1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کیا مسئلہ کشمیر کا حل ہے اوباما کے پاس؟

سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ نو منتخب امریکی صدر باراک اوباما کے خصوصی مشیر کے طور پر بروس ریڈل کی نامزدگی سے مسئلہ کشمیر کے حل کی امید پیدا ہو گئی ہے۔

default

تجزیہ نگار باراک اوباما کے بطور صدر انتخاب کو امریکی خارجہ پالیسیوں میں تبدیلیوں کے حوالے سے دیکھ رہے ہیں

باراک اوباما کے بطور امریکی صدر انتخاب سے جہاں امریکہ کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کے اشارے مل رہے ہیں وہاں خاص طور پر پاکستان اور بھارت کے درمیان کئی دہائیوں سے باعث تنازعہ، مسئلہ کشمیر کے حل کی بھی امید پیدا ہو چلی ہے۔

اسکی وجہ تجزیہ نگاراور سابق امریکی صدر بل کلنٹن کے خصوصی معاون بروس ریڈل کی بطور صدارتی مشیر نامزدگی ہے۔ ریڈل نے سابق صدر کلنٹن کے خصوصی معاون کے طور پر 1999میں کارگل کے تنازعے کے موقع پر پاک بھارت کشیدگی کم کرانے اور 4 جولائی کے اس معاہدے کی تیاری میں مرکزی کردار ادا کیا تھا جس کے تحت کارگل سے پاکستانی افواج کی واپسی ممکن ہوئی۔

پاک بھارت مذاکرات میں شریک ہونے کے باعث بروس ریڈل نے بعد ازاں جو مقالے اور مضامین لکھے ان میں انہوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ کشمیر کے تنازعہ کے حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں۔