1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کیا نئے سعودی ولی عہد کی پاکستان پالیسی زیادہ سخت ہو گی؟

سعودی عرب کے نئے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی خطے میں قدرے سخت گیر پالیسوں کے پیشِ نظر پاکستان میں کئی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ نئے سعودی ولی عہد اسلام آباد سے متعلق بھی زیادہ سخت پالیسیاں اپنا سکتے ہیں۔

default

پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف سعودی عرب کے شاہ سلمان، درمیان میں، کے ساتھ

سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ پاکستان نے یمن کے مسئلے پر غیر جانبداری کا مظاہر ہ کر کے ریاض حکومت کو ناراض کیا تھا اور قطر کے مسئلے پر بھی اسلام آباد نے اب تک ایک متوازن پالیسی اپنائی ہے، جس پر سعودی حکمران خوش نہیں ہیں۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اب تک پاکستان کی اس غیر جانبداری کو ناراضگی کے باوجود برداشت کیا جاتا رہا ہے لیکن پرنس محمد بن سلمان کے ولی عہد بنائے جانے کے بعد امکان ہے کہ مستقبل میں پاکستان سے متعلق سعودی پالیسی میں سختی آئے گی۔

Saudi-Arabien desiginierter Verteidigungsminister Prinz Mohammad bin Salman bin Abdulaziz al-Saud

سعودی عرب کے شاہ سلمان کے بیٹے اور نئے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان


مشرقِ وسطیٰ کے امور پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کار اسامہ بن جاوید نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ محمد بن سلمان کے سعودی تخت کا وارث بنائے جانے کے بعد سے خطے میں کشیدگی بڑھی ہے اور ان کے پاس ’کئی ایسے ہتھیار‘ ہیں، جو وہ پاکستان کے خلاف استعمال کر سکتے ہیں۔

ڈوئچے ویلے سے بات چیت کرتے ہوئے اسامہ بن جاوید نے کہا، ’’لاکھوں پاکستانی سعودی عرب میں کام کرتے ہیں۔ وہ زرِ مبادلہ بھیجتے ہیں، جو ملکی معیشت کے لیے بہت اہم ہے۔ سعودی عرب پاکستان کو تیل کی فراہمی کی حوالے سے بھی رعایت دیتا رہا ہے۔ تو محمد بن سلمان کے پاس یہ سارے ’ہتھیار‘ ہیں، جو وہ ممکنہ ’بلیک میلنگ‘ کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ لیکن یہ کہنا مشکل ہے کہ وہ یہ امکانات کب استعما ل کریں گے۔‘‘

قطر خلیجی ہمسایوں سے اپنے تعلقات بہتر بنائے، اقوام متحدہ

قطر کی حاکمیت کو کوئی خطرہ نہیں، جرمن وزیر خارجہ

قطر کو مزید 48 گھنٹے کی مہلت

اسامہ بن جاوید کا کہنا تھا کہ پاکستان کے سعودی عرب سے بہت دیرینہ تعلقات ہیں۔ ’’میرے خیال میں اگر پاکستان کو سعودی عرب اور قطر میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا ، تو اسلام آباد کا جھکاؤ ریاض ہی کی طرف ہو گا۔ کئی ماہرین کا تو یہ خیال بھی ہے کہ پاکستانی وزیرِ اعظم نواز شریف نے چند ہفتے قبل سعودی عرب کا جو دروہ کیا تھا، اس کا مقصد بھی یہی تھا کہ ریاض حکومت کو یقین دہانی کرائی جائے کہ اسلام آباد اس کے ساتھ ہے۔‘‘

Saudi-Arabien General Qamar Javed Bajwa, Chief of Army staff (COAS)

پاکستانی فوج کے موجودہ سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سعودی بادشاہ سلمان سے ملاقات کرتے ہوئے

ایک اور سوال کے جواب میں اسامہ بن جاوید نے کہا، ’’جب آپ ایک اکتیس سالہ شخص کے ہاتھ میں اتنے سارے اختیارات دیں گے اور اس کے ذہن میں یہ بھی ہو گا کہ وہ تو سُنی دنیا کا شہزادہ ہے، تو پھر مسائل بھی پیدا ہوں گے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ محمد بن سلمان نے یمن میں سعودی مداخلت میں اضافہ کیا، ایران سے تعلقات خراب کیے اور اب وہ قطر سے بھی تعلقات خراب کر چکے ہیں۔ یمن کا مسئلہ سعودی عرب کے گلے میں پڑ گیا ہے۔ اب سعودی عرب کے اندر جو شیعہ آبادی ہے، اسے ترقی کے نام پر بڑے پیمانے پر بے دخل کیا جا رہا ہے۔ اس کے بھی خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں۔‘‘

اسلام آباد میں مقیم ایک فلسطینی صحافی نے، جو مشرق وسطیٰ کے امور پر بہت قریب سے نظر رکھتے ہیں، اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’محمد بن سلمان اس پوزیشن میں نہیں کہ وہ پاکستان سے کہہ سکیں کہ اسلام آباد ایران اور قطر کے حوالے سے کوئی جانبدارانہ موقف اختیار کرے یا قطر سے تعلقات ختم کر دے۔ کسی بھی ملک سے سفارتی تعلقات ختم کرنے کا تعلق کسی بھی ریاست میں اقتدارِ اعلیٰ سے ہوتا ہے۔ کوئی بھی ملک یہ نہیں چاہے گا کہ کوئی دوسرا ملک اسے یہ بتائے کہ اسے کس ریاست کے ساتھ سفارتی روابط رکھنا ہیں اور کس کے ساتھ نہیں۔ اگر سعودی حکمرانوں نے پاکستان سے ایسا کچھ کہا، تو یہ بہت بڑی غلطی ہو گی۔‘‘

قطر اور سعودی عرب کی کتنی دولت امریکا میں ہے؟

پاکستان کے تعاون کے بغیر خطے میں قیام امن ممکن نہیں، مک کین

پاکستان اور افغانستان کے لیے خصوصی امریکی مندوب مِلر مستعفی

اس فلسطینی صحافی نے مزید کہا کہ خود متحدہ عرب امارات نے بھی تہران سے اپنے سفارتی تعلقات پوری طرح ختم نہیں کیے۔ خلیج کے کئی ممالک ایران سے اب بھی تجارتی تعلقات رکھے ہوئے ہیں۔ تو پاکستان سے ایسا کیسے کہا جا سکتا ہے۔

Jemen Pakistanische Aktivisten unterstützen Saudi Arabien

یمن کے مسلح تنازعے میں پاکستان کی کئی سعودی نواز جماعتوں اور تنظیموں نے اپنے مظاہروں میں ریاض حکومت کے موقف کی حمایت کی تھی

انہوں نے کہا، ’’سعودی عرب اور ایران کی تجارت کا حجم ایک سوباون ملین ڈالر ہے، متحدہ عرب امارات کا تئیس بلین ڈالر، قطر کا ایک سو آٹھ ملین ڈالر، کویت کا چار سو پچاس ملین ڈالر، بحرین کا اٹھائیس ملین ڈالر اور عمان کا چھ سو ملین ڈالر۔ تو آپ دیکھیں کہ سعودی عرب اور یو اے ای کا ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات کا حجم قطر سے زیادہ ہے۔ یو اے ای نے اپنا سفیر ایران سے واپس بلایا ہے لیکن ایرانی سفیر ابھی تک وہاں موجود ہیں۔ متحدہ عرب امارات نے ابھی تک ایران سے اپنے تجارتی تعلقات بھی ختم نہیں کیے۔ تو جب ان کے اپنے تجارتی تعلقات ہیں، تو وہ کیسے پاکستان یا قطر کو کہہ سکتے ہیں کہ وہ ایران سے اپنے تعلقات ختم کر دیں۔ ایران پاکستان کا پڑوسی ملک ہے اور پاکستان اس حوالے سے جو بھی فیصلہ کرنا چاہے، اس کو اس کو پورا حق ہے۔ میری رائے میں وہ کسی تیسرے ملک کی ڈکٹیشن قبول نہیں کرے گا۔‘‘

اسی موضوع پر معروف صحافی حسن عبداللہ نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ’’محمد بن سلمان سعودی مفادات کا بہت ہی سرگرمی سے دفاع کریں گے۔ ہمیں یہ بھول جانا چاہیے کہ ایسی ریاستیں اسلامی اخوت یا بھائی چارے کے اصول پر کام کر رہی ہیں۔ آج کے دور میں ریاستوں کے اپنے مفادات ہوتے ہیں اور وہ انہی مفادات کی روشنی میں اپنے فیصلے کرتی ہیں۔‘‘

حسن عبداللہ نے کہا، ’’میرے خیال میں محمد بن سلمان پاکستان کو کہیں گے کہ وہ ہنری کسنجر بن کر کوئی مصالحت نہ کرائے بلکہ اسلام آباد واضح طور پر بتائے کہ وہ ریاض کے ساتھ ہے یا پھر تہران اور دوحہ حکومتوں کے ساتھ۔ نئے سعودی ولی عہد کوئی غیر جانبدارانہ موقف نہیں سننا چاہتے۔ اسی لیے مستقبل میں پاکستان پر سعودی دباؤ میں اضافہ ہو گا۔‘‘

DW.COM