1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

کیا فلمیں بھارت اور پاکستان کو قریب لا سکتی ہیں؟

سلمان خان کی حالیہ فلم جنوبی ایشیا کے دونوں ہمسایہ ملکوں کے مابین اچھے تعلقات کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔ سنیما کا چہرہ تبدیل ہو رہا ہے لیکن کیا یہ پاک بھارت دیرپا دوستی کے لئے راہ ہموار کر سکتا ہے؟

بالی وڈ سٹار سلمان خان کی حالیہ فلم ’’بجرنگی بھائی جان‘‘، جس کے ہدایتکار نوجوان فلم ساز کبیر خان ہیں، کی کہانی ایک ایسے ہندو بھگت کے گرد گھومتی ہے، جو بھارت میں گم ہو جانے والی پاکستانی لڑکی کو پاکستان کے زیر کنٹرول کشمیر میں رہنے والے اس کے خاندان سے ملانے کے لئے کئی رکاوٹیں عبور کرتا ہے۔ یہ فلم باکس آفس پر بھی ہٹ رہی ہے جبکہ دونوں جانب پاکستان اور بھارت کی جانب سے اس کی تعریف کی گئی ہے۔

ثقافتی قربت اور تجارتی مفادات

پاکستانی دانشور اور مصنفہ عائشہ صدیقہ کی رائے میں ’’بجرنگی بھائی جان‘‘ جیسی فلمیں بھارتیوں اور پاکستانیوں کو ان کی جغرافیائی قربت یاد دلاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا، ’’پاکستان کا بہترین دوست چین ہے لیکن پاکستانی چین کی بجائے بالی وڈ کی فلمیں دیکھتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود پاکستان اور بھارت کے زیادہ تر لوگ ایک دوسرے کے بارے میں بہت کم جانتے ہیں۔‘‘

دوسری جانب ہندوستانی بلاگر اور سماجی نقاد شوام وِج کہتے ہیں کہ بالی وڈ میں پاکستان کے لئے نئی محبت کے پیچھے تجارتی وجوہات ہیں، ’’یہ نقطہ انتہائی اہم ہے کہ پاکستان بالی وڈ موویز کے لیے چھٹی بڑی مارکیٹ ہے۔ پاکستانی تارکین وطن بھی بالی وڈ کے ناظرین ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان مخالف فلمیں نہ بنانے سے بالی وڈ کے معاشی مفادات جڑے ہوئے ہیں۔‘‘ ان کا ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’بالی وڈ کے ساتھ پاکستانی فنکاروں کے رابطے بھی اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔‘‘

شوام وج کا کہنا تھا کہ ملک میں مذہب پرستی کی ہوا کے باوجود بھارتی سنیما لبرل ہے اور وسیع تصویر پیش کر رہا ہے، ’’صرف پاکستان ہی نہیں بہت سے دیگر ایسے ایشوز پر بھی بالی وڈ بات کر رہا ہے، جن کے بارے میں عام حالات میں کچھ کہنا مشکل ہوتا ہے۔‘‘

نئے آغاز کی ضرورت

تاہم دونوں ملکوں میں قوم پرستی اور علاقائی سیاسی صورتحال یہ تلخ یادہانی ہے کہ حقیقی صورتحال سنیما سکرین سے بہت مختلف ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ملکوں کے مابین دشمنی کا فائدہ دونوں ملکوں میں موجود انتہا پسند اٹھا رہے ہیں۔ بہت سے نوجوان بھارتی اور پاکستانی دونوں پڑوسیوں پر مخالفتیں ترک کرنے اور نئے سرے سے آغاز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ پاکستان کے نوجوان اور لبرل طبقے کے مطابق اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ماضی کی دشمنی کو بھلاتے ہوئے موجودہ حالات پر توجہ مرکوز کی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اپنے مذہبی تشخص سے چھٹکارا حاصل کرتے ہوئے بھارت اور خطے کے دیگر ملکوں سے اچھے تعلقات قائم کرنے چاہییں۔

اسلام آباد میں رہنے والے دستاویزی فلم ساز وجاہت ملک کے خیال میں پاکستان اور بھارت کو قریب لانے کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان مکالمت ہو، ’’لوگوں کے لوگوں کے ساتھ رابطے، تجارت اور سیاحت دونوں ملکوں کو قریب لا سکتے ہیں۔ اگر لوگ قریب آتے ہیں تو رباستیں بھی ان کی پیروی کریں گے۔‘‘

حقیقی مسائل

تاہم بھارتی مصنف تصنیف حیدر پاکستان اور بھارت کے مابین ثقافتی سطح پر ہونے والی امن اور ہم آہنگی کی کوششوں کے بارے میں بہت زیادہ پر امید نہیں ہیں، ’’اس میں کوئی شک نہیں کی دونوں ملکوں کی نوجوان نسل تعلقات میں بہتری چاہتی ہے لیکن اس کے امکانات بہت ہی کم ہیں۔ مذہب اور قوم پرستی کو ہماری سیاست میں ملا دیا گیا ہے، جو کہ سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔‘‘

پاکستانی صحافی عبدل آغا کے مطابق فلمیں پاکستان اور بھارت کے مابین آنے والی تبدیلیوں کی عکاسی تو کرتی ہیں لیکن یہ مکمل تصویر کشی نہیں کرتیں۔ ان کے ذریعے حقیقی دنیا میں پائی جانے والی رکاوٹوں کو عبور کرنا بہت مشکل ہے۔