1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

کیا پاکستانی اور افغان مہاجرین کو واپس بھیج دیا جائے گا؟

برسلز میں ہونے والے یورپی یونین کے اجلاس میں آج چند اہم فیصلے متوقع ہیں۔ تیار کردہ مسودے میں یہ نقطہ بھی شامل ہے کہ جنوبی ایشیاء، خاص طور پر پاکستانی اور افغانی مہاجرین کو جلد از جلد واپس بھیجا جائے۔

منظر عام پر آنے والی رپورٹوں کے مطابق آج بیلجیم کے دارالحکومت برسلز میں یورپی یونین کے رہنما مغربی بلقان میں سینکڑوں محافظ دستے بھیجنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں تاکہ وہاں مزید سکیورٹی چیک پوائنٹس قائم کی جائیں۔ اس کے علاوہ مہاجرین کو یونان پہنچنے سے روکنے کے لیے وہاں مزید بحری جہاز بھی تعینات کیے جا سکتے ہیں۔ نیوز ایجنسی روئٹرز کو موصول ہونے والے مسودے میں یہ لکھا گیا ہے، ’’سرحدوں کو کنٹرول کرنے کے لیے ہمیں فوری طور پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔‘‘ بتایا گیا ہے کہ مجموعی طور پر مسودہ سولہ نکات پر مشتمل ہے اور یہ کوشش کی جائے گی کہ اس پر تمام رکن ریاستیں متفق ہو جائیں۔

یورپی یونین کے چیف ایگزیکٹو ژاں کلود یُنکر نے آج کے اجلاس میں شرکت کے لیے آسٹریا، بلغاریہ، کروشیا، مقدونیہ، جرمنی، یونان، ہنگری، رومانیہ، سربیا اور سلووینیا کے علاوہ مہاجرین کے حوالے سے کام کرنے والی امدادی تنظیموں کو دعوت دے رکھی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق آج کا اجلاس وسطی اور جنوب مشرقی یورپی ریاستوں پر دباؤ بڑھانے کے لیے بھی ہے تاکہ وہ مہاجرین کے بہاؤ کو روکنے کے لیے آپس میں مل کر کام کریں۔

اتوار کے روز ژاں کلود یُنکر کا ایک جرمن اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہنا تھا، ’’ایک ایک دن قیمتی ہے۔ ورنہ ہم بلقان کے سرد دریاؤں میں ہلاک ہوتے ہوئے خاندانوں کو دیکھیں گے۔‘‘

یُنکر کا اس حوالے سے مزید کہنا تھا، ’’ فی الحال سب سے بڑا مسئلہ مہاجرین کے بہاؤ کو کم کرنا اور اپنی بیرونی سرحدوں کو کنٹرول کرنا ہے۔ ہمیں لوگوں پر یہ واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ جنہیں بین الاقوامی تحفظ کی ضرورت نہیں، انہیں یورپی یونین میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔‘‘

ژاں کلود یُنکر کا اشارہ ان مہاجرین کی طرف تھا، جو اقتصادی وجوہات اور پیسہ کمانے کے لیے یورپ پہنچ رہے ہیں۔ آج کے اجلاس میں پیش کیے جانے والے مسودے میں یہ نقطہ بھی شامل ہے کہ جنوبی ایشیاء، خاص طور پر افغانستان اور پاکستان سے آنے والے مہاجرین کو جلد از جلد واپس بھیجا جائے کیوں کہ ان ملکوں سے لوگ بہتر زندگی کی تلاش میں یورپ پہنچ رہے ہیں۔ تاہم اس مسودے پر اسی وقت عمل درآمد ممکن ہو سکے گا اگر تمام رکن ممالک اس پر اتفاق کرتے ہیں۔

اس امر کے بھی امکانات ہیں کہ آج کے اجلاس میں کوئی بڑے فیصلے سامنے نہ آئیں کیوں کے مہاجرین کے بحران کے حوالے سے یورپی یونین کی رکن ریاستوں میں بڑے پیمانے پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔ جرمنی یورپی کمیشن کے ساتھ ایک ایسے معاہدے پر مذاکرات چاہتا ہے، جس کے تحت ایسے افغانوں کو واپس بھیجا جا سکے، جن کی سیاسی پناہ کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں۔