1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کیا نوبل امن انعام جرمن چانسلر کو ملے گا؟

ایسی قیاس آرائیاں سامنے آ رہی ہیں کہ جرمن چانسلر انگیلا میرکل کو نوبل امن انعام سے نوازا جا سکتا ہے۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق ایسا ممکنہ طور پر مہاجرین سے متعلق ان کے موقف کی بنیاد پر کیا جا سکتا ہے۔

نوبل انعامات دینے کا آغاز آئندہ پیر کے روز سے ہو رہا ہے۔ جرمن کے مشہور اور بااثر اخبار ’بِلڈ‘ کے مطابق مہاجریں کی حمایت میں کیے جانے والے اقدمات اور دیے جانے والے بیانات کی وجہ سے اکسٹھ سالہ جرمن چانسلر انگیلا میرکل کو نوبل امن انعام سے نوازا جا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے کئی یورپی رہنماؤں کے برعکس شامی مہاجرین کے حق میں ہی بیانات دیے تھے۔

پیر کے روز سب سے پہلے طب کا نوبل انعام دیا جائے گا جبکہ یہ انعام حاصل کرنے والے یا والوں کے ناموں کا اعلان مقامی وقت کے مطابق ساڑھے گیارہ بجے کے قریب کیا جائے گا۔ لیکن روایتی طور پر سب سے زیادہ انتظار انعام برائے امن اور ادب کا کیا جاتا ہے۔ رواں برس نوبل امن انعام کے لیے 276 شخصیات کو نامزد کیا گیا ہے جبکہ گزشتہ برس کے مقابلے میں صرف دو نامزدگیاں کم ہیں۔

ناروے نوبل انسٹیٹیوٹ کی جانب سے نامزدگیوں کی فہرست کو اعلان سے پہلے خفیہ رکھا جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ نو اکتوبر تک نوبل امن انعام حاصل کرنے والے یا والوں کے ناموں کا شدت سے انتظار کیا جاتا ہے۔ پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اوسلو (پی آر آئی او) کے سربراہ کرسٹیان بیرگ ہارپویکین اس حوالے سے نوبل امن انعامات حاصل کرنے والی شخصیات کے بارے میں اپنی پشین گوئیاں کرنے کے حوالے سے مشہور ہیں۔ ان کا جمعرات کو ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’نوبل امن انعام انگیلا میرکل کو دیا جائے گا۔‘‘

کرسٹیان بیرگ کے ادارے کی طرف سے بنائی گئی لسٹ میں ممکنہ نوبل امن انعام حاصل کرنے والوں میں کولمبیا کے فارک باغی بھی شامل ہیں، جو حکومت کے ساتھ امن عمل جاری رکھے ہوئے ہیں اور اس میں نووایا گزیٹا نامی وہ روسی اخبار بھی شامل ہے، جو صدر پوٹن کے حوالے سے آزادانہ رپورٹنگ کے لیے مشہور ہے۔

کرسٹیان بیرگ کا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہنا تھا، ’’ انگیلا میرکل نے واقعی اخلاقی قیادت کی ہے اور انہوں نے ہی یر جگہ یورپ میں تارکین وطن کا ساتھ دیا ہے۔‘‘ کرسٹیان بیرگ کے مطابق یورپی رہنماؤں اور یہاں تک کہ اپنی ہی سیاسی جماعت کے لیڈروں کی مخالفت کے باوجود وہ اپنے ’موقف پر ڈٹی‘ ہوئی ہیں۔ اسی طرح اس انعام کے لیے ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف اور ان کے امریکی ہم منصب جان کیری کا بھی نام لیا جا رہا ہے۔ تاہم یہ انعام حقیقت میں کس کو ملے گا، اس کے لیے سب کو نو اکتوبر تک انتظار کرنا ہوگا۔