1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کیا ٹرمپ کی فتح پاکستان کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے؟

ڈونلڈ ٹرمپ کی فتح سے پاکستان میں سوگ جیسی کیفیت ہے۔ نہ صرف پاکستانی عوام بلکہ ملکی سیاست دان بھی اس بات پر حیران ہیں کہ ٹرمپ کے حوالے سے آنے والے تمام تر تجزیے غلط ثابت ہوئے ہیں۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے ٹرمپ کو اُن کی کامیابی پر پاکستانی عوام کی طرف سے مبارک باد پیش کی ہے۔اپنے پیغام میں نواز شریف نے کہا،’’ہم امریکا کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کے لئے پر عزم ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی امریکی عوام کی کامیابی ہے۔ دونوں ملکوں کی شراکت داری پائیدار امن کے لئے ناگزیر ہے۔ ہم امریکی قیادت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے خواہاں ہیں۔ آپ کی فتح امریکی عوام کی جمہوریت اور آزادی پر پختہ یقین کی عکاس ہے۔‘‘
پاکستان کے ذرائع ابلاغ نے ان صدارتی انتخابات کی کوریج کے لئے خصوصی نشریات کا اہتمام کیا تھا، جس میں ان انتخابات کے نتائج سے عوام کو آگاہ کیا جاتا رہا۔ ذرائع ابلاغ کی کوریج سے یہاں یہ تاثر پیدا ہوا کہ ہلیری کلنٹن یہ انتخابات جیت لیں گی لیکن جیسا کہ ٹرمپ نے خود کہا تھا کہ وہ سر پرائز دے سکتے ہیں، تو وہ انہوں نے دیا۔
اِن حیران کن نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے معروف تجزیہ نگار سہیل وڑائچ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’ٹرمپ کی فتح پر نہ صرف امریکا میں مقیم پاکستانی صدمے کا شکا ر ہیں بلکہ یہاں پاکستان میں بھی اُن کی فتح پر سوگ جیسی کیفیت ہے۔ ٹرمپ بھارت سے بہتر تعلقات بنائے گا۔ سی پیک کے بعد پاکستان کے لئے ممکن نہیں کہ وہ چین سے کوئی فاصلہ اختیار کرے لیکن پاکستان پر دباؤ بڑھے گا کہ وہ بیجنگ سے تعلقات میں بہت زیادہ آگے نہ جائے۔ سب سے بڑھا دباؤ ٹرمپ کی طرف سے افغانستان کے مسئلے پر آئے گا، جہاں پاکستان پر دباؤ ہوگا کہ وہ حقانی نیٹ ورک اور افغان طالبان سے تعلقات منقطع کرے۔ اسلام آباد کی بھر پور کوشش ہوگی کہ اس دباؤ کا مقابلہ کرے اور حقانی نیٹ ورک کے حوالے سے اپنی پالیسی تبدیل نہ کرے لیکن اگر دباؤ بہت شدید ہوا تو ہمارے پاس پالیسی تبدیل کرنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہوگا۔ امریکا نے پہلے ہی کولیشن سپورٹ فنڈ کے پیسے نہیں دیے اور اب ٹرمپ کی موجودگی میں ان پیسوں کا حصول یا مستقبل میں ایسی کسی امداد کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔‘‘


ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’پاکستان میں کئی حلقوں میں اِس بات پر بھی تشویش ہے کہ ری پبلکنز تاریخی طور پر پاکستان کے آمروں کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اب امریکی ادارے پاکستان میں جمہوریت کے حامی ہیں۔ اوباما اور ہلیری پاکستان میں جمہوریت کے حامی رہے۔ ہلیری کے پاکستانی وزیرِ اعظم سے بھی اچھے تعلقات رہے۔ وہ بینظیر بھٹو کو پسند بھی کرتی تھیں لیکن دیکھیں کہ اگر اب پاکستان میں جمہوریت کو کوئی نقصان پہنچتا ہے تو امریکا کا کیا ردِ عمل ہوتا ہے۔ امید تو یہی ہے کہ جمہوریت کی حمایت کی جائے گی۔‘‘
پاک چین تعلقات کے حوالے سے انہوں نے کہا، ’’اگر امریکا نے خطے میں بھارت کو حد سے زیادہ مضبوط کرنے کی کوشش کی تو اسے بیجنگ اور اسلام آباد کی طرف سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ نئی دہلی کے لئے امریکا کی بہت زیادہ حمایت پاکستان اور چین کو مزید قریب کر دے گی ، جس کا امریکا کو بھی نقصان ہوگا۔‘‘
لیکن کچھ تجزیہ نگار اس فتح کو پاکستان کے لئے ایک نادر موقع بھی قرار دیتے ہیں۔ وفاقی اردو یونیورسٹی کے سابق پروفیسر ڈاکڑ توصیف احمد نے ڈی ڈبلیو کو اپنا ردِ عمل دیتے ہوئے بتایا،’’ٹرمپ کی جیت پاکستان کے لئے ایک چیلنج بھی ہے اور نادر موقع بھی۔ اگر ہم حقانی نیٹ ورک، افغان طالبان، لشکر طیبہ اور دوسری جہادی تنظیموں کے ساتھ روابط ختم کر دیں اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے ناسور کو ختم کرنے کی کوشش کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم نئی امریکی انتظامیہ کے دل میں گھر نہ کر سکیں۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ٹرمپ کا داعش، القاعدہ اور دوسری دہشت گرد تنظیموں کے خلاف سخت موقف ہے اور اگر ہم نے اپنی افغان پالیسی تبدیل نہیں کی، اگر ہم نے بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر نہیں کیے تو پھر ہمارے لئے آنے والے مہینے اور سال بہت مشکل ہوسکتے ہیں۔‘‘