1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کیا وسیم اختر با اختیار میئر ہوں گے؟

 دوران حراست کراچی کے میئر کا حلف اٹھانے والے وسیم اختر گزشتہ روز ضمانت پر رہا ہوئے ہیں۔ تاہم  نئے میئر کو اپنی سیاسی جماعت ایم کیو ایم اور کراچی شہر دونوں کی صورتِ حال بہتر بنانے کے لیے کئی امتحانات کا سامنا ہے۔

Pakistan Bürgermeister von Karachi Waseem Akhtar gibt Pressekonferenz (Imago/ZUMA Press)

کراچی کے نئے میئر وسیم اختر کو شہر کی صورتِ حال بنانے کے حوالے سے کئی چیلنجز کا سامنا ہے

کراچی کے نئے میئر وسیم اختر گزشتہ روز جیل سے ضمانت پر رہا ہونے کے بعد آج پہلی مرتبہ  کے ایم سی کی بلڈنگ میں واقع اپنے دفتر آئے اور کئی وفود سے ملاقاتیں بھی کیں۔ تاہم یہاں سوال یہ پیدا ہوتا  ہے کہ کیا وسیم اختر با اختیار میئر ہوں گے بھی یا نہیں؟ ایک جانب ایم کیو ایم میں دھڑا بندی اور دوسری طرف کراچی کے ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنے کے لیے فنڈز کا نا پید ہونا  وہ مسائل ہیں جو نئے میئر کے کام میں رکاوٹ ڈالنے کا سبب بن سکتے ہیں۔

اس حوالے سے  ڈی ڈبلیو کے نامہ نگار رفعت سعید  کا کہنا ہے کہ وسیم اختر کو کراچی کے لیے کام کرنے میں متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ رفعت سعید نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میئر کے پاس نہ اختیارات ہیں اور نہ ہی شہر کی حالت بہتر بنانے کے لیے فنڈز فراہم کیے گئے ہیں تو پھر کراچی کے حالات میں بہتری کیسے آئے گی۔  اُن کا مزیدکہنا تھا کہ وزیرِ اعلی سندھ  مراد علی شاہ نے بھی حلف اٹھانے کے بعد کراچی کو خوبصورت بنانے کے لیے کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا تاہم اُن کی جانب سے بھی عملی اقدامات دیکھنے میں نہیں آئے۔ رفعت سعید نے نئے میئر کی ضمانت کے بعد کی صورتِ حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ،’’  وسیم اختر کو ملنے والے اختیارات محض علامتی ہوں گے۔ اب ایم کیو ایم پہلے والی ایم کیو ایم نہیں رہی کیونکہ ماضی میں ایم کیو ایم کا جو کنٹرول کراچی شہر پر رہا ہے اب ویسا نہیں۔ ایم کیو ایم کو ماضی میں ملنے والا مینڈیٹ تقسیم ہو چکا ہے۔  ‘‘

 کراچی سے ڈی ڈبلیو کے نامہ نگار کا کہنا تھا کہ شہر کے سابق میئر مصطفٰی کمال کی جماعت ’پاک سر زمین ‘ بھی ایم کیو ایم کے پرانے کارکنوں پر مشتمل ہے۔ علاوہ ازیں  ایم کیو ایم حقیقی، ایم کیو ایم لندن اور ایم کیو ایم پاکستان کی صورت میں ’متحدہ قومی موومنٹ‘ مزید دھڑوں میں بٹ چکی ہے۔ ‘‘ 

Pakistan Farooq Sattar in Karatschi (DW/U. Fatima)

متحدہ قومی موومنٹ کئی دھڑوں میں بٹ چکی ہے

خیال رہے کہ گزشتہ برس اکتوبر میں رینجرز نے سابق وفاقی وزیرِ پٹرولیم  ڈاکٹر عاصم حسین کے خلاف انسدادِ دہشت گردی کے قانون کے تحت دہشت گردوں کو علاج معالجے کی سہولت فراہم کرنے پر مقدمہ درج کیا تھا جس میں چند دیگر سیاسی رہنماؤں سمیت وسیم اختر کو بھی نامزد کیا گیا تھا۔

بعد ازاں گزشتہ سال دسمبر میں کراچی میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے بعد ایم کیو ایم نے وسیم اختر کو کراچی کا میئر نامزد کیا تھا اور اُنہوں نے دورانِ حراست ہی اپنے عہدے کا حلف بھی اٹھایا تھا۔ وسیم اختر کے خلاف سانحہ بارہ مئی دو ہزار سات کے مقدمات سمیت کُل انتالیس مقدمات درج  ہیں جن میں سے اڑتیس مقدمات میں اُنہیں ضمانت مل چکی ہے۔ گزشتہ روز عدالت نے  اِس آخری مقدمے میں بھی میئر کراچی وسیم اختر کی ضمانت منظور کر لی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق وسیم اختر کے جیل سے باہر آنے کے بعد ایم کیو ایم کے لیے حالات بدلنے کی توقع ہے لیکن صورتِ حال یکسر تبدیل نہیں ہو گی۔ وسیم اختر دورانِ حراست بلدیاتی اختیارات کے لیے عدالتی جنگ لڑنے کا عندیہ دیتے رہے ہیں۔ دوسری جانب کراچی شہر کی ٹوٹ پھوٹ سڑکیں اور کچرے کے ڈھیر بھی میئر کراچی کے لیے بڑا چیلنج ہیں۔ 

  

DW.COM