1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کیا پاکستانی قوم کے آٹھ سو ملین ڈالرز ڈوب گئے؟

پاکستان ٹیلی کمیونیکشن لمیٹڈ کی نجکاری کو کئی سال ہوئے لیکن متحدہ عرب امارات کی کمپنی اتصالات کے ذے واجب الادا آٹھ سوملین ڈالرز حکومتِ پاکستان کو اب تک ادا نہیں کیے گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت نے اس واجب الاادا رقم کا تذکرہ بجٹ بُکس 2016-17 میں بھی نہیں کیا اور وفاقی رسید بک کا وضاحتی میمورنڈم برائے سال دوہزار سولہ و سترہ اُس واجب الادا رقم پر خاموش ہے، جو پی ٹی سی ایل کی نجکاری کے بعد 26 فیصد شیئر کی خریداری کے بدلے اتصالات نے حکومت پاکستان کو ادا کرنا تھی۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکشن لمیٹڈ کی نجکاری کے لئے دوہزار پانچ میں بولی لگائی گئی تھی، جس کی سب سے بڑی بولی متحدہ عرب امارات کی کمپنی اتصالات نے لگائی تھی۔ اتصالات نے 2005ء میں پی ٹی سی ایل کے 26 فیصد شیئرز انتظامی کنٹرول کے ساتھ، دو اعشاریہ چھ بلین ڈالرز میں خریدے تھے لیکن بعد میں اس کمپنی نے اس معاہدے پر عملدرآمد سے انکار کر دیا تھا۔ سابق وزیر خزانہ حفیظ پاشا نے ادائیگی کے شیڈول کو نرم کرتے ہوئے کمپنی کو پیش کش کی کہ وہ ایک اعشاریہ چار بلین ڈالرز ابتدائی طور پر ادا کر دے اور بقیہ رقم قسطوں میں ستمبر دوہزاردس تک ادا کر دے۔
پاک ٹیلی کام ایمپلائز یونین (سی بی اے) کے سیکریڑی جنرل حسن محمد رانا نے ا س بات کی تصدیق کی کہ اتصالات نے آٹھ سو ملین ڈالرز پاکستانی حکومت کو ادا کرنے ہیں۔ ڈوئچے ویلے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’جب پی ٹی سی ایل کی نجکاری کی گئی تو اس کمپنی کی 3200 کے قریب جائیدادیں اور زمینیں تھیں، جو اب بھی پی ٹی سی ایل کے نام ہیں اور ان پر اب اتصالات کا عملی قبضہ ہے۔ صرف 29 زمینیں ایسی ہیں جنہیں ابھی تک پی ٹی سی ایل کے نام نہیں کیا جا سکا کیونکہ ان میں سے کچھ زمینیں آرمی کے زیرِ استعمال ہیں اور کچھ پر متروکہ وقف املاک ٹرسٹ اور حکومت کے ایک اور ادارے کا تنازعہ ہے۔ اتصالات نے اس مسئلے کو بہانہ بناکر آٹھ سو ملین کی ادائیگی روک دی ہے۔‘‘
پیپلز پارٹی کی دور حکومت میں حکومتی ترجمان کے فرائض ادا کرنے والے قمرالزمان کائرہ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’ہمارے دور حکومت میں اس مسئلے کو کئی مرتبہ اتصالات کے ساتھ اٹھایا گیا لیکن ان زمینوں کی اصل ملکیت پنجاب اور سندھ کی صوبائی حکومتوں کے پاس تھیں اور یہ پی ٹی سی ایل کے زیر استعمال تھیں، جس کی وجہ سے معاملات تھوڑے سے پیچیدہ ہوئے۔ پنجاب حکومت اس زمین کی قیمت کمرشل ریٹ کے حساب سے لینا چاہتی تھی۔ بہرحال اب حکومت کو یہ مسئلہ حل کرنا چاہیے۔ پنجاب حکومت کو کچھ ارب روپے ادا کر کے وفاقی حکومت اتصالات سے چوراسی ارب روپے لے سکتی ہے، جس سے ملک کی مالی مشکلات میں تھوڑی بہت کمی ہوگی۔‘‘

ہمارے دور حکومت میں اس مسئلے کو کئی مرتبہ اتصالات کے ساتھ اٹھایا گیا، پیپلز پارٹی کے رہنما قمر الزمان کائرہ

ہمارے دور حکومت میں اس مسئلے کو کئی مرتبہ اتصالات کے ساتھ اٹھایا گیا، پیپلز پارٹی کے رہنما قمر الزمان کائرہ


وفاتی سیکرٹری خزانہ وقار مسعود نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’بجٹنگ کا اس ادئیگی کے مسئلے سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ بے پر کی بات ہے۔ یہ ادائیگی واجب الادا ہے اور جب یہ ادا ہوجائے گی تو یہ بیرونی وصولیوں کے زمرے میں آئے گی۔ انہیں یہ رقم ادا کرنی ہے اور ہم تندہی سے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’ایسا کوئی قانون نہیں کہ اس ادائیگی کا تذکرہ budget books کے اندر کیا جائے۔ یہ دو ہزار آٹھ سے واجب الادا ہے لیکن وہ (اتصالات والے) اسے جائیداد کی منتقلی سے مشروط کرتے ہیں۔ یہ منتقلی کر دی گئی ہے اور ان سے کئی بار اس مسئلے کے حوالے سے رابطہ بھی کیا گیا ہے۔‘‘
معاشی ماہرین کے خیال میں پاکستان شدید مالی بحران سے دو چار ہے، جس کی وجہ سے قرضوں کا حجم دن بہ دن بڑھتا جارہا ہے۔ تجزیہ نگاروں کی رائے میں ایسے موقع پر پاکستان کو یہ واجب الادا رقم مل جائے تو اس سے ملک کی مالی مشکلات میں کسی حد تک کمی ہو سکتی ہے۔
قومی اسمبلی کی کمیٹی برائے خزانہ، محصولات، معاشی امور اور شمارت و نجکاری کے رکن محمد علی راشد نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’مجھے یاد نہیں پڑتا کہ اس ادائیگی کے حوالے سے کبھی ہماری کمیٹی میں کوئی بات چیت ہوئی ہو۔ ہم نے اس پر کبھی بحث نہیں کی کیونکہ مسئلہ کبھی کمیٹی کے سامنے آیا ہی نہیں۔‘‘