’کیا فوج جی ایچ کیو کے باہر بھی دھرنے کی اجازت دے گی‘ | حالات حاضرہ | DW | 27.11.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’کیا فوج جی ایچ کیو کے باہر بھی دھرنے کی اجازت دے گی‘

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس شوکت صدیقی نے دھرنے کے خاتمے میں فوجی سربراہ جنرل جاوید قمر باجوہ کے کردار پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے پیر کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہو کر بتایا کہ 21 روز سے جاری دھرنا ختم ہو گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومتی نمائندے اور دھرنا دینے والی جماعت تحریک لبیک یا رسول اللہ کے رہنما آج ایک مشترکہ پریس کانفرنس کر رہے ہیں۔

پاکستانی وزير قانون مستعفی، دھرنا ختم

دھرنے سے زندگی متاثر اور کرکٹ بھی

پاکستان: دھرنے کے بارے میں پانچ اہم باتیں

تاہم جسٹس شوکت صدیقی نے اس معاملے میں فوج کی ثالثی میں طے پانے والے معاہدے پر تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں وزیر داخلہ سے اس بات پر وضاحت چاہیے کہ فوجی افسران نے کس حیثیت سے حکومت اور دھرنا رہنماؤں کے درمیان ثالثی کی؟

’’کس حیثیت سے فوجی سربراہ کا نام اس معاہدے میں ضامن کے طور پر شامل کیا گیا اور کس قانون کے تحت ایک جنرل (جنرل فیض حمید) اس میں ثالث تھے؟‘‘

جسٹس شوکت صدیقی نے کہا کہ مظاہرین نے دارالحکومت اسلام آباد میں افراتفری پیدا کی اور 21 روز تک ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ انہوں نے قبائلی علاقوں میں جاری فوجی آپریشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ردالفساد کہاں ہے؟‘

انہوں نے وزیرداخلہ سے کہا کہ کیا فوج جی ایچ کیو (جنرل ہیڈکوارٹرز) کے قریب دھرنے کی اجازت دے گی؟

ویڈیو دیکھیے 01:52

دھرنے کی وجہ سے کراچی میں نظام زندگی مفلوج

‌جسٹس شوکت صدیقی نے کہا کہ اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ فوجی افسران کو سیاست میں دخل اندازی کا بہت شوق ہے۔ ’’وہ اپنے عہدے چھوڑ کر عملی طور پر سیاست میں کیوں نہیں آتے؟‘‘

انہوں نے واضح الفاظ میں کہا، ’’پاکستانی فوج اپنے دستور حدود میں کام کرے۔ جنرل حمید کی خدمات ریاست کے لیے ہونا چاہئیں اور وہ اس طرز کے کسی بھی معاہدے کے ثالث نہیں بن سکتے۔‘‘

جسٹس صدیقی نے وزارت داخلہ سے دھرنا ختم کرانے کے لیے پولیس کی مدد سے کی گئی کارروائی میں ناکامی کی تفصیلی رپورٹ بھی طلب کی۔

جسٹس شوکت صدیقی کے ان ریمارکس پر پاکستانی سوشل میڈیا پر بھی زبردست بحث جاری ہے اور ان کی پزیرائی کی جا رہی ہے۔

سوشل میڈیا صارف وقاص نے اپنے ایک پیغام میں لکھا ہے۔

’’جسٹس شوکت آپ نے ثابت کیا ہے کہ آپ دستور کے محافظ ہیں اور حکومت اور فوج دونوں کی سرزنش کر سکتے ہیں۔‘‘

ایک اور صارف فواد کے مطابق جسٹس شوکت کے ان ریمارکس سے صحافیوں اور تجزیہ کاروں کی حوصلہ افزائی ہو گی کہ وہ گزشتہ کچھ روز میں اٹھنے والے بہت سے سوالات پر کھل کر بات کر سکیں۔

سوشل میڈیا صارف صبینہ صدیقی کے مطابق، ’’جسٹس شوکت نے پرویز مشرف کے قابل ضمانت مقدمے میں ضمانت ختم کی تھی۔ وہ سن 2002ء کے انتخابات میں مذہبی جماعت متحدہ مجلس عمل کے ٹکٹ پر انتخاب بھی لڑ چکے ہیں اور ایک مقدمے میں لال مسجد کے وکیل بھی رہ چکے ہیں۔‘‘

ایک اور ٹوئٹر صارف ہارون بلوچ کا کہنا ہے، ’’جسٹس شوکت کتنے غیرمتوقع واقع ہوئے ہیں۔ ان سے کبھی اس بیان کی توقع نہیں کی جا سکتی تھی، مگر انہوں نے درست کہا۔‘‘

DW.COM

Audios and videos on the topic