1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کیا عمران خان کے بیان کو غلط رنگ دیا گیا؟

عمران خان نے ایک تازہ بیان سے پاکستان کے سیاسی درجہ حرارت کو بڑھانے کی کوشش کی۔ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں انتخابی مہم کے دوران ایک جلسے میں کہا کہ اگر ترکی میں نواز شریف ہوتے تو وہاں مارشل لاء کامیاب ہوجاتا۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے باغ میں خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ جب مشرف اقتدار میں آئے تو کتنے لوگ باہر نکلے۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگ جمہوری وزیرِ اعظم کو بچاتے ہیں اور جمہوریت کو سب سے بڑا خطرہ نواز شریف کی بادشاہت سے ہے۔ اتوار کو عمران خان نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر پاکستان میں فوج آئی ، تولوگ خوشیاں منائیں گے۔

ان کے اس بیان نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچادی تھی اور ان کے مخالفین کے علاوہ کئی ان کے سابق دوستوں کو بھی یہ بیان پسند نہیں آیا تھا۔ آج کے جلسے میں عمران خان نے جمہوریت کی تعریف کرتے ہوئےکہا اگر جمہوریت کو کوئی خطرہ ہوا تو وہ اتنا بڑا مظاہرہ کریں گے جو پہلے کبھی نہیں ہوا ہوگا۔ سابق کرکڑ نے جمہوریت کو بہترین نظام بھی قرار دیا۔

Pakistan Sitzung in Islamabad

نواز شریف اپنے سیاسی حلیفوں کی ایک میٹنگ میں


عمران کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے وفاقی اردو یونیورسٹی کے سابق پروفیسر ڈاکڑ توصیف احمد نے کہا، ''عمران خان برطانیہ میں رہے ہیں اورانہوں نے تعلیم بھی وہیں حاصل کی ہے لیکن انہوں نے نہ جمہوریت کے ارتقاء کو سمجھا اور نہ اس کی اہمیت کو، عمران خان کی یہ غلط فہمی ہے کہ فوج کرپشن کو ختم کرنے کے لئے اقتدار میں آتی ہے، آرمی کے اپنے مقاصد ہوتے ہیں اقتدار میں آنے کے لئے اور طاقت حاصل کرنے کے بعد وہ ان مقاصد کو حاصل کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔‘‘
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عالمی برادری اس وقت پاکستان میں آمریت کو قبول نہیں کرے گی۔ ڈاکٹر توصیف کے مطابق، ’’ ترکی میں فوجی انقلاب کی ناکامی اس بات کی غماز ہے کہ نہ ہی لوگ آمریت چاہتے ہیں اور نہ ہی بین الاقوامی برادری اسے قبول کرے گی۔ امریکہ نے پہلے ہی اپنے اداروں کے ذریعے پاکستان پر دباو ڈالا ہوا ہے اور اگر ایسے میں جمہوریت کو چھیڑا گیا تو ملک کے لئے اور مسائل کھڑے ہوجائیں گے۔ ‘‘
علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے سابق پروفیسر ڈاکڑ امان میمن نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ کئی ناقدین کا خیال ہے کہ عمران کا طرزِ سیاست انتہائی طفلانہ ہے اور ان کے بیانات میں سیاسی پختگی نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں ’’کئی لوگ اُن سے اب مایوس ہیں، ان کے چاہنے والوں کو یہ سن کر بھی حیرت ہوئی ہوگی کہ وہ جنرل حمید گل کے ساتھ عبدالستار ایدھی کو دھمکی دینے کے لئے گئے تھے۔ ایدھی نے خود اپنے انٹرویو میں اس بات کا اعتراف کیا۔ ‘‘

Oppositionsdemonstration in Pakistan

نواز حکومت کے خلاف اپوزیشن کا ایک جلسہ


عمران خان پر کی جانے والی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے پی ٹی آئی کی مرکزی نائب صدر ناز بلوچ نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’ہم ایک جمہوریت پسند جماعت ہیں اور مارشل لاء کی حمایت نہیں کرتے، فوج کے اچھے کاموں کی حمایت کرتے ہیں جیساکہ کراچی آپریشن اور ضربِ عضب جس سے ملک میں امن قائم ہوا۔‘‘ خاتون سیاستدان کے مطابق خان صاحب نے واضح کیا ہے کہ اگر جمہوریت کے خلاف کوئی کام ہوا توہم اس کی بھر پور مزاحمت کریں گے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عمران کے بیان کو سیاق وسباق سے ہٹ کا بیان کیا جارہا ہے۔''پارٹی چیئرمین نے مارشل لا کی حمایت نہیں کی بلکہ وہ بتا رہے تھے کہ طیب اردوآن کی حمایت میں لوگ اس لئے نکلے کہ وہ ایک صاف و شفاف انتخابات کے نتیجے میں اقتدار میں آئے ہیں، طیب اردوآن نے جمہوریت کو مضبوط کیا، تعلیم پر پیسہ خرچ کیا، صحت کے نظام کو بہتر بنایا، معیشت کو اپنے پیروں پر کھڑا کیا اور ملک کو ترقی کے راستے پر گامزن کیا۔‘‘ پی ٹی آئی کی نائب صدر اپنے پارٹی چیرمین کے بیان کی وضاحت میں کہا،’’ نواز شریف نے عوام کی خدمت نہیں کی، اسی لئے خان صاحب نے کہا کہ اگر پاکستان میں فوج آئی تو لوگ اس پر خوش ہوں گے اور یہ صرف دو حکومتوں کا موازنہ ہے ناکہ قطعی مقصد آمریت کی حمایت کرنا۔‘‘