1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کیا مودی کی ایم اے کی ڈگری اصلی اور بی اے کی جعلی ہے؟

بھارت کی سیاسی جماعت ’عام آدمی پارٹی‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ ملکی وزیراعظم نریندر مودی کے پاس بی اے کی جعلی ڈگری ہے۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر دلچسپ بحث و مباحثہ جاری ہے۔

بھارت کے دارلحکومت نئی دہلی کے وزیراعلٰی اروند کیجریوال نے دہلی یونیورسٹی کو ایک خط میں لکھا ہے کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی کی بی اے کی ڈگری کو اپنی ویب سائٹ پر شائع کریں۔ اروند کیجریوال کی سیاسی جماعت ’عام آدمی پارٹی‘ کا موقف ہے کہ بھارت کے وزیراعظم نے کبھی دہلی یونیورسٹی سے بی اے کا امتحان پاس ہی نہیں کیا اور نہ ان کے پاس وہاں کی ڈگری ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت کے وزیراعظم کے دفتر نے ابھی تک اس سیاسی جماعت کے الزامات کا جواب نہیں دیا۔

اس حوالے سے بھارت میں سوشل میڈیا پر دلچسپ بحث کی جارہی ہے۔ ٹوئٹر کے کچھ صارفین اپنی ڈگریوں کی تصاویر شیئر کر رہے ہیں اور بھارت کے وزیراعظم کو بھی ایسا ہی کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر کچھ ایسے افراد بھی ہیں جو کہہ رہے ہیں کہ انہیں ڈگری کے نام پر کی جانے والی سیاست سے غرض نہیں بلکہ ان کے مسائل تو پانی، بجلی اور دیگر سہولیات کا فقدان ہے۔

نریندر مودی نے سن 2014 کے انتخابات سے قبل کہا تھا کہ انہوں نے سن 1978 میں دہلی یونیورسٹی سے بی اے اور سن 1983 میں گجرات یونیورسٹی سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی تھی۔ اروند کیجریوال کی درخواست پر گجرات یونیورسٹی نے یہ معلومات عام کر دی ہیں کہ نریندر مودی نے یہاں سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی ہے تاہم دہلی یونیورسٹی اب تک بھارت کے وزیراعظم کی بے اے کی ڈگری کے بارے میں خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔

DW.COM