1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

کیا مہاجرین انتخابات پر اثر انداز ہو رہے ہیں؟

یورپی یونین کی کئی اہم رکن ریاستوں کے لیے یہ برس الیکشن کا ہے اور ایسے میں تارکین وطن کے معاملے پر میڈیا کوریج اب تک کسی تعمیری بحث سے خالی دکھائی دیتی ہے۔ اس کا فائدہ مہاجرین مخالف اور عوامیت پسند جماعتوں کو ہو رہا ہے۔

یورپ میں ہالینڈ عام انتخابات سے ابھی ابھی گزرا ہے، جب کہ فرانس اور جرمنی میں بھی رواں برس انتخابات منعقد ہونا ہیں۔ ایسے میں مہاجرین کے بحران جیسے اہم موضوع پر میڈیا کوریج مایوس کن حد تک غیرتعمیری رہی ہے، جس کا فائدہ عوامیت پسند رہنماؤں اور جماعتوں کی مقبولیت کی صورت میں برآمد ہوا ہے۔ یہ تنظیمیں اس موضوع کو بنیاد بنا کر غیرحقیقی اور ہنگامہ خیز بیانات کے ذریعے عوامی توجہ حاصل کر رہی ہیں مگر میڈیا پر ان بیانیوں پر تعمیری یا تنقیدی بحث نظر نہیں آ رہی۔

جرمن دارالحکومت برلن سے تعلق رکھنے والی محققہ اور مصنفہ کرسٹینا لی اور مریم اسد نے مائیگریشن ووٹرز کے نام سے ایک ویب سائٹ شروع کی ہے، جس کا مقصد مہاجرت سے متعلق مختلف سیاست دانوں کے بیانیوں پر بحث کرنا ہے۔

لی کا کہنا ہے کہ بریگزٹ، ڈونلڈ ٹرمپ، گیئرٹ ولڈزر، مارین لے پین اور آلٹرنیٹیو فار جرمنی کے درمیان ایک مشترکہ معاملہ دکھائی دیتا ہے اور وہ ہے مہاجرت کا خوف پیدا کرنا اور اسے روکنے کے لیے بڑے بڑے دعوے کرنا۔ ’’یہ ایسے وعدے ہیں، جو کیے ہی توڑنے کے لیے جاتے ہیں اور میڈیا ان دعووں کی قلعی کھولنے میں ناکام رہا ہے۔‘‘

لی نے مزید کہا، ’’آپ کوئی نہایت برا کام کر کے کچھ وقت کے لیے بچ سکتے ہیں، مگر آخر میں ایسے اقدامات کے قانونی نتائج بھی آپ کو بھگتنا پڑتے ہیں۔ ایسے سیاست دان جو ووٹ لینے کے لیے بڑے بڑے وعدے کر رہے ہیں وہ عدالت میں پکڑے جا سکتے ہیں۔‘‘

Die Integration von Flüchtlingen in der Türkei (DW/D. Cupolo)

یورپ میں مہاجرین مخالف تنظیمیں عوامی مقبولیت حاصل کر رہی ہیں

امریکی صدر ٹرمپ کے حال ہی میں متعدد مسلم اکثریتی ممالک کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی کے انتظامی احکامات کو عدالتی منسوخی کا سامنا کرنا پڑا۔

لی کا اس حوالے سے کہنا ہے، ’’جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں، ایسے کسی اقدام کے لیے کوئی قانونی اساس موجود نہیں ہے۔ ایسا نہیں کہ وہ کوئی پاگل یا بے وقوف ہیں، بلکہ ایسا ہے کہ ان کا قدم غیر قانونی ہے۔ وہ ایسی بیسیوں پابندیوں کے احکامات جاری کر سکتے ہیں، مگر ان پر عمل درآمد نہیں ہو پائے گا، کیوں کہ دستور ان کے راستے کی دیوار ہے۔‘‘

لی نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت میں کہا کہ اس تمام صورت حال میں لوگوں کو یہ بتانا ضروری ہے کہ آپ کسی ایسے سیاست دان کی حمایت نہ کریں، جو ایسے غیرقانونی اقدامات کے وعدے آپ سے کر رہا ہو، کیوں کہ ان وعدوں پر عمل نہیں ہو سکتا۔

لی کے مطابق صدر ٹرمپ کی جانب سے پہلی دفعہ مسلم اکثریتی ممالک کے شہریوں پر پابندیوں کی بات کرنے پر میڈیا رپورٹنگ درست انداز سے نہیں کی گئی تھی، ’’یوں محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے میڈیا کو بھی ایسے غلط اقدام پر خوشی ہے۔ انہوں نے ٹرمپ سے یہ نہیں پوچھا کہ وہ ایسا کس قانون کے تحت کریں گے؟ مہاجرت کے معاملے پر ووٹ دینے والے یا کسی سیاست دان کی حمایت کرنے والے کو یہ نکتہ اپنے ذہن میں رکھنا چاہیے۔‘‘

فرانس میں لی پین کی جانب سے بھی مسلم مخالف اور مہاجرین مخالف بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ لی کے مطابق، ’’مہاجرین کے بحران پر قابو پانے کے لیے لے پین کے وعدے نہایت کھوکھلے ہیں اور ان سے اس معاملے میں کسی بہتری کی کوئی صورت کم ہی دکھائی دیتی ہے۔ ان کے مقابلے میں فرانسوا فیوں ایک منجھے ہوئے سیاست دان ہیں، جو مہاجرت کے قوانین اور پالیسیوں سے اچھی طرح سے آگاہ ہیں۔‘‘