1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کیا میانمار بہتری کی طرف گامزن ہے؟

میانمار حکومت نے انسانی ہمدردی کے تحت چھ ہزار تین سو سے زائد قیدیوں کو رہا کر دیا ہے لیکن سیاسی قیدیوں کے رہائی سے میانمار حکومت کونسے مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے ؟

default

قیدیوں کی رہائی سے متعلق میانمار حکومت کے فیصلے سے مغربی دنیا میں یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ وہاں کی حکومت جمہوری نظام کے فروغ کے لیے سنجیدہ ہے۔ یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ کیتھرین ایشٹن نے قیدیوں کی رہائی کو اصلاحاتی عمل سے تعبیر کیا ہے۔ امریکی سینیٹر جان کیری نے بھی اسی طرح کے محتاط خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شاید وہاں تبدیلی جگہ لے رہی ہے۔ کیا واقعی تبدیلی آ رہی ہے اس کا اندازہ میانمار کے صدر تھین سین کے اس وقت جاری دورہ بھارت سے بھی لگایا جا سکے گا۔ بھارت ایک طویل عرصے سے کہتا آیا ہے کہ اگر مغرب میانمار کا چین پر انحصار کم کرنے میں ناکام رہا تو یہ مغرب کی سب سے بڑی ناکامی ہو گی۔ بھارت کے پاس اس وقت موقع ہے کہ وہ مزید قیدیوں کی رہائی کے لیے تھین سین کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ انہیں بیجنگ حکومت پر انحصار کم کرنے کے لیے آمادہ کرے۔ امید کی جا سکتی ہے کہ اس طرح کے بھارتی مطالبات کو زرخیز زمین مل سکتی ہے۔ قیدیوں کی رہائی سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ میانمار کے موجودہ صدر مغربی ممالک کے دیرینہ مطالبات ماننے کے لیے تیار ہیں۔

Myanmar Birma Politische Häftlinge werden freigelassen

میانمار حکومت نے انسانی ہمدردی کے تحت چھ ہزار تین سو سے زائد قیدیوں کو رہا کر دیا ہے

مارچ 2011ء میں صدارتی حلف اٹھانے والے تھین سین نے نوبل امن انعام یافتہ آنگ سان سوچی پر عائد پابندیاں ختم کر دی تھیں۔ ملک میں اپوزیشن کی علامت سمجھی جانے والے سوچی ایک طویل عرصے سے اپنے گھر پر نظر بند تھیں اور بیس برس بعد انہیں سیاسی اکھاڑے میں قدم رکھنے کی اجازت دی گئی تھی۔ اگست میں میانمار کے صدر نے آزادی کی علامت سمجھی جانے والی سوچی سے ملاقات بھی کی۔ اس موقعے پر ایک تصویر بھی شائع کی گئی، جس میں سوچی اور ان کے دفتر میں ان کے والد کی لٹکی ہوئی تصویر بھی دیکھی جا سکتی تھی۔ ایک برس قبل سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا کہ ایسی تبدیلی رونما ہو سکتی ہے۔

تیس ستمبر کو میانمار نے ایک متنازعہ ڈیم کی تعمیر کا منصوبہ، جس میں اسے چین کی حمایت حاصل تھی، معطل کر دیا۔ یہ پہلی مرتبہ تھا کہ میانمار میں کئی برسوں بعد حکومتی سطح پر عوام کی آواز کو سنا گیا تھا۔

اس پس منظر میں اگر یہ کہا جائے کہ میانمار میں جمہوریت سے قربت اور سیاسی جبر سے دوری کا رجحان ابھر رہا ہے تو غلط نہ ہو گا۔ رواں ہفتے سیاسی قیدیوں کی رہائی اس کی تازہ ترین مثال ہے۔ لیکن بہت سے خدشات ابھی بھی موجود ہیں۔

تبصرہ: گراہم لوکاس

ترجمہ: امتیاز احمد

ادارت: افسر اعوان

DW.COM