1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کیا مردہ شخص کے نطفے سے بچہ پیدا کرنے کی اجازت ہونی چاہیے؟

سائنسی ترقی کے ساتھ ساتھ نئے قانونی مسائل بھی جنم لے رہے ہیں۔ جرمنی میں ایک 35 سالہ بیوہ اپنے متوفی شوہر کے نطفے سے بچہ پیدا کرنے کی خواہش مند ہے لیکن عدالت کا کہنا ہے کہ ایسا کرنا اخلاقی اعتبار سے ٹھیک نہیں ہوگا۔

جرمنی کی ایک پینتیس سالہ بیوہ کی خواہش ہے کہ وہ اپنے متوفی شوہر کے ہی نطفے سے بچہ پیدا کرے۔ اس مقصد کے لیے اس خاتون نے جرمن شہر میونخ کی ہائر ریجنل کورٹ میں مقدمہ دائر کر رکھا تھا لیکن آج یہ خاتون اپنا مقدمہ ہار گئی ہیں۔

بدھ کے روز اس اعلیٰ علاقائی عدالت کا کہنا تھا کہ خواہش کے باوجود اس خاتون کو اپنے  متوفی شوہر کے نطفے سے حاملہ ہونے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اس طرح اس اعلیٰ علاقائی عدالت نے اپیل مسترد کرتے ہوئے پہلے سے ہی ایک زیریں عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔

تاہم اس خاتون کو اب بھی اپیل کا حق حاصل ہے اور وہ اس سلسلے میں وفاقی عدالت سے رابطہ کر سکتی ہیں۔

Symbolbild Samenspende (picture-alliance/dpa)

انہوں نے مصنوعی طریقے سے بچہ پیدا کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور مرد نے اپنے سپرمز ایک کلینک میں جمع کروا دیے تھے

اس جرمن خاتون کا شوہر سن 2015ء میں اڑتیس برس کی عمر میں دل کا دورہ پڑنے سے اچانک انتقال کر گیا تھا لیکن اس سے پہلے انہوں نے مصنوعی طریقے سے بچہ پیدا کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور مرد نے اپنے سپرمز ایک کلینک میں جمع کروا دیے تھے۔

اپنے شوہر کی وفات کے بعد اس خاتون نے حاملہ ہونے کے لیے اس کلینک سے رابطہ کیا، جہاں سپرمز محفوظ کر کے رکھے گئے تھے لیکن کلینک کی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ جنین پروٹیکشن ایکٹ کے قوانین کے تحت کسی بھی متوفی شخص کے سپرمز استعمال نہیں کیے جا سکتے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے، ’’درخواست گزار نے اس خاص خواہش کا اظہار کیا ہے کہ وہ اپنے متوفی شوہر اور اپنے جینز اپنے بچے کی صورت میں دیکھنا چاہتی ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جب بچے کو اپنی پیدائش سے متعلق پتہ چلے گا تو یہ بات اس کے لیے شدید مسئلہ بن سکتی ہے۔‘‘

عدالت میں ججوں کے صدر کا کہنا تھا، ’’ ہم نے طویل  غور کیا ہے اور اس سوال کا جواب دینا بھی کوئی آسان بات نہیں ہے لیکن جو چیز تکنیکی طور پر ممکن ہے لازمی نہیں کہ قانونی طور پر بھی اس کی اجازت دی جائے۔‘‘