے ہیں جنہوں نے بجلی خود پیدا کرنے کے لیے بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔

جونہی بجلی یا گیس جاتی ہے تو صنعتی کام بھی متاثر ہوتا ہے۔ ایک فیکڑی میں کام کرنے والے اکیس سالہ محمد رضوان کا کہنا تھا، ’’ایک لوم پر کام کرنے والے کو اسی وقت مزدوری ملتی ہے اگر لوم چل رہی ہے۔ اگر بجلی نہیں ہے تو اس کا مطلب ہے تنخواہ بھی نہیں ہے۔‘‘

پاکستان کی موجودہ حکومت نے سن 2018ء تک ملک سے لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا وعدہ کر رکھا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ صنعت کو ترجیح دی جائے گی۔

فیصل آباد میں لوم اونرز کونسل کے چیئرمین  وحید رامے کا کہنا تھا، ’’کامیابی کی کنجی یہ ہے کہ چوبیس گھنٹے بجلی فراہم کی جائے۔‘‘

تمام تر اقدامات کے باوجود یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ پاکستانی صنعت خطرے سے باہر نکل آئی ہے۔ جہاں بجلی کی ترسیل میں بہتری آ رہی ہے، وہاں دوسری طرف درآمد کی جانے والی قدرتی گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس کا اثر بھی صارفین پر پڑتا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں بجلی کی قیمتیں بھی دو گنا ہو چکی ہیں۔

اگر پاکستان کا موازنہ بنگلہ دیش یا ویتنام جیسے ملکوں سے کیا جائے تو وہاں اب بھی بجلی سستی ہے اور مال کی تیاری وہاں سستی پڑتی ہے۔ سٹی پاور ڈسٹری بیوشن کمپنی کے جنرل مینیجر محمد سلیم بھٹی کا کہنا ہے، ’’نئے پاور پلانٹ زیادہ موثر ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ بجلی سستی ہو گی۔ ہم مقابلہ کرنے کی پوزیشن پر آ جائیں گے۔‘‘

تاہم ایشیائی ترقیاتی بینک کے اندازے اس سے مختلف ہیں۔ اس بینک کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے، ’’اندازوں کے مطابق چین کی طرف سے تعمیر کیے جانے والے پاور پلانٹس کی طرف سے پیدا کی جانے والی بجلی مہنگی ہو گی۔ لیکن یہ ان تھرمل پلانٹس کی نسبت سستی ہوگی، جن کی جگہ پر یہ پلانٹ لگائے جا رہے ہیں۔‘‘

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی اس صنعت کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے ابھی مزید وقت درکار ہوگا اور حکومت کو اس شعبے کی طرف خصوصی توجہ دینا ہو گی۔