1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

کیا مہاجرین چھٹیاں گزارنے اپنے آبائی ملک جا سکتے ہیں؟

جرمنی میں پناہ گزین کے درجے کے حامل متعدد مہاجرین چھٹیوں پر اپنے آبائی وطن واپس جاتے ہیں، تاہم سوال یہ ہے کہ قانون اس بابت کیا کہتا ہے اور یہ واقعات کتنے تواتر سے ہو رہے ہیں؟

سیاسی پناہ کی درخواست میں یہ موقف اپنانا کہ انہیں اپنے آبائی ملک میں جان کا خطرہ لاحق ہے، تاہم چھٹیاں گزارنے کے لیے اپنے آبائی ملک کا رخ کرنا ایک نہایت سنجیدہ معاملہ ہے۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے بھی اس بابت خبردار کیا ہے کہ ایسے مہاجرین کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ جرمن اخبار ویلٹ ام زونٹاگ سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تارکین وطن کا یہ عمل ناقابل قبول ہے اور ممکن ہے کہ ایسے تارکین وطن کی سیاسی پناہ کی درخواستوں کا ازسرنو جائزہ لیا جائے۔

مہاجرین اپنے خاندان جرمنی کیسے بلائیں؟

جرمنی میں پناہ کی درخواستوں پر فیصلوں میں کتنا وقت لگتا ہے؟

یورپ میں پناہ کے مقدمات پر کیسے فیصلے سنائے گئے؟

 

جرمن میڈیا پر سامنے آنے والی رپورٹوں میں جرمن صوبے باڈن ووٹمبرگ کے دفتر برائے تارکین وطن کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ قریب سو ایسے واقعات سامنے آئیں ہیں، جن میں مہاجرین نے اپنے آبائی ممالک کا دورہ کیا اور کچھ تو کئی مرتبہ اپنے اپنے ممالک واپس گئے، تاہم ان افراد کو دیا گیا ’پناہ گزین‘ کا درجہ بھی برقرار رہا۔ جرمن میڈیا نے وفاقی وزارتِ داخلہ کے حوالے سے بھی ایسی ہی اطلاعات دی تھیں۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق جرمنی میں موجود مہاجرین کاروباری دوروں اور خاندان سے ملنے اپنے آبائی ممالک کا رخ کرتے ہیں۔

جرمن صوبے لوئر سیکسینی کی مہاجرین کونسل کے رکن کریم الواسطی نے انفومائیگرینٹس کو بتایا کہ ایسے مہاجرین کے پناہ گزین کے درجے کی بابت ازسرنو جائزہ لینے میں کچھ وقت درکار ہو گا، تاہم جائزہ لیا ضرور جائے گا، ’’جب تک ان مہاجرین کے پاس جرمن شہریت نہیں ہے، حکام ان کی سیاسی پناہ کی منظور کردہ درخواستوں پر دوربارہ غور کر سکتے ہیں۔‘‘

ویڈیو دیکھیے 02:09

’افغان مہاجر جرمنی کے کارآمد شہری بن سکتے ہيں‘

الواسطی کے مطابق پناہ کی درخواستوں پر ازسرنو جائزے کا قانون صرف جرمنی میں موجود ہے۔ گزشتہ برس جرمن حکام نے 842 عراقی مہاجرین کی فائلوں کا دوبارہ جائزہ لیا تھا اور 630 کی بابت فیصلے کیے تھے، جب کہ 26 افراد کو اپنی سیاسی پناہ کی درخواستیں واپس لینا پڑی تھیں۔

گزشتہ برس شامی مہاجرین میں سے 782 افراد کی درخواستوں کو دوبارہ جائزہ لیا گیا تھا، جب کے 317 فیصلے کیے گئے تھے، جن میں سے ایک شخص سے جرمن جب کہ 41 افراد سے جنیوا کنوینشن کے قانون کے مطابق پناہ گزین کا درجہ واپس لیا گیا تھا۔

DW.COM

Audios and videos on the topic