1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کیا لیبیا مستقبل کا افغانستان ثابت ہو سکتا ہے؟

لیبیا میں قذافی حکومت کے خاتمے کے بعد کی صورتحال کو بحالی اور تعمیر نو کے کاموں میں مصروف ایک تنظیم کے سربراہ فواد علی تکبیلی ’ایک ممکنہ افغانستان‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس حوالے سے ان کا ڈوئچے ویلے کے ساتھ خصوصی انٹرویو:

default

فواد علی تکبیلی نے معمر قذافی کے دورحکومت میں جلا وطنی کے دوران متعدد برس جرمنی میں گزارے۔ معمر قذافی کے خلاف عوامی مظاہروں اور مسلح جدوجہد کے آغاز کے بعد انہوں نے ایک خیراتی ادارے کی بنیاد رکھی، جس کا نام ہے، ’طرابلس مفت امدادی تنظیم‘۔ اس تنظیم کا مرکزی دفتر لیبیا کے درالحکومت طرابلس میں ہے۔ یہ تنظیم بنیادی طور پر مہاجرین کے لیے اہم ترین ضروریات کی فراہمی کی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔

ڈوئچے ویلے: قذافی کے بعد لیبیا میں سب سے اہم مسائل کیا کیا ہیں؟

فواد علی تکبیلی: طرابلس کی گلیاں ایسے افراد سے بھری پڑی ہیں، جو اسلحہ بردار ہیں۔ ان کی تعداد ناقابل شمار ہے۔ داخلی طور پر نقل مکانی کرنے والے افراد بھی ایک بڑا مسئلہ ہیں۔ یہ افراد گھروں کو واپس نہیں جا سکتے کیونکہ ان کے گھر تباہ ہو چکے ہیں۔ یہ مستقل طور پر کیمپوں میں سکونت اختیار کیے ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر طرابلس میں قائم ایک مہاجر بستی میں 120 خاندان باقاعدہ طور پر رجسٹرڈ ہیں، تاہم ان افراد کی حتمی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ ان میں سے زیادہ تر افراد انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ لیبیا میں اس وقت ایک اور اہم مسئلہ بے یقینی اور بداعتمادی ہے۔ لوگ ایک دوسرے پر اعتبار کرنے پر تیار دکھائی نہیں دیتے۔ بہت سے لوگ بدلہ لینا چاہتے ہیں۔ اس مسئلے سے فوری طور پر نمٹنا کوئی آسان عمل نہیں ہو گا۔

Flash-Galerie Libyen nach dem Tod Gadhafis

لیبیا میں بڑی تعداد میں میزائل اب بھی جنگجوؤں کے پاس ہیں

ڈوئچے ویلے: لیبیا میں جنگ ختم ہو چکی ہے، تو سڑکوں پر اسلحہ بردار افراد کی موجودگی کا جواز کیا ہے؟

فواد علی تکبیلی: یہ کوئی نہیں جانتا۔ غالباﹰ اس کی متعدد وجوہات ہیں، جن میں بے اعتباری سب سے اہم ہے۔ یہاں کوئی شخص کسی دوسرے پر اعتبار کرنے پر آمادہ نہیں۔ مصراتہ، زنتان اور دیگر سرحدی شہروں میں لوگ اسلحہ حکومت کے حوالے نہیں کرنا چاہتے کیونکہ ان کا خیال ہے کہ انہیں اپنے آس پاس کے لوگوں سے خطرہ ہے۔ یہ افراد قذافی دور حکومت کی تلخیوں اور باہمی رنجشوں کے باعث ایک مستقل غیر یقینی کی کیفیت کا شکار ہیں۔ جب تک انہیں کوئی مناسب روزگار نہیں مل جاتا، ان کے پاس موجود اسلحے کی واپسی ممکن نہیں ہو گی۔ ایک اور وجہ قذافی مخالف جنگجوؤں میں خواندگی کی کم شرح ہے۔ ان میں سے زیادہ تر افراد کو یہ نہیں معلوم کہ وہ مستقبل میں کیا کریں گے۔ میرے خیال میں نئی حکومت کے لیے فی الحال ایسا ممکن نہیں ہو گا کہ وہ ان افراد سے اسلحہ واپس لینے کے لیے کسی سخت قدم کا سوچے۔

ڈوئچے ویلے: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ لیبیا میں قومی عبوری کونسل ان مسائل سے فوری طور پر نمٹ سکتی ہے؟

فواد علی تکبیلی: مجھے نہیں لگتا۔ حکومت اس وقت پوری طرح خارجہ پالیسی میں الجھی ہوئی اور عوام کو بھولی ہوئی نظر آتی ہے۔ وہ بظاہر بین الاقوامی سطح پر کیے گئے اپنے وعدوں کی پاسداری میں مصروف ہے۔ ایسے میں شاید ہی عوام کے بارے میں کوئی کچھ سوچ رہا ہو۔ اس وقت ایک طرف تو عوام کے درمیان ایک دوسرے پر بداعتمادی ہے دوسری جانب عوام کا قومی عبوری کونسل پر اعتماد بھی دن بدن کم ہو رہا ہے۔

Flash-Galerie Libyen nach dem Tod Gadhafis

خانہ جنگی میں لیبیا میں بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے

ڈوئچے ویلے: ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ لیبیا میں معمر قذافی کے حامیوں کے خلاف پرتشدد کارروائیاں ہو رہی ہیں۔ اس بارے میں آپ کی رائے کیا ہے؟

فواد علی تکبیلی: قومی عبوری کونسل نے اب تک کھوکھلے وعدے کیے ہیں۔ بنی ولید، سرت اور معمر قذافی کے گڑھ سمجھے جانے والے دیگر علاقوں میں عوام کے ساتھ ناروا سلوک برتا جا رہا ہے۔ سیاہ فام افراد کے خلاف تشدد کے واقعات کی رپورٹیں تواتر سے سامنے آر ہی ہیں۔ کئی افراد کو شدید جسمانی اذیت دی گئی ہے۔ متعدد واقعات میں قومی عبوری کونسل کے حامیوں نے بھی وہی کیا، جو معمر قذافی کے دورحکومت میں مخالفین کے ساتھ کیا جاتا تھا۔ اگر فوری طور پر ملک میں کوئی قانون اور ضابطہ رائج نہ ہوا، تو عین ممکن ہے کہ لیبیا ایک نیا افغانستان بن جائے۔ طرابلس میں صورتحال ابتر ہے اور ملک میں فوری طور پر سول سوسائٹی کی تعمیر کی ضرورت ہے۔

انٹرویو: کارلوس زوروتوزا

ترجمہ: عاطف توقیر

ادارت: مقبول ملک

DW.COM