1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کیا طالبان کابل حکومت سے مذاکرات کرنے پر تیار ہو گئے؟

پاکستانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ افغان طالبان نے کابل انتظامیہ سے براہ راست بات چیت کرنے کی حامی بھر لی ہے۔ اطلاعات کے مطابق طالبان نے پاکستانی حکام سے ملا عبدالغنی برادر کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے ذرائع کے مطابق افغان طالبان نے پاکستانی حکام سے ملاقات کرتے ہوئے ان کے سامنے اپنے مطالبات پیش کیے ہیں۔ پاکستانی وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار کا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا تھا،’’ان مطالبات میں سر فہرست جو مطالبہ ہے، وہ ہے ملا عبدالغنی برادر کی رہائی کا ہے، جو کئی برسوں سے پاکستانی حکام کی تحویل میں ہیں۔ ملا عبدالغنی برادر طالبان کے نائب امیر تھے اور ملا محمد عمر کے بہت قریب سمجھے جاتے تھے۔ پاکستان نے اس حوالے سے کوئی حتمی جواب نہیں دیا ہے اور ابھی طالبان کے مطالبات پر غور کیا جائے گا۔‘‘

اطلاعات کے مطابق افغان طالبان کا ایک تین رکنی وفد کچھ دنوں سے پاکستان میں تھا۔ اس وفد میں مولوی شہاب الدین دلاور اور جان محمد مدنی شامل تھے۔ مولوی شہاب الدین دلاور پاکستان اور سعودی عرب میں اور جان محمد متحدہ امارات میں طالبان کے دور میں سفیر رہے چکے ہیں۔ پاکستانی انگریزی اخبار ایکسپریس ٹریبون کے مطابق ایک ملاقات میں پاکستانی حکام کے ساتھ چینی حکام نے بھی شامل تھے۔ تاہم افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ براہ راست مذاکرات کی خبروں میں کو ئی سچ نہیں ہے،’’ان باتوں میں کوئی صداقت نہیں کہ ہم نے مذاکرات کی حامی بھر لی ہے۔ ابھی وفد واپس آئے گا اور صلاح و مشورے کیے جائیں گے۔‘‘

Taliban-Sprecher Sabiullah Mudschahid

تاہم افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ براہ راست مذاکرات کی خبروں میں کو ئی سچ نہیں ہے


طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ گزشتہ برس جولائی میں شروع ہوا تھا، لیکن ابھی مذاکرات کا ایک ہی دور ہوا تھا کہ ملا عمر کی ہلاکت کی خبر نے ان مذاکرات کا راستہ بند کر دیا۔ افغانستان میں ایک بار پھر پرتشدد کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے اور طالبان کے حملوں میں بھی شدت آئی ہے۔ گزشتہ مہینے طالبان نے کابل پر ایک بڑا حملہ کیا تھا، جس کے بعد اشرف غنی نے اسلام آباد پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اب پاکستان سے مذاکرات کی درخواست نہیں کریں گے۔
پاکستان کے ایک سیکورٹی عہدیدار نے نام نہ بتانے کی شرط پر ڈوئچے ویلے کو بتایا،’’طالبان پر یہ بات واضح کر دی گئی ہے کہ مذاکرات ہی اس مسئلے کا حل ہیں اور مذاکرات کا راستہ بحال کر نے کے لیے تشدد میں کمی لانا پڑے گی۔ پاکستان، چین اور خطے کے سب ممالک کا اس میں مفاد ہے کہ افغانستان میں امن ہو لیکن اس کے لے مرکزی اسٹیک ہولڈرز کو آگے آنا ہوگا۔‘‘
حال ہی میں افغان حکومت نے طالبان کے خلاف سخت اقدامات اٹھانے کا عندیہ دیا تھا اور ان اقدامات میں ایک ممکنہ قدم یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان طالبان قیدیوں کو سزائے موت دی جائے، جن کے خلاف عدالتیں پہلے ہی فیصلے دے چکی ہیں۔

موجودہ صورتِ حال پر تبصرہ کرتے ہوئے دفاعی تجزیہ نگار جنرل ریٹائرڈ طلعت مسعود نے کہا، ’’طالبان کا خیال ہے کہ وہ جتنی زیادہ جارحانہ عسکری پالیسی اپنائیں گے اُتنی ہی رعایتیں وہ حاصل کریں گے لیکن اس پالیسی سے پاکستان پر دباؤ اور بڑھ جائے گا۔ ایف 16 طیاروں کی سپلائی رک جانے سے ملک پہلے ہی مشکلات کا شکار ہے۔ پڑوسی ممالک بھی ہم سے نہ خوش نظر آتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں مذاکرات کا راستہ ہموار کیا جانا چاہیے۔‘‘