1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کیا فیس بک کا ’لائک‘ بٹن دھوکا ہے؟

فیس بک کو جرمنی میں صارفین کی نجی معلومات کے تحفظ کے ایک مقدمے میں عدالتی کارروائی کا سامنا ہے۔ ایک جرمن عدالت نے فیس بک سے اپنے صارفین کا ڈیٹا دوسری کمپنیوں کو فروخت کرنے کے معاملے میں وضاحت طلب کر لی ہے۔

جرمن شہر ڈسلڈورف کی ایک عدالت آج بدھ کو یہ فیصلہ کرے گی کہ ’لائک‘ کا بٹن دبانے کے ذریعے جو ڈیٹا ای کامرس ویب سائٹس سے فیس بک کو بھیجا جاتا ہے، وہ جرمن اور یورپی پرائیویسی قوانین کی خلاف ورزی ہے یا نہیں؟ یہ ڈیٹا کوئی ’تھرڈ پارٹی‘ کمپنیاں استعمال کرتی ہیں۔ عدالت کے مطابق لائک کا بٹن اعداد و شمار کے تحفظ کے قواعد کی خلاف ورزی ہے، کیونکہ اس کے ذریعے صارف کے کمپیوٹر کا آئی پی ایڈریس اس کی رضامندی کے بغیر فیس بک کو منتقل کر دیا جاتا ہے۔ ایک خاتون وکیل زابینے پَیٹری کے مطابق، ’’کسی کو نہیں معلوم کہ فیس بک اس ڈیٹا کو کس طرح استعمال کرتا ہے؟‘‘

جرمن صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا میں صارفین کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ایک ادارے نے اس سلسلے میں ای کامرس شعبے سے تعلق رکھنے والی دو کمپنیوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی شروع کر رکھی ہے۔ اس سلسلے میں عدالت میں دائر کردہ درخواست میں کہا گیا ہے کہ یہ ای کامرس ویب سائٹس فیس بک سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار صارفین کو بتائے بغیر استعمال کرتی ہیں۔ اس ادارے کا مزید کہنا ہے کہ فیس بک کے لائک بٹن کے ذریعے ایسے سافٹ ویئر لوگوں کے کمپیوٹرز پر ڈاؤن لوڈ ہو جاتے ہیں، جوصارف کی دلچپسیوں کے بارے میں ایک رپورٹ مرتب کرتے ہیں۔ اس کے لیے ضروری نہیں ہے کہ لائک کا بٹن دبانے والے صارف کا اس سماجی ویب سائٹ پر کوئی اکاؤنٹ ہے یا نہیں۔

اس سلسلے میں چھ کمپنیوں سے رابطہ کر کے انہیں اس سافٹ ویئر کے استعمال سے باز رہنے کے لیے کہا گیا تھا، جس کے بعد دو کمپنیوں نے اس امکان کو استعمال نہ کرنے کی حامی بھر لی تھی۔ اس کے علاوہ صارفین کے تحفظ کا یہ ادارہ دو مزید ایسی کمپنیوں سے اس سلسلے میں بات چیت جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ بقیہ دو اداروں کے انکار کے بعد عدالت سے رجوع کیا گیا ہے۔